برہنہ ہوکر غسل کرنا

سوال:- غسل (فرض، سنت، مستحب) اگر مکان میں پردے کا پورا انتظام ہے تو برہنہ ہوکر کرسکتا ہے؟ اور جو وضو غسل کے لئے کیا ہے، بعد میں نماز کے لئے یہی وضو برقرار ہوگا یا نیا وضو کرنا ہوگا؟
جواب:- بہتر تو یہی ہے کہ کوئی کپڑا وغیرہ باندھ کر غسل کیا جائے، لیکن برہنہ ہوکر غسل کرنا جبکہ پردے کا پورا انتظام ہے، بھی بلاکراہت جائز ہے۔[۱] غسل میں جو وضو کیا جاتا ہے وہ بعد میں نماز پڑھنے کے لئے کافی ہے، نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔[۲] واللہ اعلم
الجواب صحیح
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
محمد عاشق الٰہی عفی عنہ
۹؍۲؍۱۳۸۸ھ

(فتویٰ نمبر ۲۱۴/۱۹ الف)


[۱]وی البخاریؒ عن أم ھانیؓ بنت أبی طالب أنھا ذھبت الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عام الفتح فوجدتہ یغتسل وفاطمۃ تسترہ، وعن میمونۃؓ قالت: سترت النبی صلی اﷲ علیہ وسلم وھو یغتسل من الجنابۃ فغسل یدیہ ۔۔۔۔ الخ۔ صحیح البخاری، کتاب الغسل ج:۱ ص:۴۲ (طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔[۲]وفی مشکٰوۃ المصابیح ج:۱ ص:۴۸ (طبع قدیمی کتب خانہ) عن عائشۃؓ قالت: کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لا یتوضأ بعد الغسل۔ رواہ الترمذی وأبو داوٗد والنسائی وابن ماجۃ۔ وفی المرقاۃ ج:۱ ص:۳۳۸ لا یتوضأ بعد الغسل أی اکتفا بوضوئہ الأول فی الغسل وھو سنۃ، وکذا فی عزیز الفتاویٰ ص:۱۷۵، وامداد المفتین ص:۱۷۵۔