نمازِ فجر میں اِسفار افضل ہے

سوال:- یہاں دیہی علاقے میں لوگ نمازِ فجر کافی دیر کرکے پڑھتے ہیں، مثلاً ۳؍ذی الحجہ ۱۳۹۶ھ کو جامع مسجد جیمس آباد میں نمازِ فجر ۱۵:۶ (سوا چھ بجے پڑھی گئی) جبکہ کراچی کی نسبت طلوع و غروب میں ۵ منٹ کا فرق ہے، براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔
جواب:- نمازِ فجر حنفیہ کے نزدیک اِسفار یعنی اُجالے میں پڑھنا افضل ہے، البتہ نماز طلوعِ آفتاب سے اتنے پہلے ختم ہوجانی چاہئے کہ اگر کسی وجہ سے نماز کا اعادہ کرنا پڑے تو طوالِ مفصل کی قراء ت کے ساتھ اعادہ ہوسکے اور پھر بھی کچھ وقت بچ رہے۔(۱)

واللہ سبحانہ اعلم
۱۲؍۸؍۱۳۹۶ھ
(فتویٰ نمبر ۲۷۸۰/۲۷ و)

(۱) فی الکبیری شرح منیۃ المصلی ص:۲۳۲ (طبع سہیل اکیڈمی لاہور) ویستحب فی صلاۃ الفجر الاسفار بھا، بأن تصلی فی وقت ظھور النور وانکشاف الظلمۃ والغلس بحیث یرمی الرامی موقع نبلہ عندنا خلافا للثلااثۃ، لقولہ علیہ السلام: اسفروا بالفجر فانہ أعظم للأجر۔ رواہ الترمذی۔ وفی المراقی فی ’’حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح‘‘ ج:۱ ص:۲۵۲ (طبع مکتبۃ العلم الحدیث دمشق) یستحب الاسفار وھو التأخیر للاضائۃ بالـفـجـر بحیث لـو ظـھـر فسادھا اعادھا بقرائۃ مسنونۃ قبل طلوع الشمس لقولہ علیہ السلام: اسفروا بالفجر فانہ أعظم للأجر۔ وفیہ أیضًا ج:۱ ص:۲۵۴ والاسفار بالفجر مستحب سفرًا وحضرًا۔ وفی الدر المختار ج:۱ ص:۳۶۶ (طبع سعید) والمستحب للرجل الابتداء فی الفجر باسفار والختم بہ ھو المختار بحیث یرتل أربعین اٰیۃ ثم یعیدہ بطھارۃ لو فسد ۔۔۔۔ الخ۔ وفی الھدایۃ ج:۱ ص:۸۲ (طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان) (باب المواقیت) ویستحب الاسفار بالفجر لقولہ علیہ السلام: اسفروا بالفجر فانہ أعظم للأجر۔