بلاسود بینکاری کے بنیادی اصول

جنگ16جون 1978ء
جب سود کی حرمت کی بات چلتی ہے تو ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آجکل کا روباری زندگی کا سارا نظام بینکوں کے ذریعے چل رہا ہے اور بینکوں کا سارا کاروبار سود پر مشتمل ہے لہذا اگر سود کو خلاف قانون قراردیا جائے تو بینک کس طرح چل سکیں گے؟ اس سوال کا مفصل جواب تو درحقیقت ایک پوری کتاب کی وسعت چاہتا ہے اور اردو، عربی اور انگریزی میں اس موضوع پر بہت سی کتابیں آبھی چکی ہیں اور ہمارے ملک میں ماہرین معاشیات اور بینکرز کی ایک جماعت بلاسود بینکاری کا تفصیلی نقشہ مرتب کرنے کے لئے کام بھی کررہی ہے ۔ لیکن یہاں انتہائی اختصار کے ساتھ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ بلاسود بینکاری کا ڈھانچہ کن بنیادوں پر استوار ہوسکتا ہے اور اس کے اساسی اصول کیا ہوں گے؟
حالات ِ موجودہ بینکوں کے کاروبار کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اپنے کھاتہ داروں سے رقمیں جمع کے کرکے تاجر وں ، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کو سود پر قرض دیتے ہیں ۔ اسلامی نظام معیشت میں بنکروں کا یہ کاروبار سود کے بجائے “شرکت ” اور “مضاربت”PROFIT SHARING) کے اصول پر چلےگا۔ اس کی مختصر تشریح حسب ذیل ہے ۔
عوام کی طرف سے جو رقمیں بنک میں جمع ہوں گی وہ دوقسموں پر مشتمل ہوں گی، ایک عند الطلب کھا تے (CURRENT ACCOUNT) کی رقوم دوسرے مدّمضاربت (FIXED DEPOSIT)کی سیونگ اکاؤنٹ غیرسودی بینکاری میں عند الطلب کے اندرشامل ہوجائے گا۔
عند الطلب کھاتے میں تمام رقوم بینک کے پاس فقہی نقطئہ نظر سے قرض ہوں گی ، کھاتہ دارہروقت بذریعہ چیک ان کی واپسی کا مطالبہ کرسکے گا، لیکن اس کھاتے پر کوئی منافع کھاتہ دار کو نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ نظام بنکاری میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ پر عام طور سے کھاتہ دارکو کوئی نفع نہیں دیا جاتا۔ البتہ مضاربت کے کھاتہ دار ایک معین مدت کے لئے جو تین ماہ سے ایک سال تک ہوسکتی ہے ، رقم رکھوائینگے اور پھر اس رقم سے بنک جو منافع حاصل کرے گا اس میں متناسب (PROPORTIONATE)طورپر شریک ہوں گے ۔ عند الطلب اور مضاربت کھاتے کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقوم میں سے ایک حصہ بنک تو مدمحفوظ (RESERVE)کے طورپر رکھ کر باقی سرمایہ کاروباری افراد کو شرکت یا مضاربت کے اصول پر دے گا یعنی ان سے یہ طے کرے گا کہ وہ بنک کی دی ہوئی رقم سے جو نفع حاصل کریں گے اس کا کچھ فی صد حصہ بنک کو دیں گے ۔ چنانچہ یہ کاروباری افراداس سرمائے کو صنعت یا تجارت میں لگا کر جو نفع حاصل کریں گے بینک اس نفع میں شریک ہوگا ، اور نفع کا جو تناسب بھی باہمی رضامندی سے طے پاجائے ، مثلاً دس فیصد یاپندرہ فیصد ، نفع کا اتنا حصہ بنک کو اصل رقم کے ساتھ واپس کریں گے ۔ اور بینک یہ منافع اپنے حصہ داروں (SHARES)اور کھاتہ داروں (DEPOSITORS)کے درمیان طے شدہ فیصد حصوں کی صورت میں تقسیم کریں گے۔
