اسلام اور رياست

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على نبيه الكريم وعلى آله وأصحابه أجمعين وعلى كل من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين
أمابعد

غير منقسم ہندوستان ميں قائد اعظم كى قيادت ميں قيام پاكستان كى جو تحريك چلى ، اُس كى بنياد مسلم قوميت كے نظريے پر تھى، انگريزوں اور ہندوؤں كے مقابلے ميں جو تمام ہندوستانيوں كوايك قوم قرار ديكر اكھنڈ بھارت كے حق ميں تھے ، قائد اعظم نے پورے زوروشور اور دلائل كى روشنى ميں يہ نعرہ لگايا كہ ہندوستان ميں دو قوميں بستى ہيں ، ايك مسلم اور دوسرى غير مسلم۔ مسلمان رہنماؤں ،اہل فكر اور علماء كرام نے اسكى بھر پور تائيد كى ، اور ميرے بچپن ميں “پاكستان كا مطلب كيا؟ لا الہ الا اللہ ” كى جو صدائيں گونجتى تھيں ، انكى دلكش ياد آج بھى كانوں ميں محفوظ ہے ۔آخر كار مسلم اكثريت نے قائد اعظم كى اس پكار پر لبيك كہا، اور ناقابل فراموش قربانيوں كے بعد ہماليہ كے دامن ميں ارض پاك ايك حقيقت بنكر ابھرى ۔ نظريۂ پاكستان كى بنياد تو واضح تھى۔ليكن ايك چھوٹا سا حلقہ پاكستان بننے كے بعد اُسكى فكرى بنياد سے محروم كركے اسكے سيكولر رياست ہونے كا نظريہ ظاہر كرتا رہا ، يہاں تك كہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے دستور پاكستان كے لئے وہ قرار داد مقاصد باتفاق منظور كى جس نے ملك كا رخ واضح طورپر متعين كرديا كہ حاكميت اعلىٰ اللہ تعالىٰ كى ہے ، اور عوام كے منتخب نمائندے اپنے اختيارات قرآن وسنت كى حدود ميں رہكر استعمال كرسكينگے، اور یہ قرارداد 1954 ، 1956، 1962 اور 1973 كے تمام دستورى مسودوں كا الفاظ كے معمولى اختلاف كے ساتھ لازمى جزء بنى رہى ، اور آج بھى وہ ہمارے دستور كى وہ دستاويز ہے جس پر ہم فخر كرسكتے ہيں ۔چوتھائى صدى تك بنتى ٹوٹتى اسمبليوں ميں بھى اورباہر بھى اس پر كھلے دل سے بحث ومباحثہ بھى ہوا ، اور بالآخر اس پر پورے ملك كا اتفاق ہوگيا ۔ پھر اسكى بنيادپر دستور كى تشكيل كا مرحلہ آيا تو يہ دفعہ بھى تمام مسودات دستور ميں كسى قابل ذكر اختلاف كے بغير موجود رہى كہ پاكستان ميں كوئى قانون قرآن وسنت كے خلاف نہيں بنايا جاسكے گا ، اور موجودہ قوانين كو بھى انكے سانچے ميں ڈھالا جائے گا۔سن 1973 كا دستور جو آج بھى نافذ ہے ، اُس وقت كے تمام سياسى اور دينى حلقوں كے اتفاق سے منظور ہوا ، اور اُس پر بفضلہ تعالىٰ آج بھى تمام سياسى پارٹياں متفق ہيں ، اور اسكا مكمل تحفظ چاہتى ہيں جسكا مظاہرہ اور اسكى مزيد تاكيد حال ہى ميں حزب اقتدار اور حزب اختلاف كے تاريخى اتفاق سے دوبارہ ہوگئى ہے ، اعلىٰ عدالتوں نے بھى اُسے دستور كى بنيادى روح كا لازمى حصہ قرار ديا ہے ۔
