غسل خانے میں بات کرنے کا حکم

سوال:- غسل خانہ اور پائے خانہ میں بات کرنے کو عوام ناجائز سمجھتے ہیں، سو شرعاً اس کی کوئی اصل ہے؟
جواب:- قال ابن عابدینؒ عبارۃ الغزنویۃ ولا یتکلم فیہ أی فی الخلائ، وفی الضیاء عن بستان أبی اللیث یکرہ الکلام فی الخلائ، وظاھرہ أنہ لا یختص بحال قضاء الحاجۃ وذکر بعض الشافعیۃ أنہ المعتمد عندھم، وزاد فی الامداد: ولا یتنحنح أی الا بعذر کما اذا خاف دخول أحد علیہ۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۳۱۸)۔[۲]
عبارتِ مرقومہ سے معلوم ہوا کہ بیت الخلاء میں نہ صرف یہ کہ بوقتِ قضائِ حاجت بات کرنا مکروہ ہے، بلکہ دُوسرے حالات میں بھی بولنا دُرست نہیں، مثلاً کوئی شخص اگر بیت الخلاء میں وضو کر رہا ہو تو تسمیہ اور دُوسری دُعائیں پڑھنا بھی دُرست نہیں، کما قال الشامیؒ، اسی طرح بے ضرورت کھانسنا بھی مکروہ ہے۔ واللہ اعلم

الجواب صحیح احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ ۲۴؍۱۱؍۱۳۷۹ھ(۱)[۲]

[۱]فتاویٰ شامیۃ ’’تنبیہ‘‘ ج:۱ ص:۳۴۴ (طبع ایچ ایم سعید)
[۲]یہ فتویٰ حضرتِ والا دامت برکاتہم کی تمرینِ افتاء (درجۂ تخصّص) کی کاپی سے لیا گیا ہے۔

|