حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(تینتیسویں قسط )

میرا نکاح
میرے والدین میرے نکاح کے لئے کسی موزوں رشتے کی تلاش میں تھے ، اور آخر کاراُن کی نظر انتخاب جناب شرافت حسین صاحب رحمۃاللہ علیہ کی صاحبزادی پر ٹھہری ۔ جناب شرافت حسین صاحب ؒ بنیادی طور پر ایک تاجر تھے ، لیکن حضرت والد صاحبؒ اور شہر کے تمام بزرگوں سے ایسا نیاز مندانہ تعلق رکھتے تھے کہ اُن میں سے ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ اُن کے ساتھ اُن کا تعلق زیادہ ہے ۔ الہ آباد کے رہنے والے تھے ، اور وہاں بھی حضرت حکیم الامۃ کے خلیفہ حضرت مولاناوصی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ان کا خصوصی تعلق تھا ۔ میری والدہ اُس وقت بہت علیل تھیں ، اس لئے نکاح کا پیغام میری بڑی بہنوں کے ذریعے دلوایا ۔حضرت بابا نجم احسن صا حب حکیم الامۃ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہما کے درویش منش اور صاحب کشف خلیفہ تھے ، اور میرے بچپن کے دوست جناب کلیم صاحب (جن کا تذکرہ میں اپنے بچپن کے حالات میں کرچکا ہوں )کے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے ، اور وہیں سے ان کے فیض کا سلسلہ جاری رہتا تھا ، مجھے بھی کثرت سے ان کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی رہتی تھی ، اور وہ مجھ پر نہایت شفقت فرماتے تھے ۔اور میری غلطیوں پر مجھے باپ کی سی ڈانٹ سے متنبہ بھی فرمادیتے تھے ۔ ان کو جب علم ہوا کہ میرا پیغام جناب شرافت صاحب کے گھر میں گیا ہے ، بلکہ شاید میری ہونے والی خوشدامن صاحبہ نے اُن سے مشورہ بھی کیا ، تو انہوں نے میرے علم میں لائے بغیر اُن کے نام ایک خط تحریر فرمایا جو عرصۂ دراز کے بعد میری خوشدامن صاحبہ نے مجھے دیا، جسے میں نے اپنے لئے فال نیک سمجھ کر اپنی مبشرات کی فائل میں رکھا ہوا ہے ۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :
“السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔میں جوکچھ لکھ رہا ہوں ، الحمدللہ پوری دیانت اور سچائی کے ساتھ ۔ میرے لئے کوئی ایسے اسباب نہیں ہیں کہ غرض مندی کے سبب میں اپنے کو یا کسی کو دھوکا دوں ۔مجھے اتنا پسند آگیا ہے کہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ کاش میرے ایسی لائق اور سعید اور ہونہار اولاد ہوتی ۔ میں سچ کہتا ہوں میں نے عالم رؤیا میں بھی دیکھا ہے کہ غیب سے کوئی کہہ رہا ہے کہ “اللہ کو اس لڑکے سے کام لینا ہے۔”اس بشارت کے بعدمجھے کوئی شبہہ نہیں رہا ۔ ظاہری صورت میں یہ ہے کہ مادہ رُو نہیں ہے ، داڑھی مونچھ نہیں منڈاتا ، اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل ہے ۔ صحت بہت ہی اچھی ہے ، بفضلہ تعالیٰ خوش پوشاک اور جامہ زیب بھی ہے ، بہت ہی ہنس مکھ اور خوش مزاج ، زبان اور قلم کا دھنی ۔عربی اردو تو گویا مادری زبان ہے۔انگریزی میں گریجویٹ اور ایل ایل بی فائنل کا امتحان بھی دیا ہے ۔ آجکل کے لڑکے عموماً عورتوں کی سی شکل بنائے ہوئے، ویسی ہی ہمت ، ویسی ہی کمزور ذہنیت اور صحت رکھتے ہیں ۔مرد کے لئے اللہ نے حسن کی شان ہی اوررکھی ہے ۔پھر آجکل یہ بھی ہے کہ شادی کے آٹھویں دسویں دن ہی جوتی پیزار شروع ہوجاتی ہے۔ یہ اس لئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ رعایت نہیں کرتے۔ مرد عورت کو لونڈی سمجھتا ہے ، اسی سے تنازع ہوتا ہے ۔ عورت لونڈی نہیں ، رفیقۂ حیات ہوتی ہے ، ویسے ہی برتاؤ ہونا چاہئے ۔
ہمارا نوجوان اچھا خاصا کمالینے والا بھی ہے ، ہاں بے ایمانی سے نہیں کماتا ، اور پھر ان شاء اللہ ، اللہ فضل ہی کرے گا ۔ اچھے سے اچھے برتاؤ اور اچھی سے اچھی قدردانی کی توقع ہے۔میں ہرقسم کے نوجوانوں سے واقف ہوں ۔ اس کے بعد سوچ سمجھ کے یہ رائے قائم کی ہے ۔ محض چکنی چپڑی صورت کس کام کی؟ اگر آدمی میں انسانیت، محبت، اہلیت نہ ہو، اور اُسے عاقبت کی فکر نہ ہو ، اور اُ س کی ذہنیت صحیح طورپر اسلامی نہ ہو۔ہرگز خطرہ نہ کرنا چاہئے کسی بُرے برتاؤ یا سختی یا تنگی کا۔ والسلام
بہر حال!اس طرح۱۷؍ ذوالحجہ ۱۳۸۸ھ مطابق ۵؍ مارچ ۱۹۶۹ء کومسجد باب الاسلام آرام باغ میں میرا نکاح ہوا ۔یہ وہی مسجد ہے جس کے قریب میرے بچپن کے پانچ سال گذرے ، اور جس کا تذکرہ میں پہلے کرچکا ہوں ۔حضرت والد صاحب ؒ نے نکاح پڑھانے کے لئے حضرت علامہ ظفراحمد صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ سے درخواست کی تھی ۔ حضرتؒ نے یہ کرم فرمایا کہ اپنے ضعف کے باوجود ٹنڈوالہ یار سے تشریف لائے ، اور نکاح پڑھاتے ہوئے مجھ سے عربی میں ایجاب وقبول کروایا ۔ نکاح کی مجلس میں اُس وقت کے اکابر علماء وصلحاء تشریف فرما تھے جن میں میرے تمام اساتذہ کے علاوہ میرے شیخ حضرت عارفی ؒ، حضرت علامہ محمد یوسف صاحب بنوری ؒ، حضرت بابا نجم احسن صاحبؒ وغیرہ شامل ہیں ۔ حضرت والدصاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نکاح کے اگلے دن ایک ولیمہ دارالعلوم کورنگی میں کیا جس میں زیادہ تر دارالعلوم کے اساتذہ اور طلبہ اوربعض قریبی رشتہ دار شریک ہوئے ، اور شہر کے احباب اور دورکے عزیزوں کے لئے چونکہ دارالعلوم آنا مشکل تھا ، اس لئے دوسرا ولیمہ شہر میں ہمارے مکان اشرف منزل میں ، جہاں فرشی نشست پر کھانا کھلایا گیا ۔ اُس وقت دہلی مسلم ہوٹل دہلوی کھانوں میں اختصاص رکھتا تھا ، اور اُس کے مالکان نے جو میرے خسر صاحب کے پڑوسی تھے ، بڑی محبت سے کھانے تیار کئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان بزرگوں کی دعاؤں سے اس رشتے میں برکت عطا فرمائی ، اور بفضلہ تعالیٰ میری اہلیہ آج تک رفاقت کا بہترین حق ادا کررہی ہیں ۔ جزاہا اللہ تعالی خیر الجزاء ۔ البتہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت بابا صاحب قدس سرہ نے میرے بارے میں جن توقعات کااظہار فرمایا تھا ، میں اُن پر پورا اترسکا یا نہیں۔
نکاح کے اگلے سال عاشورہ ۱۳۹۰ھ مطابق ۲۳؍ مارچ ۱۹۷۰ ء کو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہلے بیٹے سے نوازا ، جن کا نام حضرت والد صاحبؒ نے “محمد عمران اشرف” تجویز فرمایا ، اور حضرت بابا نجم احسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کا تاریخی نام ” فرخ تقی “رکھا ۔
معارف القرآن کی تھوڑی سی خدمت
حضرت والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ اپنی عمر کے آخری سالوں کے دوران معارف القرآن کی تالیف میں شب وروز مصروف تھے ۔اگرچہ یہی زمانہ حضرت والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ کی بیماریوں اور ان کے ساتھ غیر معمولی ملکی اور اجتماعی مصروفیات کا تھا، لیکن وہ انہی مصروفیات کے عین درمیان معارف القرآن کی تالیف کے لئے حیرت انگیز طورپروقت نکال لیتے تھے۔ یہاں تک کہ ۱۹۶۵ ء کی جنگ کے دوران جب پورا شہر بلیک آؤٹ کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہوتا تھا، اُس وقت بھی وہ کمرے کو اچھی طرح بند کرکے ایک چھوٹاسا ٹیبل لیمپ اس طرح جلالیتے کہ روشنی باہر نہ جاسکے، اور پھر اپنے کام میں مشغول ہوجاتے۔ ہوائی حملوں کے سائرن بجتے رہتے، بمبار طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہتی ، اور اُن کا قلم چلتا رہتا۔
چونکہ حضرت والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ کو طرح طرح کی بیماریاں لگی رہتی تھیں ، اس لئے اُنہیں یہ فکر تھی کہ وہ اپنی زندگی میں معارف القرآن کی تکمیل فرمالیں ۔
چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۲ ء مطابق ۱۳۹۲ ھ میں معارف القرآن سے متعلق دو کام میرے سپرد کئے: ایک یہ کہ کچھ سورتوں کی تفسیر کا ابتدائی مسودہ مجھے لکھنے کا حکم دیا،اور دوسرے یہ فرمایا کہ معارف القرآن کی ابتدا میں ایک مقدمے کی ضرورت ہے جس میں قرآن کریم سے متعلق کچھ عمومی معلومات لکھدی جائیں ۔ دونوں کام اگرچہ مجھے اپنی بساط سے زیادہ معلوم ہوتے تھے، لیکن حضرت والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ کے ارشاد کو میں نے فال نیک بھی سمجھا ، اور دل کو یوں سمجھالیا کہ جو کچھ لکھوں گا، آخر وہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ ہی کو پیش کرنا ہوگا، اور اس طرح میری غلطیاں درست ہوجائیں گی، اور تربیت بھی ہوگی ۔ چنانچہ میں نے اپنے اوقات کو اس طرح تقسیم کیا کہ دن کے اُن گھنٹوں میں جو تدریس سے خالی تھے، میں نے حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے حکم کے مطابق سورۂ صافات کی تفسیر لکھنی شروع کردی ، اور کوشش کی کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ جن امور کو تفسیر میں مد نظر رکھتے ہیں ، ان کو میں بھی پیش نظر رکھوں ۔ سورۂ صافات پوری ہوئی، تو حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کے حکم سے سورۂ ص بھی شروع کردی، اور الحمد ﷲاُس کی بھی تکمیل جلد ہوگئی ۔ اُس وقت تک حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ سورۂ یٰس پوری کرچکے تھے ۔ اُس موقع پر میں نے سورۂ صافات اور سورۂ ص کا مسودہ حضرتؒ کو پیش کیا ۔ حضرتؒ نے وہ پورا مسودہ ملاحظہ فرمایا، اور بعض مقامات پر اصلاح بھی فرمائی ۔بعد میں سورۂ زخرف حضرت والد صاحبؒ نے میرے حوالے کی ، اور الحمد للہ اس کی تفسیر لکھنے کی بھی توفیق ملی ، اور انہوں نے اُس پر بھی نظر ثانی فرمائی ۔ یہ کام ماہ محرم ۱۳۹۲ھ (مارچ ۱۹۷۲ئ) میں شروع ہوا ، اور ماہ رجب ۱۳۹۲ھ کے درمیان اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مکمل ہوا۔یہ تین سورتیں تو ایسی تھیں جن کی تفسیر کا ابتدائی مسودہ مکمل طورپر حضرت والد صاحبؒ نے مجھے لکھنے کا حکم دیا تھا ، اور پھر خود اُس پر نظر ثانی فرمائی تھی ۔ اور پھر میں نے ایک موقع پر جبکہ میں ان کی نظر کے سامنے نہیں تھا ، لیکن ان کی باتیں دوسرے کمرے میں مجھے سُنائی دے رہی تھیں، اُنہوں نے کسی سے فرمایا کہ” الحمد ﷲ، میں تقی کو جو کام دیتا ہوں ، اُس میں مجھے قلم لگانے کی بہت کم ضرورت پیش آتی ہے” ۔ فالحمد ﷲعلی ذلک۔
ایسے موقع پر جب کسی بڑے کام کے دوران اپنے کسی چھوٹے سے کام لیا جاتا ہے ، تو عام طور سے مصنفین اُس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے ، کیونکہ درحقیقت یہ بڑے کی طرف سے ایک تربیت کا حصہ ہوتا ہے ، اور فیض اُسی بڑے کا ہوتا ہے ، لیکن حضرت والد صاحب قدس سرہ نے شاید احتیاط یا حوصلہ افزائی کے لئے میری اس معمولی خدمت کا بھی معارف القرآن کے مقد مے میں ذکر فرمایا ، چنانچہ معارف القرآن کی تالیف کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح اُس کاذکر فرمایا ہے :
“درمیانی دو منزلیں سورہ شعرؔاء سے سورہ حجراؔت تک باقی تھیں۔ اللہ کے نام پر ان کو بھی شروع کردیا، ان میں سورہ صؔ، صافاؔت، زخرؔف تو برخوردار عزیزی مولوی محمد تقی سلمہ سے لکھوائی ، اور خود اس پر نظر ثانی کر کے مکمل کیا ، باقی سورتیں خود لکھنا شروع کیں، اور قرآن مجید کا تقریبا ً ڈیڑھ پارہ باقی رہ گیا تھا کہ ۲۴؍ ربیع الثانی ۱۳۹۲ ھ ۸ ؍ جون ۱۹۷۲ء کواچانک مجھے قلب کا ایک شدید مرض پیش آیا ۔۔۔۔ جب کچھ ہوش وحواس درست ہوئے تو باقی ماندہ تفسیر کا خیال ایک حسرت بن کر رہ گیا ، برخوردار عزیزی مولوی محمد تقی سلمہ کو وصیت کردی کہ بقیہ کی تکمیل وہ کردیں ، اس طرح قلب کا کچھ بوجھ ہلکا کیا”۔ (تمہید معارف القرآن ص ۶۶ج۱)
جب اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے صحت عطا فرمائی، اور حضرت والد صاحب ؒ نے سورۂ شوریٰ سے دوبارہ کام شروع فرمایا ، تو اُس وقت بھی کئی سورتوں کی تفسیر لکھنے میں انہوں نے مجھے ساتھ لگائے رکھا ، اور جزوی طورپر انہیں لکھنے میں اپنا حصہ لگانے کی سعادت بھی عطا فرمائی ۔اس کا تذکرہ بھی حضرت والد صاحبؒ نے سورۂ شوریٰ کی تفسیر میں ایک حاشیہ لکھ کر اس طرح فرمایا ہے:
“تفسیر معارف القرآن کی صورت حال یہ ہے کہ جب یہ حادثہ مجھے پیش آیا تو میں معارف القرآن کو تقریباً آخر قرآن تک لکھ چکا تھا ، ایک خاص سبب سے درمیانی چھٹی منزل رہ گئی تھی، اس کو لکھنے کا کام سورۂ شوریٰ کے اس مقام تک پہنچا تھا۔ آگے تقریباً ڈیڑھ پارہ قرآن کریم کا سورہ حجرات تک لکھنا باقی تھا ۔ اب حق تعالیٰ نے گویا دوبارہ زندگی عطا فرمائی اور معالج ڈاکٹروں نے کچھ لکھنے پڑھنے کی اجازت دی تو برخوردار مولوی محمد تقی کو ساتھ لگا کر بنام خدا آج پھر یہ کام شروع کیا ہے۔ واللہ المستعان”!(معارف القرآن ص۶۸۶ (حاشیہ) ج۷)
علوم القرآن
دوسرا کام یعنی معارف القرآن کا مقدمہ لکھنے کے لئے میں نے شام کا وقت گھر پر مقررکیا ہوا تھا ۔ جب میں نے یہ کام شروع کیا ، تو مختلف ضروریات سامنے آتی چلی گئیں جن کے بارے میں مجھے خیال ہوا کہ ان موضوعات پر قدرے تفصیل اور تحقیق سے لکھنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس طرح یہ ایک مقدمے کے بجائے مستقل کتاب بنتی چلی گئی۔ مجھے سب سے زیادہ محنت اور ذہنی تردد” سبعۃ احرف” کی بحث میں ہوا۔اس موضوع پر مجھے جو کچھ کہیں ملا، اُسے کھنگالنے اور ہضم کرنے کی کوشش کی , اور کئی مہینے کی محنت کے بعد اس باب کی تکمیل ہوئی ، لیکن پھر بھی مجھے اپنی سمجھ پر بھروسہ نہیں تھا، اور تشفی نہیں ہورہی تھی کہ میں صحیح سمجھ رہا ہوں ۔
آخر میں نے یہ سوچا کہ اس وقت قراآت کے سب سے بڑے امام حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی ہیں جو اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم سے دارالعلوم کی نانک واڑہ والی شاخ میں فیض رسانی فرمارہے ہیں ۔ چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضرہوا ، اور درخواست کی کہ اس موضوع پر میں نے جو کچھ لکھاہے ، جب تک وہ آپ کی خدمت میں پیش کرکے اس کی تصدیق نہ کرلوں ، مجھے اطمینان نہیں ہوگا ۔ حضرتؒ چونکہ نابینا تھے ، اور ان کے تمامتر علوم ان کے حافظے میں محفوظ تھے، اس لئے ان کی خدمت میں اپنی تحریر پیش کرنے کامطلب یہ تھا کہ پوری تحریر انہیں سُنائی جائے ۔ حضرتؒ نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ میں ایک دن خود دارالعلوم شرافی آکر رات وہاں گذاروںگا، اُس وقت تم مجھے اپنی وہ تحریر سُنادینا ۔ چنانچہ حضرتؒ چند دنوں بعد وہاں تشریف لائے ، رات کو وہیں قیام فرمایا، اور عشاء کی نماز کے بعد میں نے حضرتؒ کو پوراباب سُنایا۔ حضرتؒ بڑی توجہ سے سُنتے رہے ، اور شایدکسی کسی جگہ کچھ مشورے بھی عطا فرمائے ، لیکن جو موقف اُس تحریر میں اختیار کیا گیا تھا ، اُس کی مکمل تائید فرمائی ۔قراآت کے امام حضرت علامہ جزری رحمۃ اﷲعلیہ نے بھی اپنی کتاب” النشر” میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ میں “سبعۃ احرف” کی تشریح پر بیس سال کے غوروفکر کے بعداسی نتیجے پر پہنچا ہوں، اور میری دانست میں حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ یقیناً اس دور کے علامہ جزری تھے ۔ان کی تصدیق کے بعد الحمدﷲمجھے اس باب پر اطمینان ہوا، اور میں نے اُسے کتاب کا حصہ بنادیا۔
اس کے علاوہ مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ قرآن کریم کے بارے میں غیر مسلم مستشرقین نے علمی تحقیق کے نام پر جو شکوک وشبہات پیدا کئے ہیں، ان پر بھی اس مقدمے میں بحث کی جائے ۔ چنانچہ میں نے اپنی مقدور کے مطابق ان مستشرقین کی کتابوں کو جمع کرکے اُن پر تفصیلی بحث کی، اور ان شکوک وشبہات کے بے بنیاد ہونے کو ثابت کیا۔
تفسیر قرآن کریم میں مختلف حلقوں کی طرف سے جو غلط اور گمراہانہ رویے ہمارے دور میں رواج پارہے ہیں ، ان کی حقیقت واضح کرنے کے لئے صحیح اصول تفسیر بیان کرنے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی ۔چنانچہ اُس کا مستقل حصہ رکھا ، اور اس سمت میں جو گمراہیاں پائی جاتی ہیں ، ان کی بنیادی وجوہ کو تفصیل سے بیان کیا اور اُس میں حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اﷲعلیہ کی” الانتباہات المفیدۃ” کوبنیادبنایا۔
میں نے اس مقدمے کی تحریر کے لئے شام کومغرب کے بعد کا وقت مقررکیا ہوا تھا ۔ اور حتی الامکان کوشش کرتا تھا کہ وہ وقت اسی کام میں خرچ ہو ۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے بڑے محبوب بھائی جناب محمد زکی کیفی صاحب رحمۃ اﷲعلیہ جو لاہور میں رہتے تھے ، اور سال بھر میں ایک آدھ مرتبہ والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کے لئے کراچی آیا کرتے تھے، اور دوتین ہفتے یا مہینہ کراچی میں گذارتے تھے ۔ مغرب کے بعد وہ حضرت والدصاحب ؒ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔حضرت والدصاحب ؒ سے ان کی گفتگو بڑی دلچسپ اور معلومات آفریں ہوا کرتی تھی ۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا ، اور وہ بکثرت حضرت والدصاحب ؒسے علمی سوالات کرتے تھے ،نیز وہ بہترین شاعر تھے، اس لئے کبھی کبھی شعروسخن کاموضوع چھڑ جاتا تھا۔مجھے ان باتوں سے بھی دلچسپی تھی ، اور بھائی جان کے ساتھ جتنا وقت مل جائے ، وہ بھی میرے لئے غنیمت تھا ۔ اس لئے میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس مجلس میں شریک ہوں ۔ دوسری طرف یہ میرا علوم القرآن کی تالیف کا وقت تھا، اس لئے اگر اس مجلس میں شریک ہوں ، توتالیف کے اس کام کاناغہ کرنا پڑتا تھا ۔ اس کو بھی دل گوارا نہیں کرتا تھا۔ اس کا حل میں نے یہ نکالا کہ میں اپنے مسودے کے کاغذات اور جو بحث لکھ رہاہوں، اُس سے متعلق کتاب ساتھ لے کر ان دونوں بزرگوں کے اتنے قریب بیٹھ جاتا تھا کہ ان کی بات بھی سُنائی دیتی رہے، اور جتنا موقع ملے، میں مسودے میں بھی کچھ اضافہ کرسکوں ۔ بھائی جان نے کچھ دیر مجھے آدھا تیتر آدھا بٹیر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے فرمایا :یہ تم کیا کرتے ہو کہ نہ پورے طورپر ہماری گفتگو میں شریک ہو، اور نہ پوری طرح کام کررہے ہو۔ کسی ایک بات کا انتخاب کرلو۔حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے یہ سُنا تو فرمایا : “جوکام کرنے والا ہوتا ہے ، اُس کا یہی طریقہ ہوتا ہے ،مشغول آدمی کو کئی کئی کام ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔ اس لئے اس کا طریقہ ٹھیک ہے۔”حضرت والدصاحب ؒ سے ہمت افزائی کے یہ کلمات سُن کر مجھے اطمینان ہوا، اور کشمکش سے نجات ملی ۔
خلاصہ یہ کہ میری یہ تحریر ہوتے ہوتے مقدمے سے بڑھ کر ایک مستقل کتاب بن گئی ۔جب میں نے وہ حضرت والدصاحبؒ کو پیش کی، تو انہوں نے اُسے پسند تو بہت فرمایا ، لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اسے معارف القرآن کے ساتھ شامل کرنا مناسب نہیں ہے ۔یہ ایک مستقل علمی اور تحقیقی کتاب ہے ، اور اسے اسی حیثیت سے شائع ہونا چاہئے ۔ اس کا نام بھی” علوم القرآن” حضرت والدصاحب ؒ کے ایماء پر رکھا گیا، اور اُس پر حضرتؒ نے ایک انتہائی حوصلہ افزا مقدمہ تحریر فرمایا جو ان کی غایت تواضع اور اپنے ایک نالائق بیٹے کی غیر معمولی ہمت افزائی پر مبنی تھا ۔اُس میں جو الفاظ انہوں نے تحریر فرمائے ، میں اُنہیں یہاں نقل کرنے کی بھی ہمت نہیں پاتا۔ پھر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ” اب تم اس کا ایک ایسا عام فہم اور مختصر خلاصہ لکھو جو عوام کے لئے فائدہ مند ہو، اور تفسیر قرآن کے عام قاری اور تلاوت کرنے والوں کے لئے کارآمد ہو” اُس خلاصے کے لئے مضامین کا تعین بھی کم وبیش حضرتؒ ہی نے کیا ، اور اس طرح میں نے یہ خلاصہ بھی حضرتؒ کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا، پھر اُسے حضرتؒ نے معارف القرآن کے مقدمے کے طورپر شائع فرمایا۔
نئے دستور کے لئے اسلام آباد کا سفر
اسی زمانے (۱۹۷۲ء)میں ملک کی قومی اسمبلی ایک نئے دستوری مسودے پر غور کررہی تھی ۔ ۱۹۵۶ء کا دستور جنرل محمد ایوب خان صاحب نے منسوخ کردیا تھا ، اور ۱۹۶۲ ء میں انہوں نے ایک نیا دستور نافذ کیا تھا جس پر سیاسی جماعتوں کو اعتراضات تھے۔ ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہ نیا دستور بننا تھا ، اور پیپلز پارٹی کی حکومت ذوالفقارعلی بھٹو صاحب مرحوم کی سربراہی میں ایک مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کرچکی تھی۔ اس لئے ملک میں ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ ہمارا دستور کیسا ہونا چاہئے ۔ سیکولر حلقے تو اُسے لادینی دستور بنانے کی کوشش ہمیشہ کرتے رہے ، لیکن اس مرتبہ اُس پر یہ اضافہ ہوگیا تھا کہ پیپلز پارٹی جو سوشلزم کا نام لے کر برسر اقتدار آئی تھی ، اُس کے بارے میں مفروضہ یہی تھا کہ وہ ملک کو ایک سوشلسٹ ریاست بنانے کے لئے دستور میں سوشلزم کو کسی نہ کسی طریقے سے داخل کرے گی ۔ اس لئے ضروری تھا کہ اس نئے دستور کو صحیح سمت میں مرتب کرنے کے لئے علمی اور عملی کوششیں کی جائیں ۔ عملی سیاست سے تو میں کنارہ کش تھا، لیکن علمی طورپر البلاغ کے اداریوںمیں ان مسائل پر مفصل تحریریں لکھتا رہتا تھا ۔ چنانچہ محرم اور صفر ۱۳۹۱ھ (مطابق مارچ اور اپریل ۱۹۷۱ء ) میں میں نے “اسلامی دستور کا مفہوم” اور “دستور کی اسلامی دفعات ” کے نام سے دو اداریے لکھے ، پہلے مضمون میں قرآن وسنت سے ایک اسلامی ریاست کی دستوری بنیادوں کو واضح کیا ، اور یہ مضمون درحقیقت حضرت والد صاحبؒ کے رسالے ” دستور قرآنی” پر مبنی اور اُس سے مأخوذ تھا جس میں حالات کی مناسبت سے بعض چیزوں کااضافہ کیا گیا تھا ، اور دوسرے مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ ان دستوری بنیادوں کو موجودہ دستور کی دفعات میں کس طرح سمویا جائے جس سے اُن کے مقاصد موجودہ ماحول میں حاصل ہوں ۔ ان دونوں مضمونوں کی کاپیاں ارکان اسمبلی کو بھی بھیجی گئیں ، تاکہ وہ ان پر غور کرسکیں ۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی ومہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ قومی اسمبلی کے رکن تھے ۔ ان کے لائق وفائق صاحبزادے مولانا سمیع الحق صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ (۱)سے اپنی پہلی ملاقات کا حال میں ۱۹۵۵ء کے دورے کے سلسلے میں پیچھے لکھ چکا ہوں ۔ اُس کے بعد البلاغ اور الحق کے ذریعے اُن سے دوستی کا تعلق بڑھتا رہا ، کبھی کبھی کسی خاص مناسبت سے ملاقاتیں بھی ہوجاتی تھیں ، بلکہ ملاقات کی خاطر مواقع پیدا بھی کرلئے جاتے تھے ۔ انہوں نے اس موقع کو بھی ایسا ہی سمجھا جو ملاقات کا ایک بہانہ بن سکتا تھا ، اس لئے غالباًانہوں نے اپنے والد ماجد قدس سرہ سے کہا ہوگا کہ وہ مسودۂ دستور میں ترمیمات مرتب کرنے کے کام میں شرکت کے لئے تقی کو بلا لیں ، چنانچہ انہوں نے مجھے حضرتؒ کا یہ پیغام پہنچایا ، اور میں حضرت والد صاحب ؒ سے اجازت لیکر اسلام آباد روانہ ہوگیا ، وہاں اپنے ایک عزیز کے یہاں قیام کیا ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نورانی شخصیت کے کمالات کا اسی عرصے میں کچھ اندازہ ہوا۔ ان کمالات کے باوجود ان کی تواضع کے عجیب عجیب واقعات سامنے آئے۔اسلام آباد پہنچنے کے بعد اگلے دن میں مولانا سمیع الحق صاحب کے ساتھ اسمبلی ہال کی گیلری میں پہنچا تو حضرتؒ اسمبلی ہال میں اپنی نشست پر تشریف فرما تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ باہر تشریف لے آئے۔ ان کو نشست سے اٹھتے دیکھا تو ہم بھی نیچے اترکر اسمبلی ہال کے دروازے تک پہنچ گئے۔ میں نے مؤدبانہ سلام عرض کیا تو حضرتؒ نے انتہائی معصومیت سے فرمایا: “حضرت!آپ نے بڑی شفقت فرمائی۔” میں ان کی اولاد کی طرح تھا ، اس لئے یہ سُن کر پانی پانی ہوگیا، لیکن اس فرشتہ صفت انسان کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ کس ذرۂ بے مقدارسے مخاطِب ہیں، اور ان کا علم وعمل ہر لحاظ سے کیا مقام ہے؟ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہی نہ تھے، اور یہی تواضع کا اعلیٰ ترین مقام ہے جو اپنے والد ماجدرحمہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ چند ہی گنی چُنی شخصیات میں نظر آیا، اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان میں سرِ فہرست تھے۔ بہر حال!جناب مولانا سمیع الحق صاحب ؒ کی معیت میں چنددن گذارنے کا موقع ملا جو کام کے علاوہ بہت سی خوشگوار یادیں چھوڑ گیا۔ ہم دونوں نے مل کر مسودۂ دستور کا جائزہ لیا ، اور جہاں جہاں اسلامی نقطۂ نظر سے ترمیم کی ضرورت تھی ، وہاں حضرت شیخ مولاناعبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں ترمیمات مرتب کیں جو ان کی طرف سے اسمبلی میں داخل کی گئیں ، جن میں سے کچھ منظور ہوئیں ، اور کچھ نہیں ۔
پیپلز پارٹی سوشلزم کا نام لے کر برسر اقتدار آئی تھی ، اس لئے اس کی طرف سے مسودے میں “سوشلزم ” کا لفظ تجویز کیا گیا تھا ، اور اس بات کا خطرہ تھا کہ اس طرح ملک کو ایک سوشلسٹ ریاست قرار دینے کا دروازہ کھل جائے ۔اس وقت اسمبلی میں دینی حلقوں کے نمائندوں کی تعداد پیپلز پارٹی کے مقابلے میں بہت کم تھی، لیکن الحمد للہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صاحبؒ، جناب پروفیسر عبد الغفور صاحبؒ، حضرت مولانا ظفر احمد انصاری صاحبؒ جیسے حضرات کی کوششوںاور ملک کی بھاری اکثریت کے دباؤ سے یہ تجویز انہیں واپس لینی پڑی، اوراللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بحیثیت مجموعی ایسا دستور تیار ہوگیا جس پر اُس وقت تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ، اور اُس وقت کے حالات کے لحاظ سے وہ بسا غنیمت تھا۔

(ماہنامہ البلاغ :محرم الحرام ۱۴۴۲ھ)

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