اب كچھ عرصے سے كچھ آوازيں پھر گونجنے لگى ہيں كہ ملك كو اس دہشت گردى سے پاك كرنے كے لئے اُسے سيكولر بنانا چاہئے ،يعنى نصف صدى سے زائد جو فكرى ، سياسى اور عملى جدو جہد ملك كا صحيح رخ متعين كرنے كے لئے ہوئى ہے ، اسكى بساط لپيٹ كر پھر الف با سے آغاز كرنا چاہئے ۔ ايك ايسے موقع پر جب ملك كے تمام طبقات دہشت گردى كے عفريت كو مل كر شكست دينے كے لئے كمر بستہ ہيں ، ملك كى بنياد، اسكے قيام كے نظريے اور اسكے متفقہ رخ كو تبديل كرنے كى كوشش اس فضا ميں جو پنڈورا بكس كھول سكتى ہے ، اور اس سے جو انتشار جنم لے سكتا ہے ، اسكے تصور ہى سے رونگٹے كھڑے ہوتے ہيں ۔
اسى فضا ميں سيكولرزمکے حامی حضرات جو كچھ فرمارہے ہيں ، اُس کی بازگشت مذہب كے نام پر ايك ” مذہبى بيانيہ ” كے عنوان سے جناب جاويد احمد غامدى صاحب كى طرف سے سامنے آئى ہے جو روزنامہ جنگ كے22 جنورى كے شمارے ميں “اسلام اور رياست، ايك جوابى بيانيہ” كے عنوان سے شائع ہوئى ہےجس ميں انہوں نے “سيكولرازم كى تبليغ” كے بجائے اپنے افكار كو ” مذہبى بيانيہ ” قرار ديا ہے ۔اس “بيانيہ” كا مقصد انہوں نے شروع ہى ميں يہ بيان فرمايا ہے كہ “سيكولرازم كى تبليغ نہيں ، بلكہ مذہبى فكر كا ايك جوابى بيانيہ ہى صورت حال كى اصلاح كرسكتا ہے ۔”اس جوابى بيانيے (Counter narrative) كے جو نكات انہوں نے بيان فرمائے ہيں ، انكو بار بار پڑھنے كے باوجود مجھے شايد اپنى كم فہمى كى وجہ سے وہ ايك عجوبے سے كم نہيں لگتے ، اور انكے باہمى تضادات سےمجھے بہت سى تاويلات كے باوجود چھٹكارا نہيں مل سكا۔ اس مضمون میں یوں تو بہت سی باتیں قابلِ تبصرہ ہیں، لیکن ان تمام نكات پر تبصرہ بہت طول چاہتا ہے جس كا يہ مضمون متحمل نہيں ، ليكن ان ميں سے چندمتضاد نكات اور انكے مضمرات كى طرف توجہ دلانا ضرورى معلوم ہوتا ہے ، كيونكہ وہ نكات نہ صرف پاكستان كے قيام كے نظريے ہى كى نفى كرتے ہيں ، بلكہ ملك كو ايك ايسے ڈھيلے ڈھالے نظام اجتماعى كى طرف دعوت ديتے ہيں جنكے عملى اطلاق كى كوئى معقول صورت كم ازكم مجھ كم فہم كى سمجھ ميں نہيں آسكى ۔
سب سے پہلے نكتے ميں انہوں نے ارشاد فرمايا ہے كہ : “يہ خيال بالكل بے بنياد ہے كہ رياست كا بھى كوئى مذہب ہوتا ہے ، اور اسكو بھى كسى قرارداد مقاصد كے ذريعے سے مسلمان كرنے اور آئينى طورپر اس كا پابند بنانے كى ضرورت ہوتى ہے كہ اس ميں كوئى قانون قرآن وسنت كے خلاف نہيں بنايا جائے گا ۔”اسكا واضح مطلب يہ ہے كہ پاكستان كے آئين ميں جو قرارداد مقاصد درج ہے ، يا اس ميں جو پابندى عائد كى گئى ہے كہ كوئى قانون قرآن وسنت كے خلاف نہيں بنايا جائے گا ، يہ قطعى طورپر نہ صرف غير ضرورى، بلكہ بے بايود خيال پر مبنى ہے ۔قرارداد مقاصدكا بنيادى تصور اللہ تعالىٰ كى حاكميت اعلىٰ كا اقرار ہے ، اور اُسے غير ضرورى اور بے بنياد قرار دينے كا نتيجہ رياست كے لئے اس حاكميت اعلىٰ كے اقرار كو بے بنياد قرار دينے كے سواور كيا ہے؟
