’’لیکوریا‘‘ کے پانی کا حکم اور اس سے متعلق متعدّد مسائل

سوال:- عورتوں کو لیکوریا کی بیماری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے رحم سے سفید پانی رِستا رہتا ہے۔
۱:- کیا یہ سفید پانی نجاستِ خفیفہ ہے یا کہ نجاستِ غلیظہ؟
۲:- اگر کسی عورت کو یہ بیماری ہو اور وہ نماز بھی پڑھتی ہو، چونکہ پانی رِسنے کا کوئی خاص وقت مقرّر نہیں ہوتا تو کیا اس پانی کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں؟
۳:- باوضو ہونے کی صورت میں یہ پانی نکلے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
۴:- اگر نماز کی ادائیگی کے دوران پانی نکل آئے تو کیا نماز ہوجاتی ہے؟
۵:- اگر نماز نہیں ہوتی تو اس سلسلے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ نماز ضائع نہ ہو؟
۶:- شرعاً کیا اس قسم کے مریض کو معذور سمجھا جائے گا؟
جواب۱:- لیکوریا کی بیماری میں جو پانی خارج ہوتا ہے وہ چونکہ رحم سے خارج ہوتا ہے اس لئے وہ مذی کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے، ولیس ھو فی حکم رطوبۃ الفرج الداخل کما فی امداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۶۵ و ۷۴۔(۱)
۲:- اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔(۲)
۳:- اس کے نکلنے سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے۔(۳)
۴:- نماز نہیں ہوگی، اِلَّا یہ کہ معذوری کی وہ صورت ہوجائے جو نمبر۵ و ۶ کے جواب میں آرہی ہے۔
۵،۶:- اگر یہ پانی ہر وقت بہتا رہتا ہے اور اتنا وقفہ بھی نہیں ملتا کہ اس میں چار رکعت نماز ادا کی جاسکے تو پھر یہ عورت ’’معذور‘‘ کے حکم میں ہے، ایسی عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے پر وضو کرلے اور اس سے جتنی چاہے نمازیں نوافل وغیرہ پڑھتی رہے، جب تک اس نماز کا وقت رہے گا، اس کا وضو سیلان کا پانی نکلنے سے نہیں ٹوٹے گا، پھر جب دُوسری نماز کا وقت آئے تو اس کے لئے نیا وضو کرے۔(۱)

واللہ سبحانہ اعلم
۱۴؍۲؍۱۳۹۷ھ
(فتویٰ نمبر ۲۳۳/۲۷ ہ)

(۱) وفی الدر المختار ج:۱ ص:۳۰۵ وصاحب عذر من بہ سلس بول لا یمکنہ امساکہ أو استطلاق بطن ریح أو انفلات أو المستحاضۃ ۔۔۔۔ ان استوعب عذرہ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ بأن لا یجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأ ویصلی فیہ خالیا عن الحدث ۔۔۔۔ وحکمہ الوضوء ۔۔۔۔ لکل فرض ۔۔۔۔ ثم یصلی بہ فیہ فرضا أو نفلا، فاذا خرج الوقت بطل۔