حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی

یادیں

(اکتیسویں قسط )

تقلید کی شرعی حیثیت
جناب ماہرالقادری مرحوم ملک کے مشہور شاعر تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں دینی کتابوں کے مطالعے کا بھی خاص ذوق پیدا ہوگیا تھا ۔وہ ماہنامہ فاران کے نام سے ایک ادبی اور علمی رسالہ نکالتے تھے ۔ایک مرتبہ وہ غالی قسم کے اہل حدیث حضرات کی ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے ۔وہاں جو صاحب تقریر فرمارہے تھے ، انہوں نے کھلم کھلا تقلید کوشرک اور مذاہب اربعہ کے مقلدین کو کافرومشرک قرار دیا۔جناب ماہر القادری مرحوم کو اس پر سخت صدمہ ہوا،اور انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں تقلید کے موضوع پر ایک مضمون لکھوں۔میں نے اپنے والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ سے تقلید کی جو حقیقت سمجھی ہوئی تھی ، اس کے مطابق ایک مضمون “تقلید کیا ہے؟” کے نام سے عام فہم انداز میں لکھ دیا، اوروہ ماہنامہ فاران کے شمارے میں شائع ہوا۔ میں نے وہ مضمون اپنے والد ماجد رحمۃ اﷲعلیہ کے طریقے کے مطابق مثبت انداز میں لکھا تھا ، اور اُس میں کسی پر طنزو تشنیع سے مکمل طورپرپر ہیز کیا تھا، اور کوئی بحث ومباحثہ چھیڑنا مقصود نہیں تھا ۔ لیکن اس مضمون کی اشاعت کے بعد اُس پر پے درپے کئی تنقیدیں شائع ہوئیں ۔ ان میں سے ایک تو” التحقیق فی جواب التقلید” کے نام سے کتابی صورت میں تھی، اور اُس میں تقلید کو علی الاطلاق شرک قرار دیکر ناچیز کی تکفیر کی گئی تھی۔ایک دوسری تنقید ہفت روزہ” الاعتصام” میں گیارہ قسطوں میں شائع ہوئی جس میں تشدد کا وہ پہلو نہیں تھا،بلکہ وہ بحیثیت مجموعی سنجیدہ علمی تحریر تھی ۔ مضمون نگار کا نام بھی رسالے میں درج نہیں تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مشہور اہل حدیث عالم حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اﷲعلیہ کا تحریر فرمودہ تھا ۔
چونکہ بحث ومباحثہ میرا مقصد ہی نہیں تھا، اس لئے میں نے جواب دہی کی بھی کوشش نہیں کی۔ البتہ کچھ عرصے کے بعد جب اس مضمون کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہوا تو میں نے اُس پر ازسرنو نظرثانی کرکے متعدد مضامین کا اضافہ کیا ، اور اس کے دوران میں نے ان حضرات کے دلائل پر بھی کسی کا نام لئے بغیر تبصرہ کیا۔
اﷲتعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ یہ چھوٹی سی کتاب بہت پڑھی گئی، بہت سے حضرات نے مجھے خط لکھے کہ اس نے ان کے بہت سے شکوک وشبہات دور کئے ہیں۔ پھر اس کا انگریزی، عربی اور بنگلہ زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔
ماہنامہ البلاغ کی ادارت
