تطہیرِ اشیاء کے طریقوں کی تعداد اور مکمل تفصیل

سوال:- تطہیرِ اشیاء کے کیا کیا طریقے ہیں؟ اور ان میں کیا تفصیل ہے؟
جواب:- تطہیرِ اشیاء کے دس طریقے ہیں:-
۱:-دھونا، جیسے ناپاک کپڑا وغیرہ اسی طریقے سے پاک کیا جاتا ہے۔
۲:-پھیرلینا، یہ طریقہ ان اشیاء کے لئے مخصوص ہے جو شفاف ہوں، جیسے آئینہ، تلوار وغیرہ۔
۳:- (فرک) کھرچنا، یہ طریقہ منی سے تطہیر کے لئے ہے، عالمگیریہ میں اس کو مطلق چھوڑا گیا ہے، لیکن العرف الشذی میں حضرت شاہ صاحبؒ نے اس طریقے کو قرونِ اُوْلیٰ کے ساتھ بایں وجہ مخصوص قرار دیا ہے کہ اس زمانے میں منی بہت غلیظ ہوتی تھی، اور آج کل عام طور سے منی کی رقت شائع ہے، اس لئے منیٔ رقیق کے لئے محض فرک کافی نہیں۔
۴:-ملنا اور رَگڑنا، (حت و دلک) اور یہ طریقہ اس صورت کے لئے ہے جبکہ نجس چیز ثخین ہو اور نجاست متجسد (یعنی خشک ہونے کے بعد نظر آنے والی) ہو۔
۵:-سوکھ جانا، یہ حکم زمین اور اس میں گڑی ہوئی چیزوں کے لئے ہے، جیسے دیواریں، درخت، اینٹیں وغیرہ، یہ تمام چیزیں صرف سوکھ جانے سے پاک ہوجاتی ہیں۔
۶:-جلانا، گوبر اور نجس کیچڑ اس طریقے سے پاک ہوجاتے ہیں، اسی طرح اگر بکری وغیرہ کا سر جو خون میں لتھڑا ہوا ہو اس قدر جلایا جائے کہ خون بالکل زائل ہوجائے تو وہ طاہر ہوجاتا ہے۔
۷:-ایک حالت سے دُوسری حالت کی طرف تبدیل کردینا استحالہ، مثلاً شراب کو کسی نئے مٹکے میں سرکہ بنادینا، یہ بھی تطہیر کا سبب بن جاتا ہے۔
۸:-دباغت، خنزیر اور آدمی کے علاوہ تمام جانوروں کی کھالوں کو دُھوپ میں رکھ کر یا نمک لگاکر مدبوغ کرلیا جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہیں۔
۹:-ذکاۃ یعنی حیوان کا ذبح کردینا اس کی جلد کو پاک کردیتا ہے اور گوشت کو بھی، خواہ وہ حیوان غیرمأکول ہو۔
۱۰:- نزح، یعنی اگر کنویں میں نجاست گرجائے تو اس کی مناسبت سے کنویں کا پانی کھینچ لینا۔
یہ دس طریقے عالمگیریہ میں ص:۴۲ سے ۴۶ تک نقل کئے گئے ہیں، اور ابنِ وہبانؒ اور علامہ حصکفیؒ نے ان کے ساتھ چند چیزیں اور ملاکر انہیں اشعار میں جمع کردیا ہے، ابنِ وہبانؒ کے اشعار علامہ شامیؒ نے نقل فرمائے ہیں:-
واٰخر دون الفرک والندف والجفا
ف والنحت قلب العین والغسل یطور
ولا دبغ تخلیل ذکاء تخلل
ولا المسح والنزح الدخول التغوّر
وزاد شارحھا بیتا، فقال:-
وأکل وقسم غسل بعض ونحلہ
وندف وغلی بیع بعض تقور
(شامی ج:۱ ص:۲۹۰)(۱)
علامہ حصکفیؒ نے انہی اشعار کو ذرا سا بدل کر فرمایا ہے: ؎
وغسل ومسح والجفاف مطھر
ونحت وقلب العین والحفر یذکر
ودبغ وتخلیـل ذکـاۃ تـخـلـل
وفرک ودلک والدخول التغور
تصرفہ فی البعض ندف ونزحھا
ونار وغلی غسل بعض تقور(۲)
جس سے مندرجہ ذیل طریقہ ہائے تطہیر مزید معلوم ہوئے:-
۱:- کھودنا، اور یہ طریقہ زمین کو پاک کرنے کے لئے ہے۔
۲:- دخول، جس کی تفسیر علامہ ابنِ عابدینؒ نے یہ کی ہے کہ پاک پانی کا ایسے چھوٹے حوض میں داخل ہونا کہ جو ناپاک ہوگیا ہو، جبکہ ایک طرف سے اس کا پانی نکل رہا ہو، اور نیا پاک پانی داخل ہو رہا ہو، تو اگرچہ حوض کا پانی قلیل ہو، لیکن پھر بھی وہ پاک ہوجاتا ہے۔(کذا فی رد المحتار ج:۱ ص:۲۹۰)۔(۳)
۳:- تغور، یعنی کنویں کا اتنا پانی خشک ہوجائے کہ جتنا نجاست گرنے کی وجہ سے نکالنا واجب تھا تو یہ پانی نکالنے کے قائم مقام ہوجائے گا۔
۴:- تصرف، یعنی ایک نجس چیز میں تصرف کرنا، مثلاً گندہ ڈھیر میں سے کچھ ناپاک ہوجائے تو اس کے اندر اکل، بیع، ہبہ اور صدقہ وغیرہ کے ذریعہ تصرف کرلیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے۔
۵:- جوش دینا، جیسے کہ اگر تیل یا گوشت نجس ہوجائیں تو ان کو جوش دے کر پاک کیا جاسکتا ہے۔
۶:- تقویر، یعنی جہاں جہاں نجاست ہو، وہاں وہاں سے ان نجس چیز کا علیحدہ کردینا، چنانچہ اگر جما ہوا گھی ناپاک ہوجائے تو اس میں یہی طریقہ استعمال کیا جائے گا۔
یہ چھ طریقے مزید ملاکر کل سولہ طریقہ ہائے تطہیر معلوم ہوئے۔(۴)

واللہ سبحانہ اعلم
الجواب صحیح
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ
۲؍۱۱؍۱۳۷۹ھ(۵)

(۱) فتاویٰ شامیۃ ج:۱ ص:۳۱۵ (طبع ایچ ایم سعید)۔ (۲) الدر المختار ج:۱ ص:۱۳۵ (طبع ایچ ایم سعید)۔
(۳) شامیۃ ج:۱ ص:۳۱۵ (طبع ایچ ایم سعید)۔
(۴) تطہیرِ اشیاء کے مذکورہ طریقے فتاویٰ عالمگیریہ ج:۱ ص:۴۱ تا ۴۵ (مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ) میں بھی موجود ہیں۔
(۵) یہ فتویٰ حضرتِ والا دامت برکاتہم کی تمرینِ افتاء (درجۂ تخصّص) کی کاپی سے لیا گیا ہے۔