دانت میں چاندی بھری ہوئی ہو تو وضو اور غسل کا حکم

سوال:- دانتوں میں کیڑا لگ جانے کی وجہ سے اور کوئی علاج مستقل مفید نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر نے علاجاً چاندی بھردی ہے، اس صورت میں وضو میں کوئی نقص تو نہیں رہے گا؟
جواب:- صورتِ مسئولہ میں وضو میں تو کوئی اِشکال ہی نہیں، غسل میں اِشکال ہوسکتا تھا لیکن فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ مواضعِ ضرورت میں نیچے تک پانی پہنچانا ضروری نہیں۔
چنانچہ در مختار میں ہے:-
ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین أسنانہ أو فی سنہ المجوف بہٖ یفتی۔ وقیل: ان صلبًا منع وھو الأصح، وقال الشامی: قولہ وھو الأصح صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال: لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (شامی ج:۱ ص:۱۵۴ مبحث الغسل، طبع ایچ ایم سعید)۔
وقد تقرر فی موضعہ أنہ مفاھیم الکتب حجۃ، فدل علٰی أنہ لا یمنع عدم نفوذ الماء فی مواقع الضرورۃ، وقد صرح بہ امداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۱۸۔
اور عالمگیریہ میں ہے: قال محمدؒ فی الجامع الصغیر: ولا یشد الأسنان بالذھب ویشدھا بالفضۃ یرید بہ اذا تحرکت الأسنان وخیف سقوطھا فأراد صاحبھا أن یشدھا یشدھا بالفضۃ ولا یشدھا بالذھب، وھذا قول أبی حنیفۃؒ، وقال محمدؒ: یشدھا بالذھب أیضًا۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۳۶)۔[۱] واللہ اعلم
۱۱؍۱۰؍۱۳۹۷ھ
(فتویٰ نمبر ۱۰۳۹/۲۸ ج)


[۱]کتاب الکراھیۃ باب ۱۰ وکذا فی امداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۱۹۔