حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم
مطالعے کے سلسلے میں کچھ یادیں ، کچھ تأثرات

پاکستان کی نامور علمی اور سیاسی شخصیت حضرت مولانا سمیع الحق صاحب زید مجدہم کا حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے نام ایک مفصل گرامی نامہ موصول ہوا تھا جس میں مولانا نے علمی ومطالعاتی زندگی کے حوالے سے ایک مفصل سوالنامہ کے جوابات تحریر کرنے کی فرمائش کی تھی ، یہی سوالنامہ کئی سال پہلے بھی مختلف ارباب علم ودانش کی خدمت میں بھی گیا تھا ، جن کے جوابات پہلے ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک میںاور پھر “میری علمی ومطالعاتی زندگی ” نامی کتاب میں شائع ہوچکے ہیں ، اس حوالے سے مولانا موصوف لکھتے ہیں:
“کئی سال پہلے راقم نے مشاہیر علم وفضل ، ارباب علم ودانش خصوصاً ممتاز محققین ، مصنفین ، مفسرین،محدثین، اُدباء ومورخین اور صحافی حضرات کو سوالنامہ ارسال کیا تھا جس میں ان کی علمی اورمطالعاتی زندگی کے حوالے سے دریافت کیا تھا۔
ان اکابر علماء ومشاہیر نے ہماری دعوت کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اپنی بھرپور علمی اور مطالعاتی زندگی کے تجربات ، مشاہدات اور اس سلسلے کی مفید آراء وافکار پر مشتمل مفصل جوابات اور وقیع مضامین تحریر کئے جو وقتاً فوقتاً الحق کے صفحات کی زینت بنتے رہے ۔بعد میں دارالعلوم حقانیہ کے شعبہ ریسرچ وتحقیق موتمر المصنفین نے اُسے کتابی شکل میں شائع کیا ۔ جو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئے ۔
آج کے دور کے اکابر، اہل قلم اور محقق آپ ہی ہیں جو مختلف تحقیقی موضوعات پر سند کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہی سوالنامہ دوبارہ معمولی حک واضافہ کے ساتھ ارسال خدمت ہے ۔امید ہے کہ آنجناب اس سوالنامے پر غور وخوض فرماکر اپنے وسیع تر مطالعے کی بنیاد پر تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں گے۔آپ کا یہ طویل ترین اور صبر آزماعلمی اور مطالعاتی سفر ہزاروں قارئین اور طالبان حق کے لئے ان شاء اللہ رول ماڈل ثابت ہوگاجس پرآگے چل کر وہ اپنے تابناک مستقبل کی بنیاد استوار کرسکیں گے ۔ “
حسن اتفاق سے اسی طرح کا ایک سوالنامہ جناب پروفیسر محمد ظفر اقبال صاحب کی جانب سے بھی حضرت والا مدظلہم کو موصول ہواتھا،حضرت والا دامت برکاتہم نے دونوں سوالناموں کا ایک مشترک جواب تحریر فرمایا ہے جو البلاغ کے ان صفحات میں پیش خدمت ہے ۔(ادارہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم ، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، وعلی کل من تبعہم باحسان الی یوم الدین
أمابعد،
پچھلے دنوں مجھے اپنے مطالعے کے تجربات سے متعلق دوسوالنامے موصول ہوئے ، جن میں سے ایک سوالنامہ برادر گرامی قدر حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کی طرف سے تھا، اس قسم کاایک سوالنامہ وہ ماہنامہ “الحق ” کی طرف سے کئی سال پہلے بھی مختلف اہلِ علم اور اہلِ قلم کے پاس بھیج چکے ہیں اور اُن کے جوابات بھی “الحق” میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ اسی قسم کا ایک سوالنامہ دوبارہ نئے اہلِ قلم کے پاس بھیجاگیا ہے ۔ دوسراسوالنامہ پروفیسرمحمد ظفراقبال صاحب کی طرف سے بندے کو موصول ہوا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ میں کیا؟اور میرامطالعہ کیا؟اس قسم کے سوالناموں کا مفید جواب دینے کے لئے جو علم وفضل اور وسیع اور عمیق نگاہ ہونی چاہئے اس سے اپنے آپ کو تہی دامن پاتاہوں ،اس لئے مدت سے یہ سوالنامے میرے پاس اس حیرت کے عالم میں رکھے ہیں کہ ان کا کیا جواب دوں ؎

