شعراء کا اپنے کلام میں غیراللہ کو خطاب کرنا

سوال:- ایک جگہ دو شخص آپس میں محوِ گفتگو تھے، اشخاصِ مذکورہ میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ شاعری خواہ مجازی ہو یا حقیقی، ان دونوں کا اثر شاعر کے عقائد پر ہوتا ہے، جس طرح سے آج کل عامی شاعر جن کی شاعری بالکل غیرسنجیدہ اور اخلاق سے گری ہوئی ہوتی ہے یہاں تک کہ شاعر کا اپنے فرضی محبوب کو خدا کے ہم پلہ قرار دینے، یا موسم یا دُوسرے موضوعات پر مبالغانہ انداز میں اپنے تخیل کو پیش کرنے سے شاعر کے عقائد اس کے زد میں آتے ہیں اور اس پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے، یہاں تک کہ شاعر اپنے تخیل کو غلط انداز میں بیان کرنے کی وجہ سے گناہ اور بسااوقات گناہِ عظیم کا مرتکب قرار پاتا ہے۔ یہ بات کہاں تک دُرست ہے؟
۲:- لیکن اس کے برعکس دُوسرے شخص کا کہنا یہ ہے کہ شاعری خواہ مجازی ہو یا حقیقی، محض تخیل ہے، اور تخیل کا حقیقت سے بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی ربط نہیں۔
مہربانی فرماکر اس سوال کا جواب دیں کہ اشخاصِ مذکورہ میں سے کون صحیح ہے اور کون غلطی پر ہے؟ سادہ، عام فہم، مدلل، جامع، مفصل اور اگر کہیں عربی کی عبارت ہو تو اس کے بعد ترجمے کے ساتھ اس طرح جلد سے جلد ارقام فرمائیں کہ حجت تام ہو، عین نوازش ہوگی۔
جواب:- محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے خط کو موصول ہوئے کئی ماہ گزرگئے، لیکن میں مسلسل سفر اور مصروفیات کی بناء پر جواب نہ دے سکا، اب بمشکل تمام اتنا وقت نکال سکا ہوں کہ جواب لکھوں۔
آپ نے خاص دو صاحبان کی گفتگو نقل کی ہے، ان میں سے کسی کی بات بھی علی الاطلاق صحیح نہیں ہے، بلکہ اس میں کچھ تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ اگر شاعر اپنے کلام میں ایسا مجاز یا استعارہ استعمال کرتا ہے جس کی نظیریں اہلِ زبان میں معروف و مشہور ہوں اور دُوسرے قرائن و شواہد سے یہ بھی معلوم ہو کہ شاعر نے یہ بات مجاز و استعارہ کے طور پر کہی ہے، حقیقت سمجھ کر نہیں کہی، تب تو ایسا مجاز و استعارہ جائز ہے، اور اس کی بنیاد پر انسان کو بدعقیدہ نہیں کہا جاسکتا، اس کے برخلاف اگر مجاز و استعارہ اس نوعیت کا ہے کہ اہلِ زبان میں اس کی نظیریں معروف نہیں ہیں یا پھر دُوسرے قرائن و شواہد سے معلوم ہے کہ شاعر نے یہ بات مجاز کے طور پر نہیں کہی بلکہ حقیقت سمجھ کر کہی ہے تو اس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کا عقیدہ یہی ہے۔
مثلاً حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرِ مکی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ اشعار منسوب ہیں کہ:-
یا رسول اﷲ! انظر حالنا، یا رسول اﷲ! اسمع قالنا، حالانکہ یہ بات حضرت حاجی صاحبؒ کے حالات اور ان کی کتابوں وغیرہ سے معلوم ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرح حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اس لئے یہاں یہ کہا جائے گا کہ ان اشعار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خطاب کیا گیا ہے، وہ مجازاً کیا گیا ہے، اور یہ ایک معروف شاعرانہ روایت ہے کہ شاعر بہت سی غیرموجود اشیاء کو تخیل میں موجود فرض کرکے ان سے خطاب کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات دریاؤں، پہاڑوں اور شہروں کو بھی خطاب کرتا ہے۔ گویا حضرت حاجی صاحبؒ کا یہ مجاز ایسا ہے کہ اہلِ زبان کے کلام میں اس کی نظیریں موجود ہیں، لہٰذا اس سے فسادِ عقیدہ لازم نہیں آتا۔ ہاں! اگر کوئی ایسا شخص یہ بات کہے جس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ بطور مجاز یہ بات نہیں کہہ رہا ہے بلکہ اس کے نزدیک حقیقی عقیدہ ہی یہی ہے تو پھر فسادِ عقیدہ لازم آجائے گا۔(۱)
اس کے برخلاف بعض مبالغے یا مجاز ایسے ہوتے ہیں کہ اہلِ زبان میں اس کی معروف نظیریں نہیں ہوتیں، مثلاً کسی مخلوق کو خالق سے تشبیہ دینا یا کسی مخلوق کے اوصاف کو بڑھا چڑھاکر اسے خالق کے ساتھ ملادینا، اس قسم کے مبالغے اور استعارے چونکہ متعارف نہیں ہوتے اور دین و مذہب کا پاس رکھنے والے لوگ ان کو ہمیشہ بے ادبی اور غلط سمجھتے ہیں، اس لئے ایسے مبالغوں اور استعاروں سے فسادِ عقیدہ کا شبہ ہوتا ہے، اور وہ ناجائز ہیں، چونکہ اس میں مجاز و مبالغہ کا احتمال ہوتا ہے اس لئے محض اس کی بناء پر کسی کو کافر کہنے میں احتیاط کرنی چاہئے تاوقتیکہ وہ اپنے عقیدے کی خود وضاحت نہ کردے۔

ھٰذا ما عندی واﷲ سبحانہ وتعالٰی أعلم
۱۵؍۴؍۱۳۸۴ھ
(فتویٰ نمبر ۳۸۹/۲۹ الف)