۱۹۶۷ ء میں حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے دارالعلوم سے ایک ماہانہ رسالہ نکالنے کا فیصلہ فرمایا ، اور اُس کا نام” البلاغ” تجویز فرمایا۔ اُس کے لئے ایک ایڈیٹر کی ضرورت تھی ۔ مولانا خلیل الرحمن نعمانی صاحب اُس وقت دارالعلوم کے اشاعتی ادارے “مکتبہ دارالعلوم” کے ناظم تھے ، اور شروع میں رائے یہ تھی کہ انہیں رسالے کاایڈیٹر بنا دیا جائے ۔میری عمر اُس وقت چوبیس سال تھی، اور میری نوعمری کی وجہ سے شروع میں البلاغ کی ادارت مجھے سونپنے کا خیال نہیں آیا، لیکن ایسا یاد پڑتا ہے کہ ہمارے اساتذہ میں سے کسی نے حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کویہ تجویز پیش کی کہ مجھے اس کا ایڈیٹر بنادیا جائے، اور مولانا نعمانی کو اس کا ناظم۔اس سے پہلے میرے کئی مضامین مختلف رسالوں میں شائع ہوچکے تھے، اور میں اپنی ہر تحریر شائع کرنے سے پہلے حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو دکھا تاتھا ، بلکہ حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ کو جب کسی اہم ملکی مسئلے پر اخبار میں کوئی بیان دینا ہوتا ، تو اس کاابتدائی مسودہ بھی حضرت والد صاحب رحمۃ اﷲعلیہ مجھ سے لکھوانے لگے تھے، اس لئے ان کی نظر میں میری نوعمری کے سوا اس تجویز پر عمل کرنے میں کوئی اور رکاوٹ نہیں تھی ۔ چنانچہ بالآخر حضرتؒ نے اس تجویز کو منظور فرمالیا، اور محرم ۱۳۸۷ ھ مطابق اپریل ۱۹۶۷ ء کو” البلاغ” کا پہلا شمارہ میری ادارت میں شائع ہوا جو الحمد ﷲپچپن سال سے تادم تحریر( ۲۶؍ شوا ل ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۸؍ جون ۲۰۲۰ ء)جاری ہے ۔
“البلاغ “کا اداریہ میں” ذکروفکر “کے نام سے لکھتا تھا، اور الحمد ﷲاُسے ہمیشہ قارئین کی پذیرائی حاصل ہوئی، اہل علم اور مشاہیر کی طرف سے ہمت افزا پیغامات موصول ہوئے، اور حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اﷲعلیہ نے تو اتنی ہمت افزائی فرمائی کہ اپنے ہفت روزہ” صدق” میں اُسے پاکستان کا سب سے بہتر ماہنامہ قرار دیا” اور اُس کے مضامین اور اس ناچیز کے اداریوں کے اقتباسات بکثرت اپنے ہفت روزے میں شائع کئے ۔
میرے ذہن میں اداریوں کے بارے میں تصور یہ تھا کہ وہ محض حالات حاضرہ پر تبصروں پر ہی مشتمل نہ ہوں، بلکہ اُن کے ذریعے اسلامی زندگی کے مختلف پہلووں پر اس طرح گفتگو ہو کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اسلامی تعلیمات پر کس طرح عمل کیا جائے، اور ان تعلیمات پر خاص طورسے مغربی افکار سے متأثر لوگوں کو جو شکوک وشبہات ہیں ، انہیں عام فہم انداز میں دور کرنے کی کوشش کی جائے، اس لئے ایک مدت تک اس نقطۂ نظر سے اداریے لکھنے کے نتیجے میں اسلام کی معاشرتی، معاشی ، سیاسی اور انفرادی اور اجتماعی تعلیمات کا اچھا خاصا مجموعہ تیار ہوگیا۔ چنانچہ اداریوں کا ایک مجموعہ شائع کرنے کا خیال ہوا۔اس کے لئے مناسب نام تو ” اسلام اور عصر حاضر” تھا ، لیکن اس سے پہلے محب مکرم مولانا سمیع الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ” الحق” میں لکھے ہوئے اپنے اداریوں کا مجموعہ اس نام سے شائع کرچکے تھے ۔ اس لئے میں نے اس مجموعے کانام” عصرحاضر میں اسلام” رکھا اور وہ مکتبہ دارالعلوم سے شائع ہوا۔ بعدمیں مکتبہ دارالعلوم کے اُس وقت کے ناظم مولانا فاروق القاسمی نے محسوس کیا کہ اب اس ضخیم مجموعے کے بجائے اُسے موضوعات کے لحاظ سے مختلف کتابچوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ چنانچہ بعد میں یہ اداریے نو مختلف کتابوں کی شکل میں شائع ہوئے ۔ “فرد کی اصلاح” ” اصلاح معاشرہ” “ہمارا نظام تعلیم” ” اسلام اور سیاست حاضرہ” “اسلام اور جدت پسندی” ” ہمارامعاشی نظام” ” نفاذ شریعت اور اُس کے مسائل”
۱۹۶۷ء میں صوبہ سرحد کاایک سفر
اسی سال پاکستانی ائیر فورس کے ایک ونگ کمانڈر حضرت والد صاحبؒ کے پاس آئے ، اور انہوں نے بتایا کہ ائیر فورس میں ایک مستقل شعبہ ” اسلامی تعلیم” کے لئے قائم کرنا طے ہوا ہے جس کا مقصد فضائیہ کے افسران اور ملازمین کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے ، تاکہ ان میں سچے مسلمانوں کی صفات پیدا ہوں۔ انہوں نے حضرت والد صاحبؒ سے اس معاملے میں دو درخواستیں کیں ۔ ایک یہ کہ اس شعبے کاطریق کار مرتب کرنے میں تعاون فرمائیں ، اور دوسرے یہ کہ ہمیں کوئی ایسا عالم دیں جوانگریزی سے بھی واقف ہو،اور اس شعبے کی نگرانی کرسکے ۔ فی الحال اس کا درجہ اسکواڈرن لیڈر کا ہوگا ، اُس کے بعد اُس میں مزید ترقی بھی ہوسکے گی ۔ساتھ ہی انہوں نے میرے بارے میں یہ فرمائش بھی کی کہ اس کام کے لئے آپ ان کو فارغ کردیں ۔ ائیر فورس کا ہیڈ کوارٹر چونکہ پشاور میں تھا ، اس لئے ضروری تھا کہ اس کام کے لئے قیام پشاور میں رہے ،اور دارالعلوم کی خدمت ترک کی جائے، اورحضرت والد صاحبؒ نے بھی یہ فرمایا ، اور خود میرا خیال بھی یہی تھا کہ میں دارالعلوم کے ذریعے جو ٹوٹی پھوٹی خدمت کررہا ہوں ، اُسے چھوڑکر کہیں اور جانا میرے لئے مناسب نہیں ہے ۔ البتہ ایک تجویز یہ آئی کہ شعبے کی بنیاد رکھنے کے لئے کچھ عرصے کے لئے میں اس شعبے کی خدمت انجام دوں ، اور جب وہ مناسب بنیادوں پر استوار ہوجائے ، تو دوبارہ دارالعلوم واپس آجاؤں ۔لیکن اس تجویز پر بھی عمل کرنے کے لئے یہ مناسب سمجھا گیا کہ ایک مرتبہ پشاور جاکر وہاں کے حالات اور کام کے امکانات کا جائزہ لیا جائے ، پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔چنانچہ حضرت والد صاحبؒ نے فرمایا کہ تم دونوں بھائی وہاں جاکر حالات کا جائزہ لو۔جب جانے کا وقت آیاتو مولانا حکیم سید مشرف حسین صاحب بھی (جو میرے بھانجے کم اور دوست زیادہ تھے)ساتھ چلنے کو تیار ہوگئے ، اور اس طرح بڑے بھائی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی کی سرکردگی میں ہم ۱۱؍ستمبر ۱۹۶۷ء کو پشاور پہنچے۔وہاں جاکر ائیر فورس کے حالات کا جائزہ لیا۔ متعلقہ حضرات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں ، لیکن ہمیں احساس ہوا کہ اول تو یہ کام ایک آدھے سال میں مکمل ہونے والا نہیں ہے ، دوسرے ایک مرتبہ ائیر فورس میں باقاعدہ شامل ہونے کے بعد ایک آدھے سال ہی میں اُس سے علیحدگی ضوابط کے لحاظ سے بھی مشکل ہوگی ۔ تیسرے میری عمرکے اُس وقت چوبیس سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے ۔ اس کم عمری میں ماحول پر اثرانداز ہونا بھی مشکل ہوگا ۔ اور چوتھی بات یہ تھی کہ ابتک میں والدین کے سائے اور بھائی بہنوں کی رفاقت سے کبھی دور نہیں ہوا تھا ، اور اس ماحول میں تنہا رہائش اختیار کرنا مجھے بھاری معلوم ہورہا تھا ۔ ان سب وجوہ کی بناپر بعد میں فیصلہ یہی ہوا کہ اس جگہ کے لئے کسی اور مناسب شخص کو تلاش کیا جائے جو بعدمیں ڈاکٹر فدا محمد صاحب کی شکل میں مل بھی گیا۔
یہ معاملہ تو اس طرح طے ہوا ، لیکن اس موقع پر ہم ایک نماز کے لئے مسجد مہابت خان پہنچے تو پتہ چلا کہ وہاں کی خطابت وامامت اور وہاں قائم مدرسہ اشرفیہ کا انتظام حضرت مولانا عبدالودود قریشی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد یوسف قریشی صاحب کے سپرد ہے ۔(افسوس ہے کہ جب میں یہ سطریں لکھ رہاہوں ، اُس سے چنددن پہلے ہی اُن کی وفات کی خبر ملی ہے ۔رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ) نماز کے بعد اُن سے ملاقات ہوئی ، تو وہ بڑی محبت سے پیش آئے ،اور انہوں نے اپنی روایات کے مطابق مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ انہی کی دعوت پر پہلی بار وہ کڑھائی گوشت کھانے کی نوبت آئی جو دراصل یہیں کی خصوصیت تھی ، بعدمیں لوگوں نے اس کے اصل طریقے میں نہ جانے کیا کیا تصرفات کرکے کس کس ملغوبے کا نام کڑھائی گوشت رکھ لیا ہے ، لیکن اس اصل کڑھائی گوشت کی لذت آج تک بھولتی نہیں ۔
انہوں نے ہی یہ پیشکش کی کہ آپ پشاور آئے ہیں ، تو یہاں کی کچھ خاص جگہوں سے لطف اندوز ہوں۔چنانچہ وہ ہمیں پہلے ورسک ڈیم لے گئے جو دریائے کابل پر بنا ہوا ہے ۔ مئی کا مہینہ تھا ، اور گرمی کے موسم میں ہم نے دریا میں نہانے کا لطف اٹھایا ، پھر انہوں نے بتایا کہ ورسک دراصل علاقے کا نام ہے جو آزاد قبائل کے علاقے میں واقع ہے ۔ اور کیا اچھا ہو کہ آپ ایک رات اس علاقے میں گذارکر قبائلی ثقافت اور روایات کو آنکھوں سے دیکھیں ۔ چنانچہ ورسک کے علاقے میں وہ ہمیں ایک پہاڑ پر لے گئے جو آزاد علاقے میں واقع تھا، اور وہاں ان کے ایک دوست کا مکان ، بلکہ چھوٹا سا قلعہ تھا ۔انہوں نے اپنی روایتی مہمان نوازی سے ہمارا استقبال کیا ، گرمی کے موسم میں شہر کی بجلیوں سے دور تارے بھروں آسمان کے نیچے پہاڑی پر رات گذارنے کا وہ منظر بھی بھولتا نہیں ، اور ساتھ ہی یہ منظر بھی کہ رات کے کھانے کے بعد اچانک ہم نے دیکھا کہ ہمارے میزبان جنگی لباس میں رائفل لٹکا ئے ہوئے اس طرح تیار تھے جیسے وہ کسی محاذ جنگ پر جارہے ہوں ۔ہم نے حیرت سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اُنہیں کسی ضرورت سے باہر جانا ہے ، اور ہم اپنے دشمنوں کی وجہ سے نہتے گھر سے نہیں نکل سکتے ، پھر انہوں نے ہمیں اپنے قلعہ نما مکان سے جس میں گولیاں چلانے کے لئے سوراخ بھی نظر آتے تھے ، کچھ فاصلے پر لے جاکر دکھایا کہ یہ ہمارا آبائی قبرستان ہے ، اور اس میں بہت بڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے کہ جو قبائلی جنگوں میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ پھر انہوں نے اس قبرستان کے پارکچھ دور ایک اور قلعہ نما مکان دکھاکر بتایا کہ یہ ہمارے چچا زاد بھائیوں کا قلعہ ہے جن سے ہمارے خاندان کی دشمنی ہے۔یہ باتیں سن کر جاہلی عرب کا نقشہ سامنے پھر گیا جس میں ان کی دشمنیاں عموماً اپنے چچا زاد بھائیوں سے ہوا کرتی تھیں ۔ ہم نے اپنے میزبانوں کو اس کے کچھ واقعات سناکر اُن سے درخواست کی کہ الحمد للہ اسلام نے عرب کی ان دشمنیوں کو ختم کرکے لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیا تھا ۔ آپ حضرات بھی کوشش کریں کہ یہ فضا اب ختم ہو ، اور اسلام کے سائے تلے سب ایک ہوجائیں ۔ یہ ۱۹۶۷ء یعنی اب سے ۵۴ سال پہلے کی بات ہے ۔الحمد للہ اب اس صورت حال میں کافی بہتری آئی ہے ۔
بہر کیف!یہ رات بڑی پرلطف گذری ۔ پشاور سے فارغ ہونے کے بعد ہمارا خیال ہوا کہ یہاں سے اکوڑہ خٹک بہت قریب ہے جہاں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوجائے ، اور ان کے صاحبزادے جناب مولانا سمیع الحق صاحب (جن سے ابتدائی ملاقات کا دلچسپ واقعہ میں ۱۹۵۶ ؁ ء کے واقعات میں ذکر کرچکا ہوں ) اُن سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔ چنانچہ ہم نے ایک دن رات اکوڑہ خٹک میں گذارے ۔ یادگار سلف شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی شفقت کا معاملہ فرمایا ، اوربرادر ان محترم جناب مولانا سمیع الحق صاحب اور مولانا شیرعلی شاہ صاحب(۱) کے ساتھ بڑی دلچسپ علمی اور ادبی نشستیں رہیں۔اکوڑہ خٹک حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے جہاد کا ایک اہم مرکز تھا جہاں بڑا زبردست معرکہ ہوا تھا ۔ سکھوں کی وہ گڑھی جس پر یہ معرکہ برپا ہوا ، وہ بھی دیکھی ، اور شام کے وقت قریب بہتے ہوئے دریائے کابل میں کشتی رانی کا بھی لطف اٹھایا ۔ میں نے ۱۹۶۵ ء کی جنگ کے موقع پر ” اے وادیٔ کشمیر” کے نام سے ایک نظم کہی تھی ، ان حضرات نے وہ نظم سنانے کی فرمائش کی ، چنانچہ میں نے تعمیل کی ۔ اب تک میں نے اپنی کوئی نظم یا غزل کہیں چھپوائی نہیں تھی ۔ مولانا سمیع الحق صاحب نے پہلی بار وہ اپنے ماہنامے “الحق” میں شائع کی ، اورادارتی نوٹ میں ان مجلسوں کا بڑی محبت سے ذکر کیا۔
پشاور اور اکوڑہ خٹک کا یہ سفر اتنا پرلطف رہا کہ اگلے سال مولانا سمیع الحق صاحبؒ کی فرمائش پر ہم نے اس علاقے کے ایک تفریحی سفر کا باقاعدہ پروگرام بنا لیا۔ حکیم مشرف حسین صاحب مرحوم اور میرے دوست جناب محمد کلیم صاحب بھی ساتھ ہوگئے ۔راولپنڈی میں مولانا قاری سعیدالرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں ایک رات گذاری ، اور وہ بھی اس سفر میں ساتھ رہنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ نیز حضرت مولانا نافع گل صاحبؒ کے صاحبزادے مولانا عبداللہ کا کا خیلؒ بھی ۔اکوڑہ خٹک میں ایک دوروز پرکیف مجلسوں میں گذارنے کے بعد ہم نے مولانا عبداللہ کاکا خیل صاحب سے درخواست کی کہ ہمیں شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق کار حضرت مولانا عزیر گل صاحب کی زیارت کا شوق ہے ۔ ان کا قیام مردان اور سوات کے درمیان ایک گاؤں سخاکوٹ میں تھا ۔ مولانا سمیع الحق صاحب ؒکے دوست جناب شفیق صاحب مرحوم بھی ساتھ ہوئے ۔چنانچہ ہم سات افراد کا قافلہ سخا کوٹ پہنچا ، یہ ایک نہایت سرسبز اور پُر فضا مقام تھا ۔ حضرت مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی ، اگرچہ حضرتؒ کی مادری زبان پشتو تھی ، لیکن حضرت شیخ الہند ؒ کی صحبت کی وجہ سے وہ دیوبند اور سہارنپور کی ٹکسالی زبان بھی بڑی خوبی سے بولتے تھے ۔ حضرتؒ نے اپنی شفقتوں سے نہال فرمادیا ۔ ان کے بھائی اورمولانا عبداللہ کا کا خیلؒ کے والد حضرت مولانا نافع گل صاحب ؒ بھی وہیں قیام فرما تھے ۔ دونوں بھائیوں کے درمیان قابل رشک محبت کے ساتھ ساتھ بڑی دلچسپ اور علمی انداز کی نوک جھونک بھی چلتی رہتی تھی ۔ غرض ان حضرات کی مجلسوں سے سب بڑے لطف اندوز ہوئے ۔
اسی دوران یہ دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ عشاء کی نماز کے لئے ہم نے قاری سعیدالرحمن ؒکی دلکش تلاوت کی وجہ سے درخواست کی کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہماری طرح وہ بھی مسافر تھے ، اس لئے انہوں نے قصر کرتے ہوئے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ۔ اتفاق سے ایک مقامی دیہاتی بھی نماز میں شریک ہوگیا تھا ۔ اُس نے امام کو سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ، تو اُس نے بھی سلام پھیر دیا ۔ مولانا سمیع الحقؒ نے اُسے اشارہ کیا کہ وہ کھڑے ہوکر نماز پوری کرے ، مگر وہ نہ سمجھا ، تو مولانا نے اُسے پشتو میں سمجھایا کہ امام مسافر ہیں ، اس لئے انہوں نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں ، آپ چونکہ مقامی آدمی ہیں، اس لئے آپ پوری نماز پڑھیں ۔ اس کے جواب میں اُس دیہاتی نے پشتو میں جو کچھ کہا ، سب لوگ اُس پر ہنس پڑے ۔ ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا ہے کہ “کیا تم سفر میں آدھی روٹی کھاتے ہو؟ اگر نہیں ، تو نماز کو آدھا کرنے کا کیا جواز ہے ؟”
سخاکوٹ سے ہم سوات کے دروازے بٹ خیلہ پہنچے جہاں دوپہرکوعلاقے کے ایک سردار نے دوپہر کے کھانے کاانتظام کیا ہوا تھا ۔اس کھانے میں انہوں نے انواع واقسام کے پرندوں کا گوشت جمع کیا ہوا تھا ، اور اسے پکایا بھی اتنی خوبی سے تھا کہ اُس کھانے کی لذت آج بھی یادہے ۔اس کے بعد ہم بحرین سے ہوتے ہوے کالام پہنچے ،قدرتی نظاروں کی یہ حسین وادی ہم صحرا کے رہنے والوں کو مبہوت کرگئی ۔ ایک رات وہاں گذارکر واپس ہونے کاارادہ کیا ، تو معلوم ہوا کہ بارشوں کی وجہ سے راستے مخدوش ہیں ، اور بس سروس بند ہوگئی ہے ۔لیکن پھر ایک ٹرک جانے کے لئے تیار ہوگیا ، اُس پر سوار ہوکر ہم کسی طرح منگورہ پہنچ گئے ۔ وہاں سے ہم نے بالا کوٹ جانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا ، چنانچہ ایبٹ آباد سے ہوتے ہوئے بالاکوٹ کا سفرکیا جہاں حضرت مولانا محمد اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزارپر سلام عرض کرنے کی سعادت ملی ۔یہ تمام علاقہ پہاڑوں اور سبزہ زاروں سے بھرا ہوا ہے ، اور یہیں پر اُس معرکے کی یادگاریں آج تک مجاہدین کے جذبے ، ولولے اور شوق شہادت کی داستانیں سناتی ہیں ۔یہاں سے ایبٹ آباد واپس آکر ہم نتھیا گلی کے راستے مری پہنچے۔ ایبٹ آباد سے نتھیا گلی اور پھرمری تک کاپورا خطہ برف پوش پہاڑوں اورسبزہ وگل کے قدرتی مناظر سے مالا مال ہے ، اور اسی سفر کے دوران میں نے اپنی نظم “مری کی شام” کہی تھی ، جو باربار اصرار کرکے سُنی گئی۔
اسلام آباد انٹرنیشنل کانفرنس۱۹۶۸ء
یہ صدرمحمد ایوب خان صاحب مرحوم کی حکومت کا زمانہ تھا ۔یوں تو ان کے دور میں پاکستان کے معاشی حالات پہلے سے بہتر ہوئے تھے ، لیکن ایک طرف سیاسی جماعتیں ان کے دور کو آمریت کا دور قرار دیتی تھیں ، دوسری طرف دینی حلقے اُن سے اس لئے ناخوش تھے کہ انہوں نے ادارۂ تحقیقات اسلامی کی سربراہی ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب کو سونپ دی تھی ، جو میکگل یونی ورسٹی سے اسلامی علوم پر پی ایچ ڈی کرکے آئے تھے ، اور انہوں نے اسلام کو مغربی افکار کے مطابق گھڑنے کے لئے امت کے اجماعی مسلمات کو اپنی “ریسرچ” کا تختۂ مشق بنایا ہوا تھا ، اور ان کے نت نئے افکار نے ملک بھر کے علمی حلقوں میں نئے مباحثے کا دروازہ کھول دیا تھا ۔ان کی ان کاوشوں کو دینی حلقوں کی طرف سے “تحریف دین” قرار دیا جا رہا تھا ۔ میں نے بھی البلاغ میں اداریے کے طورپر اُن کے متعدد افکارپر کئی سنجیدہ مضامین لکھے تھے ، جو “علماء اور وقت کے تقاضے” ، “تحقیق یا تحریف؟” “نئی تعبیر”وغیرہ کے عنوان سے شائع ہوئے ۔
اسی دوران ادارۂ تحقیقات اسلامی کی طرف سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کاپروگرام بنایا گیا، جن میں وہ بیشتر موضوعات زیر بحث رکھے گئے جن میں پاکستان کے علماء ادارۂ تحقیقات اسلامی سے اختلاف رکھتے تھے ۔ اس کانفرنس میں شیخ الازہر سمیت دنیائے اسلام کے بڑے نامور علماء کو دعوت دی گئی ۔ عام طور سے خیال یہ تھا کہ اس کانفرنس سے ادارۂ تحقیقات اسلامی کا مقصد خاص طورپر عرب ملکوں کے علماء سے اپنے طرزفکر کی تائید حاصل کرنا ہے ۔حضرت والد صاحب ؒ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒاور حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ؒ کو بھی اس میں دعوت دی گئی تھی ۔ان حضرات کو شروع میں یہ تأمل رہا کہ اس میں شرکت مناسب ہے یا نہیں ؟ لیکن آخر کار رائے یہی ہوئی کہ عالم اسلام کے مشہور علماء کرام تشریف لارہے ہیں ، اور اس میں فعال شرکت کرکے دلائل کے ساتھ اپنا موقف ظاہر کرنا چاہئے۔کانفرنس کے موضوعات میں ” اسلام کا نظام تقسیم دولت ” ایک اہم موضوع تھا، جس میں سرمایہ دارانہ نظام اوراشتراکیت دونوں پر بحث ہوسکتی تھی،اور یہی دو نظام تھے جن سے متأثر ہوکر مغربی جدیدیت کے مبلغ اسلامی احکام میں تبدیلیوں کے خواہاں تھے۔اس لئے حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ موضوع مقالہ لکھنے کے لئے اختیار فرمالیا ، اور مجھے کچھ زبانی ہدایات دیکرحکم دیا کہ اُس کا ابتدائی مسودہ میں تیار کروں ۔ چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ مقالہ لکھنا شروع کیا ۔ حضرت والد صاحبؒ کی دعائیں شامل حال تھیں ۔الحمد للہ!وہ تیار ہوگیا ۔ حضرت والد صاحبؒ نے اُس پر نظر ثانی فرمائی، اور بعض چیزوں کااضافہ کیا ۔ یہ کانفرنس ۱۰؍ فروری ۱۹۶۸ ء مطابق ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۳۸۷ھ کوراولپنڈی کے انٹر کانٹی ننٹل ہوٹل میں منعقد ہورہی تھی (جس کا نام اب پرل کانٹی ننٹل ہوگیا ہے) حضرت والد صاحبؒ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔کانفرنس میں واقعی عالم اسلام کے نامور علماء موجود تھے جن میں مفتی ٔ اعظم فلسطین سید امین الحسینی ، ازہر کے ریکٹر شیخ باقوری ، لیبیا کے قاضی القضاۃ شیخ منصورالمحجوب، مصر کے ڈاکٹر حب اللہ وغیرہ شامل تھے ۔ ان سب سے ملاقات ہوئی ، اور کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں حضرت والد صاحبؒ نے اپنا مقالہ پیش فرمایا جسے بہت سراہا گیا ۔ اجتہاد کے موضوع پر علماء کرام نے بڑا معتدل اور متوازن نقطۂ نظر پیش کیا ۔البتہ بعض دوسرے پاکستانی حضرات کے مقالات مغربی جدیدیت کے آئینہ دار تھے ۔ ان پر حضرت بنوری ؒ اور حضرت مفتی محمود صاحب ؒ نے تنقید فرمائی اس کانفرنس کی پوری روداد میں نے لکھی تھی جو البلاغ کے شمارے محرم الحرام ۱۳۸۸ھ جلد دوم ص ۳۱ سے ص ۴۲میں شائع ہوئی ۔
اسلام آباد شہر اُس وقت بننا شروع ہی ہوا تھا ۔جہاں آج وزارت خارجہ کا دفتر ہے ، وہاں اسلام آبادکا واحدہوٹل شہرزاد ہوا کرتا تھا ۔وزارت قانون کی طرف سے وہاں ایک شام عشائیہ دیا گیا ، اور مندوبین کو نئے شہر کے مختلف مقامات کی سیر بھی کرائی گئی ، اس کے علاوہ بھی مندوبین کے اعزاز میں کئی دعوتیں ہوئیں۔ ان میں سے بعض مواقع پر مفتی ٔ اعظم فلسطینؒ کی تقریر ہوئی ، تو اس کا اردوترجمہ مجھ سے کرایا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر لیکن جب مندوبین کو ایک سیاحتی بس کے ذریعے لاہور لے جانے کاپروگرام بنایا گیا جس کے دوران وہ پاکستان کی خوبصورت زمین بھی دیکھ سکیں۔ حضرت والد صاحبؒ اپنے ضعف اور مصروفیات کی وجہ سے اس پروگرام میں شرکت نہیں فرما رہے تھے ، اور مجھے بھی ان کے ساتھ واپس جانا تھا ، لیکن اس موقع پرغالباً مفتی ٔ اعظم فلسطین ؒ نے حضرت والد صاحبؒ سے فرمایا کہ تقی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں ، تاکہ وہ ہماری ترجمانی کرسکے ۔ حضرت والد صاحبؒ نے مجھے اجازت دیدی ، اور میں ان حضرات کے ساتھ روانہ ہوگیا، اور راستے میں منگلاڈیم سمیت کئی جگہ قیام ہوا ۔ اورآخر میں گوجرانوالہ میں حضرت مولانا سرفراز خان صاحب صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسے نصرۃ العلوم میں بھی ایک دعوت ہوئی ، اور میں ترجمانی کے فرائض انجام دیتا رہا۔آخرکار لاہور پہنچ کر اس سفر کا اختتام ہوا ۔

(ماہنامہ البلاغ :ذیقعدہ ۱۴۴۱ھ)

جاری ہے ….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