نہ گلم ، نہ یاسمینم، نہ درختِ سایہ دارم
ہمہ حیرتم کہ دہقاں بچہ کار کشت مارا

دوسری طرف پے درپے مصروفیات اور اسفار نے بھی ان سوالات کی طرف متوجہ ہونے کا موقع نہیں دیا، اب جبکہ میں ایک علالت سے الحمد للہ روبصحت ہوں ، اور صرف ہلکے پھلکے کام ہی کرسکتا ہوں ، خیا ل آیا کہ ان دوفرمائشوں کو اپنی بساط کی حدتک پوراکرنے کی کوشش کروں۔ سوالناموںکا نمبر وار جواب تو مجھے اب بھی مشکل معلوم ہورہا ہے ، لیکن مطالعہ کے سلسلے میں اپنی کچھ یادیں اور کچھ تأثرات کسی خاص ترتیب کے بغیر املاء کرارہاہوں ؎

در یں کتابِ پریشاں نہ بینی ازتر تیب
عجب مدارکہ چوں حالِ من پریشان است

میں نے جب سے آنکھ کھولی اپنے گھر کے ایک بڑے حصے کو کتابوں کی الماریوں سے بھراہوادیکھا ، میرے والدِ ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کتابوں کو اپنی سب سے بڑی پونجی سمجھاکرتے تھے ، قلیل آمدنی کے باجود اس کا اچھا خاصا حصہ کتابوں کی خرید اری پر صرف فرماتے، اور جب ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کی، تو اپنا گھربار وغیرہ سب چھوڑ کر آئے، لیکن کتابوں کا ذخیرہ جتنا ساتھ لاسکتے تھے وہ ساتھ لائے اور جو ساتھ نہ آسکا اُسے منگوانے کے لئے ہرطرح کی کوششیں فرمائیں، یہاں تک کہ وہ ساراپاکستان منتقل ہوگیا۔یہاں تک کہ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکان میں علمی اور دینی کتابوںکا اتنا ذخیرہ ہوگیا تھا کہ حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ بعض اوقات کسی مسئلے کی تحقیق اور کتابوں سے رجوع کرنے کے لئے حضرت والد صاحب ؒ کے پاس آیا کرتے تھے ۔
اپنے چاروں طرف کتابیں تو نظر آتی تھیںاور حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کا ان کے ساتھ شغف بھی روزانہ دیکھتا تھا ، اور اس کی بناء پر کتابوں سے انجانی سی محبت بھی معلوم ہوتی تھی ،اور اُن میں سے کئی کتابوں کے نام بار بار دیکھ کر یاد ہوگئے تھے، لیکن اُن کے مضامین کی معرفت اور اُن سے استفادہ اپنی پہنچ سے باہر تھا، یہاں تک کہ جب میں نے اپنی عمر کے دسویں سال میں عربی پڑھنے کا آغاز کیا تو اساتذہ بھی ایسے ملے جو کتابوں کے دلدادہ تھے ، خاص طورپر حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وسعتِ مطالعہ ان کے ہردرس سے جھلکتی تھی ، انہوں نے رفتہ رفتہ کتب بینی کا شوق پیدا کیااور کبھی کبھی کسی کتاب کی طرف رہنمائی فرماکر اس کے مطالعے کا حکم دیتے،شروع میں یہ مطالعہ سیرتِ طیبہ اور صحابۂ کرام ؒ کے حالات کی حدتک تھا ۔پھر جوں جوں درسِ نظامی کی تعلیم آگے بڑھتی گئی ، رفتہ رفتہ دوسری علمی کتابوں کو بھی دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ کے پاس حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ بکثرت تشریف لایا کرتے تھے ، اور جب دونوں جمع ہوتے تو ان کا موضوعِ گفتگو زیادہ تر مختلف کتابوں اور ان کے مؤلفین کا تذکرہ ہوتا تھا ۔ اس سے رفتہ رفتہ یہ جستجو پیدا ہوئی کہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے گھر میں کتابوں کا جو ذخیرہ رکھا ہواتھا اُس سے راہ ورسم پیدا کی جائے ۔
چنانچہ جب میں چودہ پندرہ سال کی عمر میں تھا، اُس وقت میرایہ محبوب مشغلہ ہوگیا کہ چھٹی کے دنوںمیں ،میں نے حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیا ، اور جس ترتیب سے الماری میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں،اسی ترتیب سے میں کتابوں کو کھول کر دیکھتا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا کہ کتاب کا مصنف کون ہے ،کس موضوع پر وہ لکھی ہوئی ہے ، اور اس کی فہرستِ مضامین پر بھی نظر ڈالتا اور فہرستِ مضامین میںجو موضوع دلچسپ نظرآتا اس کو اپنی بساط کی حدتک پڑھنے کی بھی کوشش کرتا ۔ یہاں تک کہ گھر کے کتب خانے کی ساری کتابوں کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل ہوگئیں۔ پھریہی کا م میں نے دارالعلوم کے کتب خانے کے ساتھ بھی کیا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آئندہ جب کسی مسئلے کی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی تو خود سے یاد آجاتا تھا کہ یہ مسئلہ کس کتاب میں دیکھنا چاہئے۔
بچپن ہی سے اپنے گھر کے ماحول اور اپنے اساتذئہ کرام کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں مجھے شعر وادب سے بھی خصوصی مناسبت ہوگئی تھی۔حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے پاس ملک اور بیرونِ ملک سے بہت سے رسائل وجرائد آیا کرتے تھے ۔تقریباً وہ سب اپنی دلچسپی کی حدتک نظر سے گزرتے رہتے تھے ۔ادب وانشاء کے شوق ہی کی بناء پر میں نے اس دور کے مشہور اہل قلم کی کتابیں بھی ذوق وشوق سے پڑھیں، جن میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ،حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہم اللہ وغیرہ بطورخاص قابل ذکر ہیں ۔مولانا ابوالکلام آزاد کی “غبار ِخاطر”بڑے شوق سے پڑھی۔ادب وانشاء کا یہ شوق مجھے بلالحاظِ مسلک ومشرب ہر قسم کے اہل قلم کی تحریریں پڑھنے کی طرف لے گیا۔الحمد للہ اپنے والد ماجد ؒ اور اساتذئہ کرام کی تربیت کے نتیجے میں کسی غلط نظرئیے سے تأثر کبھی پیدانہیں ہوا، لیکن اسلوب ِ نگارش کے حوالے سے میں نے ہرطرح کے مصنفین سے استفادہ کیا،خاص طورپر مغربی افکار اور نظریات کو سمجھنے اور اس پر تنقید کے سلسلے میں مجھے جو کتاب بھی نظر آتی اُس سے بقدر ضرورت استفادہ کر تاتھا۔اسی ذیل میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی بیشتر کتابیں بھی مطالعہ میں آئیں۔بہت سے مسائل میں اختلاف کے باوجود ادب وانشاء کے لحاظ سے ان کا اسلوب تحریر مجھے بہت اچھا لگا، اور پھر جو تنقیدیں مختلف اطراف سے ہوئیں وہ بھی مطالعہ میں آئیں جس کے نتیجے میں بحمد اللہ یہ احساس بھی پیدا ہواکہ اس اسلوب تحریر میں کون سی باتیں ایسی ہیں جن سے ایک معتدل تحریر کو پرہیز کرناچاہیے۔
یہ سب رسمی طالبعلمی کے زمانے کے مطالعے سے متعلق تھا۔جب تدریس وتالیف کی عملی زندگی میں قدم رکھا تو زیادہ تر مطالعہ اپنی زیر تدریس کتابوں اور زیر تالیف مضامین کی حدتک محدود ہوگیا۔ لیکن تدریس کے دوران بھی طبیعت کچھ ایسی رہی کہ جو مضمون یا کتاب پڑھانی ہوتی اس کے جملہ متعلقات اپنے پاس جمع کرکے رکھتا تھا، اور ان کے مطالعہ میں خاصا وقت صرف کرتاتھا ۔البتہ اُس میں سے طلبہ کو صرف اتنی بات بیان کرنے کے لئے منتخب کرتا جو ان کی ذہنی سطح اور ضررورت کے مطابق ہو۔ چنانچہ جب عربی نحو پڑھانے کا وقت آیا تو اس کی معروف ومتداول شروح کے علاوہ موضوع کی دوسری اہم کتابیں بھی سامنے رکھا کرتا تھا۔ کسی کتاب کے شروع میں عام طور سے مقدمۃ العلم کے طورپر کچھ مباحث بیان کرنے کا دستور شروع سے چلاآتا ہے ۔ جب مجھے عربی نحو کی اعلیٰ کتابیں شرح جامی وغیرہ پڑھانے کی نوبت آئی تو مجھے یاد آیا کہ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی کتابوں میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی ایک کتاب “الاقتراح فی أصول النحو” میں نے اپنی کتابوں کی جستجو کے زمانے میںدیکھی تھی ، چنانچہ میں نے اس کا ازاوّل تا آخر مطالعہ کرکے اس کے مباحث کا خلاصہ مقدمۃ العلم کے طورپر بیان کیا ، جو خود میرے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ اسی طرح عربی ادب پڑھاتے وقت وہ چارکتابیں جنہیں ادب کے ارکان اربعہ کہا جاتا ہے ، یعنی “أدب الکاتب” لابن قتیبہ “البیان والتبیین” للجاحظ”الکامل”للمبرد اور “الأمالی”لأبی علی القالی، ان میں سے أمالی تو مجھے میسر نہ آسکی ، لیکن باقی تین کتابوں سے بھر پور استفادہ کیا۔
بیرونی اسفار کے دوران میرے اوقات کا ایک بڑاحصہ وہاں کے کتب خانوں کی سیر کا ہوتا تھا۔ اس جستجو میں ایسے کتب خانوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی جنہیں عرف عام میں کباڑی کہا جاتا ہے، اور بعض اوقات میں نے کئی کئی گھنٹے بوسیدہ کتابوں کی چھان بین میں گذارے ، یہاں تک کہ کپڑے گردوغبار سے اٹ گئے۔
اسی طرح کتاب یا مضمون کی تالیف کے لئے جن کتابوں کی ضرورت پڑتی تھی، ان کا بقدر ضرورت مطالعہ کرنے کا معمول تھا، اور باطل نظریات وافکار کی تردید میں کچھ لکھتے وقت شروع سے اس بات کا اہتمام والتزام کیا کہ جس پر کوئی تنقید کرنی ہواس کی بات خوداس کی تحریر وتقریر سے پورے سیاق وسباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے اورپھر اُس پر تنقید کی جائے ۔ چنانچہ جب عیسائیت پر کام کیا تو جو کتابیں عیسائیت کی تردید میں لکھی گئی ہیں ، اُن سے زیادہ ان کتابوں کا مطالعہ کیا جو خود عیسائی علماء نے اپنے مذہب کی تائید ونصرت میں لکھیں ، تاکہ جو تنقید یا تردید ہو وہ اُن کی مسلّم باتوں کی بنیاد پر ہو،اور کوئی ایسی بات ان کی طرف منسوب نہ کی جائے جو ان کے اپنے اعتراف کے بغیر ہو۔اسی طرح جب مرزائیوں کے بارے میں لکھنے کی نوبت آئی تو ان کی تردید میں لکھی ہوئی کتابوں سے زیادہ خود ان کی اپنی کتابوں کو پورے سیاق وسباق کے ساتھ دیکھ کر اور ان کا مفہوم پورے اطمینان واعتماد کے ساتھ سمجھ کر ان پر تبصرہ کیا۔یہی طرزِ عمل تجدّد پسندوں کے افکار ونظریات متعلق بھی پیش نظر رہا۔
جب یہ سوال کیاجاتا ہے کہ کن کتابوں اور مصنفین نے سب سے زیادہ متأثر کیا توعلمی تأثر کے اعتبار سے کتابوں اور مصنفین کی ایک طویل فہرست ذہن میں آجاتی ہے، جس کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کس کو کس پر ترجیح دی جائے ؎