يہ بيانيہ وہ “سيكولر ازم كى تبليغ” كے مقابلے ميں يا اسكے متبادل كے طورپر پيش كررہے ہيں ، ليكن اول تو يہ بات سمجھ سے بالاتر ہے كہ “سيكولرازم كى تبليغ ” اور ” مذہبى بيانيہ” كے اس نكتے ميں كيا فرق ہوا؟سيكولرازم بھى يہى كہتا ہے كہ “رياست كا دين سے كو ئى تعلق نہيں، كيونكہ دين ايك خالص انفرادى معاملہ ہے ۔ وہ بھى يہى كہتا ہے كہ پارليمان پر كسى دين كى پابندى عائد نہيں كى جاسكتى ، لہٰذا قرار داد مقاصد كى كوئى ضرورت نہيں ۔اور يہى باتيں جناب غامدى صاحب كے اس نكتے ميں بھى ارشاد فرمائى گئى ہيں۔ كيا عنوان بدل دينے سے حقيقت ميں كوئى فرق آجاتا ہے ؟
پھر يہ عجيب بات ہے كہ اس كے بعد آگے خود جناب غامدى صاحب نكتہ نمبر 8 ميں فرماتے ہيں كہ قرآن كريم كے ارشاد أمرهم شورى بينهم کا تقاضا ہے کہ ملک میں ایک پارليمان قائم ہونى چاہئے، اور : “علما ہوں يارياست كى عدليہ، پارليمان سے كوئى بالاتر نہيں ہوسكتا ۔أمرهم شورى بينهمكا اصول ہر فرد اورادارے كوپابندكرتا ہے كہ پارليمان كے فيصلوں سے اختلاف كے باوجود عملاً اس كے سامنے سرتسليم خم كرديں ۔اسلام ميں حكومت قائم كرنے اور اسكو چلانے كا يہى ايك جائز طريقہ ہے، اس سے ہٹ كر جو حكومت قائم كى جائے گى ، وہ ايك ناجائز حكومت ہوگى۔”
ان دونوں باتوں كے مجموعے سے مطلب يہى نكلتا ہے كہ پارليمان وجود ميں تو قرآنى حكم أمرهم شورى بينهم كے تحت آئيگى، مگر اسكے بعد اسے اس بات كا پابند نہيں كيا جاسكتا كہ وہ قرآن وسنت كے خلاف كوئى قانون نہ بنائے ، البتہ ملك كے افراد اور ادارے اس بات كے پابند ہيں كہ وہ پارليمان كے ہر فيصلے پر سرتسليم خم كرديں۔يہاں پہلا سوال تويہ پيدا ہوتا ہے كہ اگر رياست كانہ كوئى مذہب ہوتا ہے ، اور نہ پارليمان كے فيصلوں كو قرآن وسنت كا پابند كيا جاسكتا ہے، تو “أمرهم شورى بينهم”كا قرآنى اصول اُس كے لئے كس بنيادپر لازم ہوگيا ؟ اور يہ بات كس بنياد پر كہى جارہى ہے كہ “اسلام ميں حكومت قائم كرنے اور اسكو چلانے كا يہى ايك جائز طريقہ ہے”جبكہ رياست كا اسلام سے كوئى تعلق ہى نہيں؟دوسرا سوال يہ ہے كہ اگر پارليمان مغربى ممالك كى طرح ہم جنس شاديوں كا قانون نافذ كردے ،تو كيا قرآن كريم كاباہمى مشاورت كا يہ اصول پھر بھى “ہر فرد اورادارے كوپابندكرتا ہے كہ پارليمان كے فيصلوں سے اختلاف كے باوجود عملاً اس كے سامنے سرتسليم خم كرديں؟”اگر نہيں تو كيوں ؟ جبكہ پارليمان پركوئى پابندى نہيں كہ وہ قرآن وسنت كے خلاف قانون سازى نہ كرے؟
