مسبوق کی نماز کا طریقہ

سوال:۔ ایک آدمی نے چار رکعت والی نماز میں دُوسری یا تیسری رکعت میں امام کے ساتھ شرکت کی، باقی نماز کس طرح ادا کرے؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ باقی رکعتوں میں صرف فاتحہ پر اکتفاء کرنا چاہئے۔ مغرب میں اگر ایک رکعت ہو تو باقیوں میں سورۃ ملائی جائے یا صرف فاتحہ پر اکتفا کیا جائے؟ اس نماز کے بارے میں بھی ان صاحب نے بتایا ہے کہ ایک میں تو سورۃ ملادے، باقی دُوسری رکعت میں فاتحہ پر اکتفاء کیا جائے۔
جواب:۔ جس شخص کی ایک یا دو رکعت چھوٹ گئی ہو اُسے مسبوق کہتے ہیں، قراء ت کے بارے میں اس کا حکم یہ ہے کہ جب امام کے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنی نماز پوری کرے گا تو قراء ت کے لحاظ سے یہ اس کی پہلی رکعت سمجھی جائے گی، لہٰذا اس رکعت میں وہ سورۂ فاتحہ کے ساتھ قرآنِ کریم کی دُوسری آیات بھی پڑھے گا۔ اگر اس کی دو رکعتیں چھوٹی ہیں تو دُوسری رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت پڑھنا اس کے لئے ضروری ہے، اور اگر تین یا چار رکعتیں چھوٹی ہیں تو پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھے گا مگر اس کے بعد والی رکعتوں میں نہیں پڑھے گا۔(۱)
واللہ اعلم

الجواب صحیح
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
محمد عاشق الٰہی عفی عنہ
۹؍۲؍۱۳۸۸ھ
(فتویٰ نمبر ۲۱۴/۱۹ الف)