یہ طریقِ کار منصفانہ تقسیم دولت میں بہت معاون ثابت ہوسکتا ہے ، کیونکہ بحالات موجودہ جب کوئی سرمایہ داربینک سے قرض لے گر لاکھوں کا کاروبارکرتا ہے تو اس کاروبار کا بیشتر نفع سرمایہ داری کے پاس مرکز ہوکر رہ جاتا ہے ۔ بنک کو جوسود ملتا ہے وہ سرمایہ دار کے مجموعی منافع کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے لیکن مذکورہ صورت میں بینک چونکہ کاروبار میں براہِ راست شریک ہوگا ، اس لئے کاروبار کے منافع کا کوئی حصہ بینک میں آئیگا اسی طر ح موجودہ نظام میں کھاتہ داروں کو سُود کی جو رقم ملتی ہے وہ اس منافع کے مقابلے میں بہت معمولی ہوتی ہے جو سرمایہ دارنے ان کی رقموں سے حاصل کیا۔ اس کے برعکس مذکورہ صورت میں کھاتہ داربراہ راست کاروبار میں شریک ہونے کی بناء پر زیادہ مقدار میں نفع کے مستحق ہوں گے ، اور اس طرح دولت چند ہاتھ میں سمٹنے کے بجائے زیادہ وسیع دائرے میں گردش کرے گی۔
البتہ بلاسود بینکاری مین جو عملی پیچیدگی عام طورسے بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں کھاتہ داروں یا بینک کو نفع کی سوفیصد ضمانت نہیں ہوسکتی بلکہ جن کاروباری افراد نے قرض لیا ہے اگر ان کو خسارہ ہوجائے تو بنک اور کھاتہ داروں کو نفع کے ساتھ خسارہ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن حقیقتاً یہ کوئی ایسی پیچیدگی نہیں ہے جسے بنکاری کے ماہرین حل نہ کرسکیں اور جس کی وجہ سے بلاسود بینکاری کے پورے نظام ہی کوناقابل عمل قرار دے دیا جائے۔ اول تو آجکل بڑے پیمانے کی تجارتوں میں نفع کے امکانات زیادہ اور نقصان کا احتمال بہت کم ہوتا ہے ، اور بینک جب کسی کاروباری فریق سے معاملہ کرے گا تو وہ اس کے مالی حالات اس کے استحکام ، دیانت اور کارکردگی کا اچھی طرح اطمینان کرکے ہی اس کو رقم دے گا،آجکل بھی بینک کسی کو قرض دیتے وقت اس کی معاشی پوزیشن کا جائزہ لیتا ہے اُس وقت اسے نسبتاً زیادہ اہتمام اور دقتِ نظر سے جائزہ لینا ہوگا جس کے تفصیلی طریقے ماہرین طے کرسکتے ہیں ۔ البتہ اگر وہ واقعتاً کسی کاروباری حادثے کی بناء پر کوئی نقصان ہوہی جائے تو اس کے لئے تمام بینک مل کر ایک ایساامدادِ باہمی فنڈ(MUTUAL FUND)قائم کرسکتے ہیں جو سود اور قمار سے خالی ہو، اور جس کے ذریعے حتی الامکان بینک اور کھاتہ داروں کے نقصان کی تلافی کی جاسکے۔ اس باہمی فنڈ کی تفصیلات بھی فنی ماہرین طے کرسکتے ہیں۔
پھر بنکاری کے موجودوہ نظام میں بینک کے سارے کام سود پر مشتمل نہیں ہوتے بلکہ وہ بہت سے خدمات پر جائزاجرت بھی وصول کرتا ہے ، مثلاً مقفل صندوقوں (LOCKERS)کا کرایہ ،سفری چیک کا اجراء ،بینک ڈرافٹ اور لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنا ، تجارتی اموال کو بلٹی کے ذریعے منگوانا ، بیع وشراء کی دلاّلی کرنا وغیرہ یہ سارے کام بلاسود بینکاری میں بدستور اجرت کی بنیاد پر جاری رہیں گے ۔
یہ ہیں نہایت اجمالی طورپر بلاسود بینکاری کی بنیادیں، یہ بات تو ظاہر ہے کہ اب تک چونکہ اس قسم کی بینکاری کا کوئی موثر عملی تجربہ نہیں ہوا اس لئے اس کی عملی تفصیلات اور اس کے تمام جزوی پہلوؤں پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں بینکاری کے ماہرین اور علمائے دین کا باہمی تعاون درکار ہے ، اور اس کے باوجود جزوی طور پر اس نظام کو مختلف تجربات سے گزرنا پڑے گا لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ موجودہ نظام بینکاری ایک دن میں بنکر کھڑا نہیں ہوگیا بلکہ صدیوں کے تجربات اور ردوبدل کے بعدو ہ موجودہ مقام تک پہنچاہے ۔ اس لئے محض اس بناء پر اسے ناقابل عمل قراردینا کسی طرح درست نہیں کہ اب تک اس کا کوئی عملی تجربہ نہیں ہوسکا۔ محض مشکلات کا ہوّا ذہن پر سوار کرلینے سے کسی انقلابی اصلاح کی توقع نہیں کی جاسکتی اگر ہمیں ایک آزاد مسلمان قوم کی طرح جینا ہے تو ہمت کرکے یہ قدم اٹھانا ہی پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین