سنن و نوافل گھر میں پڑھنی چاہئیں یا مسجد میں؟

سوال:- ملفوظاتِ کمالاتِ اشرفیہ ص:۱۵۶ ملفوظ نمبر۶۵۹ میں ہے: ایک شخص نے دریافت کیا کہ نماز سنتِ فجر مکان میں پڑھ کر مسجد جاتا ہوں، اس وقت نماز تحیۃ المسجد پڑھ سکتا ہوں یا نہیں؟ فرمایا کہ: ’’اس وقت نہ تحیۃ المسجد ہے، نہ تحیۃ الوضوئ، نیز ان سنتوں کا مسجد میں پڑھنا افضل ہے، بلکہ جمیع سننِ مؤکدہ کا، تاکہ اتہام بالتشبہ باہلِ بدعت سے محفوظ رہے، جو کہ تارکینِ سنت ہیں۔‘‘ اور ہم نے یہ سنا ہے کہ مکان میں فجر کی سنتیں پڑھنا مسنون ہے، اس کی تطبیق کیا ہے؟
جواب:- فی الدر المختار: والأفضل فی النفل غیر التراویح المنزل الا لخوف شغل عنھا، والأصح أفضلیۃ ما کان أخشع وأخلص۔ وقال الشامی: وحیث کان ھٰذا أفضل یراعی ما لم یلزم منہ خوف شغل عنھا لو ذھب لبیتہ، أو کان فی بیتہ ما یشغل بالہ ویقلل خشوعہ فیصلیھا حینئذ فی المسجد۔ (شامی ج:۱ ص:۴۵۸)۔(۱)
اس سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ تمام سنن و نوافل کا گھر میں پڑھنا افضل ہے، لیکن کسی عارض کی بناء پر یہ افضلیت منتقل ہوسکتی ہے، اور عوارض مختلف ہوسکتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں چونکہ سنتوں کو گھر کے لئے چھوڑنے سے خطرہ یہ رہتا ہے کہ کہیں بالکل ہی رہ نہ جائیں، اس لئے متأخرین نے سننِ مؤکدہ کو مسجد میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت تھانویؒ کا مذکورہ فتویٰ بھی اصلاً اسی عارض پر مبنی ہے، اور اس کے ساتھ اتہام بالتشبہ باہلِ بدعت کی علت مزید شامل کردی ہے، اور حضرت تھانویؒ کا یہ فتویٰ امداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۲۸۸(۲) میں بھی موجود ہے۔

واللہ اعلم
۲۶؍۳؍۱۳۹۷ھ
(فتویٰ نمبر ۳۵۷/۲۸ ب)

(۱) فتاویٰ شامیۃ باب الوتر والنوافل ج:۲ ص:۲۲ (طبع ایچ ایم سعید)
(۲) امداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۰۸ سوال نمبر۳۹۷ (طبع مکتبہ دار العلوم کراچی)، نیز دیکھئے فتاویٰ دار العلوم دیوبند ج:۴ ص:۲۲۶۔