اسمائے حسنیٰ میں سے کون سے اسماء بندوں کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں؟

سوال:- آج کل عموماً باری تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ساتھ ’’عبد‘‘ کے اضافے کے ساتھ نام رکھے جاتے ہیں، مگر عموماً غفلت کی وجہ سے مسمّیٰ کو بدون ’’عبد‘‘ کے پکارا جاتا ہے، حالانکہ بعض اسمائ، باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، مثلاً عبدالرزّاق وغیرہ، اندریں احوال اپنی جستجو کے مطابق فیض الباری ج:۴ ص:۴۲۳ سے اسمائے حسنیٰ درج کر رہا ہوں، تحقیق فرمائیں کہ کون سے اسمائ، باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں، کہ ان کو بدون ’’عبد‘‘ کے مخلوق کے لئے استعمال کرنا گناہِ کبیرہ ہے، اگر ان کے علاوہ اور کوئی اسماء ہوں تو وہ بھی درج فرمائیں مع تحقیق کے، نیز اسماء کے شروع یا آخر میں ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ یا ’’اللہ‘‘ کا اضافہ کیسا ہے؟ مثلاً محمد متکبر، خالق احمد، محمداللہ، احمد رزّاق۔
اﷲ، الرحمٰن، الرحیم، الملک، القدّوس، السّلام، المؤمن، المھیمن، العزیز، الجبّار، المتکبّر، الخالق، الباریٔ، المصوّر، الغفّار، القھّار، التّوّاب، الوھّاب، الخـلّاق، الرزّاق، الفتّاح، الحلیم، العلیم، العظیم، الواسع، الحکیم، الحیّ، القیّوم، السمیع، البصیر، اللّطیف، الخبیر، العلیّ، الکبیر، المحیط، القدیر، المولٰی، النصیر، الکریم، الرقیب، القریب، المجیب، الحفیظ، المقیت، الودود، المجید، الوارث، الشھید، الولیّ، الحمید، الحقّ، المبین، الغنیّ، المالک، القویّ، المتین، الشدید، القادر، المقتدر، القاھر، الکافی، الشاکر، المستعان، الفاطر، البدیع، الفاخر، الأوّل، الاٰخر، الظاھر، الباطن، الکفیل، الغالب، الحکم، العالم، الرفیع، الحافظ، المنتقم، القائم، المحیی، الجامع، الملیک، المتعالی، النور، الھادی، الغفور، الشکور، العفوّ، الرئوف، الاکرام، الأعلٰی، البر، الخفیّ، الرَّبّ، الالٰہ، الأحد، الصّمد، الذی لم یلد، ولم یولد، ولم یکن لہ کفوا أحد۔
جواب:- کسی کتاب میں یہ تفصیل تو نظر سے نہیں گزری کہ کون کون سے اسمائے حسنیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہیں، اور کون سے اسماء کا اطلاق دُوسروں پر ہوسکتا ہے، لیکن مندرجہ ذیل عبارتوں سے اس کا ایک اُصول معلوم ہوتا ہے:-
تفسیر رُوح المعانی میں علامہ آلوسیؒ لکھتے ہیں: ’’وذکر غیر واحد من العلماء أن ھٰذہ الأسماء ۔۔۔۔ تنقسم قسمۃ أخری الی ما لا یجوز اطلاقہ علی غیرہ سبحانہ وتعالٰی کاﷲ والرحمٰن، وما یجوز کالرحیم، والکریم۔‘‘ (رُوح المعانی ج:۹ ص:۱۲۳ طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)
اور در مختار میں ہے: ’’وجاز التسمیۃ بعلیّ ورشید من الأسماء المشترکۃ، ویراد فی حقنا غیر ما یراد فی حق اﷲ تعالٰی۔ وفی رد المحتار: الذی فی التاترخانیۃ عن السراجیۃ التسمیۃ باسم یوجد فی کتاب اﷲ تعالٰی کالعلیّ والکبیر والرشید والبدیع جائزۃ ۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (شامی ج:۵ ص:۲۶۸)۔(۱)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: التسمیۃ باسم لم یذکرہ اﷲ تعالٰی فی عبادہ ولا ذکرہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ولا استعملہ المسلمون تکلموا فیہ، والأولٰی أن لا یفعل کذا فی المحیط۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ص:۳۶۲ حظر و اباحت باب ۲۲)۔(۲)
اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:-
اسمائے حسنیٰ میں بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دُوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ تو جن ناموں کا استعمال غیراللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم، رشید، علی، کریم، عزیز وغیرہ۔ اور اسمائے حسنیٰ میں سے وہ نام جن کا غیراللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں، ان کو غیراللہ کے لئے استعمال کرنا اِلحادِ مذکور میں داخل اور ناجائز و حرام ہے۔
(معارف القرآن ج:۴ ص:۱۳۲ سورۂ اعراف:۱۸۰)
ان عبارتوں سے اس بارے میں یہ اُصول مستنبط ہوتے ہیں:-
نمبر۱:- وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کے اسمِ ذات ہوں یا صرف باری تعالیٰ کی صفاتِ مخصوصہ کے معنی ہی میں استعمال ہوتے ہوں، ان کا استعمال غیراللہ کے لئے کسی حال جائز نہیں، مثلاً: اﷲ، الرحمٰن، القدوس، الجبّار، المتکبّر، الخالق، الباریٔ، المصوّر، الرزّاق، الغفّار، القھّار، التّوّاب، الوھّاب، الخـلّاق، الفتّاح، القیّوم، الرَّبّ، المحیط، الملیک، الغفور، الأحد، الصّمد، الحق، القادر المحیی۔
۲:- وہ اسمائے حسنیٰ جو باری تعالیٰ کی صفاتِ خاصہ کے علاوہ دُوسرے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہوں اور دُوسرے معنی کے لحاظ سے ان کا اطلاق غیراللہ پر کیا جاسکتا ہو، ان میں تفصیل یہ ہے کہ اگر قرآن و حدیث، تعاملِ اُمت یا عرفِ عام میں ان اسماء سے غیراللہ کا نام رکھنا ثابت ہو تو ایسا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں، مثلاً: عزیز، علی، کریم، رحیم، عظیم، رشید، کبیر، بدیع، کفیل، ہادی، واسع، حکیم وغیرہ، اور جن اسمائے حسنیٰ سے نام رکھنا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہو اور نہ مسلمانوں میں معمول رہا ہو، غیراللہ کو ایسے نام دینے سے پرہیز لازم ہے۔
۳:- مذکورہ دو اُصولوں سے یہ اُصول خودبخود نکل آیا کہ جن اسمائے حسنیٰ کے بارے میں یہ تحقیق نہ ہو کہ قرآن و حدیث، تعاملِ اُمت یا عرف میں وہ غیراللہ کے لئے استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟ ایسے نام رکھنے سے بھی پرہیز لازم ہے، کیونکہ اسمائے حسنیٰ میں اصل یہ ہے کہ ان سے غیراللہ کا نام رکھنا جائز نہ ہو، جواز کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔
ان اُصولوں پر تمام اسمائے حسنیٰ کے بارے میں عمل کیا جائے، تاہم یہ جواب چونکہ قواعد سے لکھا ہے اور ہر ہر نام کے بارے میں اسلام کی کوئی تصریح احقر کو نہیں ملی، اس لئے اگر اس میں دُوسرے اہلِ علم سے بھی استصواب کرلیا جائے تو بہتر ہے۔ واﷲ سبحانہ اعلم
۲۷؍۶؍۱۳۹۷ھ
(فتویٰ نمبر ۶۶۴/۲۸ ب)