غیرمحرَم کے ساتھ سفرِ حج کا حکم

غیرمحرَم کے ساتھ سفرِ حج کا حکم

سوال:- میری والدہ جن کی عمر پچاس سال ہے اور وہ بیوہ ہیں، وہ اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ حج کے لئے جانا چاہتی ہیں، موصوف اپنی زوجہ کے ساتھ جارہے ہیں، کیا میں ان کے ساتھ اپنی والدہ اور والدہ کی چچی کو بھیج سکتا ہوں یا نہیں؟ شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:- حنفی مسلک میں عورت خواہ جوان ہو یا بوڑھی، اس کے لئے حج پر جانے کے لئے محرَم کی رفاقت شرط ہے،[۱] لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر پڑوسی اس بیوہ کا محرَم نہیں ہے تو اس کے ساتھ نہیں جاسکتی۔
شرائطِ حج میں ہے: ومنھا المحرَم للمرأۃ شابۃ کانت أو عجوزًا اذا کانت بینھا وبین مکّۃ مسیرۃ ثلاثۃ أیام۔ (عالمگیریہ ج:۱ ص:۲۱۸)۔[۲]
لہٰذا حنفی مسلک میں حکم یہ ہے کہ جب تک محرَم نہ ملے، حج پر نہ جائے، اور آخر عمر تک محرَم نہ ملے تو وصیت کرجائے کہ میری طرف سے حجِ بدل کرادیا جائے۔[۳] واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
۱۳؍۶؍۱۳۹۷ھ
(فتویٰ نمبر ۵۸۶/۲۸ب)

2018-04-13T00:55:10+00:00اگست 27th, 2017|

download free uapkmod,action game apk mod, android apps apk mod