پھر جناب غامدى صاحب نے آگے اپنے نكتہ نمبر 9ميں فرمايا ہے كہ :” دين كے ايجابى احكام ميں سے يہ صرف نماز اور زكوۃ ہے جس كا مطالبہ مسلمانوں كا كوئى نظم اجتماعى اگر چاہے تو قانون كى طاقت سے كرسكتا ہے ۔” “نظم اجتماعى” سے انكى مراد غالباً حكومت ہى ہے ،تو كيا اس كا مطلب يہ ہے كہ وہ نماز كو بزور قانون لازمى قرار ديكر بے نمازيوں پر سزا جارى كرے ؟ اگر يہ واقعى كوئى قرآن كريم كا حكم ہے كہ نماز كا مطالبہ قانون كى طاقت سے كيا جائے، جيساكہ جناب غامدى صاحب نے فرمايا ہے ، تو پھر “اگر چاہے ” كى جوشرط انہوں نے لگائى ہے، اس كا مطلب تو يہى ہے كہ اس قرآنی حکم پر عمل حكومت كى چاہت پر موقوف ہے ، لہٰذا اگر وہ نہ چاہے تو اس حکم پر عمل نہ كرے ۔ اس صورت ميں سورۂ احزاب كى اس آيت (نمبر 36 )كا كيا مطلب ہوگاجس ميں فرمايا گيا ہے كہ :” اور جب اللہ اور اسكا رسول كسى بات كا فيصلہ كرديں تو كسى مؤمن مرد ياعورت كيلئے يہ گنجائش نہيں ہے كہ انہيں اپنے معاملے ميں كوئى اختيار باقى رہے۔”
آگے معاشرتى احكام كے حوالے سے اپنے نكتہ نمبر 1 ميں جناب غامدى صاحب فرماتے ہيں : “حكومت انكى(عوام كى) رضامندى كے بغير زكوۃ كے علاوہ كوئى ٹيكسان پر عائد نہيں كرسكے گى، انكے شخصى معاملات ، يعنى نكاح، طلاق ، تقسيم وراثت، لين دين اور اس نوعيت كے دوسرے امور اگر ان ميں كوئى نزاع ہو تو اس كا فيصلہ اسلامى شريعت كے مطابق ہوگا۔ “
يہاں پھر كئى سوال پيدا ہوتے ہيں ۔ ايك يہ كہ جب رياست كا كوئى مذہب نہيں ، اور اُس پر قرآن وسنت يا شريعت كے مطابق قانون سازى كى كوئى پابندى نہيں ، تو عدليہ پر ان احكام ميں شريعت ہى كے مطابق فيصلے كرنے كى پابندى كس بنياد پر ہوگى ؟ اور اگر ان معاملات ميں پارليمان شريعت كے بجائےكسى اور قانون كى پابندى كا حكم دے تو اُس كے سامنے نكتہ نمبر 8 كے تحت سر تسليم كيوں خم نہ كيا جائے ؟
دوسرا سوال يہ ہے كہ يہ جو فرمايا گيا ہے كہ “انكى رضامندى كے بغير زكوۃ كے علاوہ كوئى ٹيكس عائد نہيں كريگى”ظاہر ہے كہ اس ميں عوام كى رضامندى سے مرادپارليمان كى مرضى ہے ، لہٰذا مذكورہ جملے كا مطلب يہ نكلتا ہے كہ كوئى اور ٹيكس عائد كرنے كے لئے تو پارليمان كى منظورى دركار ہے، ليكن زكوۃ حكومتى سطح پر عائد كرنے كے لئے پارليمان كى منظورى كى ضرورت نہيں ہے ۔ اگر يہى مقصود ہے، تو حكومت پارليمان كے كسى قانون كے بغير زكوۃ كس بنيادپر وصول كريگى، اور اسكى اس اتھارٹى كا سرچشمہ كيا ہوگا۔ اگر وہ سرچشمہ قرآن كريم ہے تو كہنا ہوگا كہ قرآن كريم پار ليمان پر بالا دستى ركھتا ہے ۔ پھر رياست كا كوئى مذہب نہ ہونے كا اصول كہاں گيا؟
آگے جناب غامدى صاحب نے فرمايا ہے : ” رياست كا كوئى مسلمان شہرى اگر زنا، چورى، قتل، فساد فى الأرض اور قذف كا ارتكاب كرے گا اور عدالت مطمئن ہوجائيگى كہ اپنے ذاتى، خاندانى، اور معاشرتى حالات كے لحاظ سے وہ كسى رعايت كا مستحق نہيں، تو اُس پر وہ سزائيں نافذ كى جائنگىا جو اللہ تعالىٰ نے اسلام كى دعوت كو پورےشعوراور شرح صدر كے ساتھ قبول كرلينے كے بعد ان جرائم كاارتكاب كرنے والوں كے لئے اپنى كتاب ميں مقرركردى ہيں ۔”
يہاں دو سوال پھر پيدا ہوتے ہيں ۔ ايك يہ كہ كيا ايسى صورت ميں پارليمان اور حكومت پر لازم ہے كہ وہ ايسے مسلمانوں پر يہ قرآنى سزائيں جارى كرے ؟ اگر قرآن كريم كے حكم كے تحت لازم ہے تو جب پارليمان پر قرآن وسنت كے خلاف قانون سازى كى كوئى پابندى نہيں ہے، تو اُس پر يہ پابندى كيسے لازم ہوگى كہ وہ قرآنى سزائيں ہى جارى كرے ، اور ان معاملات ميں اپنى طرف سے كوئى اور سزا تجويز نہ كرے ، يا ان ميں سے كسى جرم ( مثلاً زنا بالرضا) كو جائز قرار نہ دے؟ دوسرا سوال يہ ہے كہ اگريہ سزائيں قرآن كريم ہى كى بنياد پردى جائنگىث تو كيا قرآن كريم ميں كوئى ايسى تفريق ہے كہ يہ سزائيں صرف ان مسلمانوں كے لئے ہيں جو شعور كے ساتھ اسلام كى دعوت كو قبول كريں، اور غير مسلم چوروں، قاتلوں اورفساد فى الأرض پھيلانے والوں كو ان سے مستثنىٰ ركھا جائے، جيسا كہ جناب غامدى صاحب نے فرمايا ہے كہ يہ سزائيں صرف مسلمانوں ہى كے لئے ہونگى؟
جناب غامدى صاحب نے اپنے اس “بيانيے” ميں يہ بھى فرمايا ہے كہ : “اسلام ميں قوميت كى بنياد اسلام نہيں ہے جس طرح كہ عام طورپر سمجھا جاتا ہے ۔قرآن وحديث ميں كسى جگہ نہيں كہا گيا كہ مسلمان ايك قوم ہيں ، يا انہيں ايك ہى قوم ہونا چاہئے۔”يہ وہى دو قومى نظريہ كا مسئلہ ہے جسكى بنيادپر قائد اعظم نے پاكستان كے قيام كا مطالبہ كيا تھا ۔يہاں مؤدبانہ گذارش يہ ہے كہ مسئلہ يہ نہيں ہے كہ مسلمانوں پر لغت یا عرفِ عام کے مطابق لفظ “قوم ” كا اطلاق درست ہے يا نہيں ، مسئلہ يہ ہے كہ مستقل سياسى اور اجتماعى وحدت كے لحاظ سے تمام مسلمانوں كو (چاہے وہ كسى رنگ ونسل سے تعلق ركھتے ہوں )غير مسلموں سے الگ سمجھنا اور اس بناپر انكے لئے الگ خطۂ زمين كا مطالبہ كرنا درست ہے يا نہيں ؟ قائد اعظم نے پاكستان كا مطالبہ كرتے ہوے جو دو قومى نظريہ پيش كيا تھا ، اور جسكى بنيادپر آج ہم ايك الگ ملك كى حيثيت سے بيٹھے ہيں ، اُس كا مطلب يہى تھا۔اس دو قومى نظريے پر بھى يہ اعتراض كيا جاتا تھا كہ مسلمانوں كے لئے “قوم” كا لفظ استعمال كرنا لغت اور عرفِ عام كے اعتبار سے درست نہيں ہے ، ليكن انكا مقصد “مستقل سياسى وحدت” تھاجسكى بنيادپر اپنے اختيار سے كوئى حكومت قائم كى جائے۔
لغوى اعتبار سے تو تمام انبياء عليہم السلام كى مخاطب انكى قوميں ہى تھيں ، ليكن انہوں نے انكى بنيادپر كوئى مستقل سياسى وحدت قائم نہیں کی، اور اگر کوئی ریاست قائم ہوئی تو وہ وطن اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ اسلام کی بنیاد پر ہوئی، جیسے حضرت موسیٰ ، حضرت داود وسلیمان علیہم السلام کی حکومتیں اور خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی حکومت۔ البتہ اس میں غیر مسلموں کو تمام شہری اور مذہبی حقوق برابر حاصل تھے۔
جناب غامدى صاحب نے ايك اور بات اپنے نكتہ نمبر 2 ميں يہ ارشاد فرمائى ہے كہ :”نہ خلافت كوئى دينى اصطلاح ہے،اور نہ عالمى سطح پر اس كا قيام اسلام كا كوئى حكم ہے ۔”
قرآن كريم نے سورۂ بقرہ آيت نمبر 30 ميں حضرت آدم عليہ السلام كے تذكرے ميں ارشاد فرمايا ہے ” ميں زمين ميں ايك خليفہ بنانے والا ہوں “
اورسورۂ ص آيت نمبر 26 ميں حضرت داود عليہ السلام سے خطاب كرتے ہوے ارشاد فرمايا ہے كہ: ” ہم نے تمہيں زمين ميں خليفہ بنايا ہے “
نيز سورۂ نور آيت نمبر 55 ميں ارشاد فرمايا ہے : ” تم ميں سے جو لوگ ايمان لائے ہيں، اور جنہوں نے نيك عمل كئے ہيں ، اُن سے اللہ نے وعدہ كيا ہے كہ وہ انہيں ضرور زمين ميں خلافت عطا فرمائے گا ، جس طرح اُس نے پہلے لوگوں كو خلافت عطا فرمائى تھى ، اور اُن كے لئے اُس دين كو ضرور اقتدار بخشے گا جسے اُن كے لئے پسند كيا ہے ، اور انكو جو خوف لاحق رہاہے ، اُس كے بدلے اُنہيں ضرور امن عطا فرمائے گا۔ وہ ميرى عبادت كريں ، ميرے ساتھ كسى چيز كو شريك نہ ٹھہرائيں ۔”اس كے علاوہ متعدد احاديث ہيں جن ميں اسلامى رياست كے امير كو خليفہ كہا گيا ہے ، اور اسكى حكومت كو خلافت سے تعبير فرمايا گيا ہے ۔ قرآن و حدیث کے ان ارشادات کی بنا پر اسلامی لٹریچر اس اصطلاح سے بھرا ہوا ہے۔
فلسفۂ تاريخ كے عبقرى عالم ابن خلدون رحمۃ اللہ عليہ “خلافت ” كى تعريف كرتے ہوے فرماتے ہيں : “لوگوں كو شرعى طرزفكر كے مطابق چلانا جس سے انكى آخرت كى مصلحتيں بھى پورى ہوں اور وہ دنيوى مصلحتيں بھى جن كا نتيجہ آخركار آخرت ہى كى بہترى ہوتا ہے ۔”(مقدمہ ابن خلدون : باب 3 فصل 25 ص 189)
قرآن وحديث كے ان ارشادات اور چودہ سوسال سے اس اصطلاح كے معروف ومشہور بلكہ متواتر ہونے كے باوجود يہ فرمانا كہ خلافت كوئى دينى اصطلاح نہيں ہے ، اس پر تبصرے كيلئے ميرے پاس مناسب الفاظ نہيں ہيں ۔
جناب غامدى صاحب يہ فرماتے ہيں كہ انكا يہ “مذہبى بيانيہ” دہشت گردى كے موجودہ مسائل كى اصلاح كر سكتا ہے جسكا مطلب يہ ہے كہ دستور پاكستان كو تلپٹ كركے ان متضاد نكات كى بنيادپر نئے سرے سے دستور بنايا جائے تو دہشت گرد اپنى دہشت گردى سے باز آجائنگےیا ان کا خود بخود قلع قمع ہوجائیگا ۔
حقيقت اسكے برعكس يہ ہے كہ الحمد للہ ہمارے موجودہ دستور ميں چند جزوى باتوں كے سوا كوئى خرابى نہيں ہے ، ليكن مسئلہ يہ ہے كہ اس كے جوہرى احكام پر ٹھيك ٹھيك عمل نہيں ہورہا ہے ، ہمارے دستور ميں جو بنيادى حقوق دئيے گئے ہيں ، وہ لوگوں كو پورى طرح حاصل نہيں ہيں ، پاليسى كے جو اصول بنائے گئے ہيں ، ان پر ايك دن عمل نہيں ہوا ،صوبوں كو جو حقوق ملنے چاہييں ، وہ نہيں مل رہے ، عوام كو قدم قدم پر مشكلات ، رشوت ستانى اور ظلم وستم كا سامنا ہے ، معيشت كے ميدان ميں اونچ نيچ حد سے بڑھى ہوئى ہے ، سركارى دفتروں سے كام كرانا جوئے شير لانے كے مرادف ہے ، عدل وانصاف كے دروازے غريبوں كے لئے تقريباً بند ہيں ، دستور ميں يہ لكھا ضرور ہے كہ قرآن وسنت كے خلاف كوئى قانون نہيں بنايا جائے گا ، اور اس كے لئے دستور نے ايک ميكنزم بھى تجويز كرديا ہے جس پر اگر ٹھیک ٹھیک عمل ہو تو وہ فرقہ واریت کا بھی سد باب کرسکتا ہے، ليكن اُسے برسر كار لانے كى كوئى سنجيدہ كوشش نہيں ہورہى ۔ يہ مجموعى صورت حال عوام ميں مايوسى اور چڑ چڑاہٹ پيدا كرتى ہے ، اور شرپسند لوگوں كو يہ پرو پيگنڈا كرنے كا موقع ملتا ہے كہ يہ اصلاحات پرامن ذرائع سے نہيں ہوسكتيں ،اور حكومتوں كے اس طرزعمل نے اس بات كو مزيد ہوا دى ہے كہ جو مطالبہ شريفانہ طورسے وعظ ونصيحت اور مشورے كے طورپر كيا جائے ، حكومت اُسے درخور اعتنا ہى نہيں سمجھتى، اور لوگوں كے دل ميں يہ بات بيٹھ گئى ہے كہ كوئى مطالبہ اُسى وقت قابل سماعت ہوسكتا ہے جب وہ ہڑتال اور جلاؤ گھيراؤ كے ساتھ كيا جائے ، اور اسى كا آخرى حل يہ ہے كہ حكومت كے خلاف ہتھيار اٹھا لئے جائيں ۔ملك كے دشمن مسلسل اس فكر كو ہوا دے رہے ہيں ، اور اسى بنيادپر جذباتى نوجوانوں كو گمراہ كيا جارہا ہے ۔ لہٰذا مسئلہ دستور ميں كسى جوہرى تبديلى كا نہيں ، مسئلہ اُس پر ٹھيك ٹھيك عمل كا ہے ۔ اگر اس پر سنجيدگى سے عمل ہونے لگے ، عوام كو اسلامى تعليمات كے مطابق انصاف ميسر ہو ، اور اسلام كے عادلانہ قوانين انكى روح كے ساتھ نافذ كئے جائيں ، مجرموں كو انصاف كے تمام تقاضوں كے ساتھ عبرت ناك سزائيں دى جائيں ،تو يہ مسلح تحريكيں اپنى موت آپ مرجائنگى ۔
خدا كے لئے نيا انتشار پھيلانے كے بجائے متحد ہوكر اس جہت ميں كام كريں ۔