زفر ق تا بقد م ، ہر کجا کہ می نگر م
کر شمۂ دامنِ دل می کشد کہ جاایں جاست

لیکن خالص اور نظریاتی مقاصد سے ہٹ کر صرف اپنی اصلاح اور عملی زندگی پر اثرات کے نقطۂ نظر سے اپنی محسن کتابوں کے بارے میں سوال کیا جائے تو میراایک ہی جواب ہوگا ، اور وہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ کے مواعظ کا ذخیرہ ہے ۔ ابتدائی مطالعے کے دور میں حضرت کی تالیفات اور مواعظ وملفوظات اپنی فہم وادارک کی پہنچ سے بالاتر بھی معلوم ہوتے تھے ، اس لئے انہیں دلچسپی کے ساتھ پڑھنے کے مواقع کم آئے ، لیکن حضرت والدِ ماجد رحمہ اللہ اور اپنے شیخ حضرت عارفی قدس اللہ سرہ کی ہدایت پر روزانہ معمول کے طورپر جب مواعظ کا مطالعہ شروع کیا تو رفتہ رفتہ اُن میں دلچسپی اس قدر بڑھی کہ شروع کرنے کے بعد کسی حد پر رُکنا طبیعت پر بار ہونے لگا۔ اندازہ ہوا کہ ان مواعظ میں علوم ومعارف کا ایسا دریا موجزن ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ، خاص طورپر دین کی صحیح سمجھ ، اس کی حدود کی پہچان اور نفسِ انسانی کی معرفت اور اس کو اصلاح کے راستے پر لگانے کی جو تدبیریں اُ ن میں نظر آئیں ، وہ اپنی نظیر آپ ہیں ۔ اپنی عملی اصلاح سے تو اب بھی اپنی نااہلی کی وجہ سے محروم ہوں ، لیکن دین کا راستہ ان مواعظ کی بدولت الحمد للہ ذہن میں اتنا صاف اور منقح ہوگیا کہ اُ س میں کوئی شک باقی نہیں رہا۔
مغربی افکار کے غلبے سے جو گمراہیاں یا غلط فہمیاں ہمارے دور میں پیداہوئیں ان کے بارے میں میں نے اپنے زمانے کے مشہور اہل قلم کی تحریریں بڑی حدتک پڑھی ہیں، اور اُن سے استفادہ بھی کیا ہے۔ان میں سے کسی کو شش کی بھی ناقدری نہیں کی جاسکتی ، لیکن ان گمراہیوں اور غلط فہمیوں کی جو اصل بنیاد ہے اُ س پر جتنا جامع تبصرہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب “الانتباہات المفیدۃ” اور اس کی شرح “حل الانتباہات” میںموجود ہے ، شاید اس کا کوئی ثانی نہیں۔اسی لئے میں نے جناب پروفیسر محمد حسن عسکری صاحب مرحوم سے فرمائش کرکے اس کا انگریزی ترجمہ کروایا، نیز اپنے ایک رفیق مولانا نورالبشر صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ سے اس کا عربی ترجمہ کراکے شائع کیا۔
جب سے تدریس اور تصنیف وتالیف میں اشتغال بڑھا شوقیہ مطالعے کے مواقع بہت کم ملتے ہیں ، اور بہت سی کتابیں اس انتظار میں بھی رکھی رہتی ہیں کہ ذرامہلت ملے تو اُن سے استفادہ کرسکوں،لیکن مصروفیات اور اسفار کے ہنگاموں میں بھی کچھ نہ کچھ وقت اپنے شوق کی تسکین کے لئے نکال لیتا ہوں ، چاہے وہ سرسری انداز ہی میں ہو، لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ نرامطالعہ انسان کی زندگی پر اتنا اثر اندازنہیں ہوتا جتنا اثر کسی شخصیت کی صحبت اور اس کے مطالعے سے ہوتا ہے ۔نرے مطالعے سے معلومات میں اضافہ توہوجاتا ہے لیکن صحیح فہم ، اعتدال ِ مزاج اور اصلاحِ نفس شخصیات کی صحبت ہی سے حاصل ہوتی ہے ؎

نہ کتابوں سے نہ کالج سے نہ زرسے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگو ں کی نظر سے پیدا

ان چند بے ربط سی باتوں پر اپنی گذارشات ختم کرتا ہوں۔ اگر ان سے آپ کا مقصد پورانہ ہوتا ہو، تو بندہ کی کم فہمی پر محمول فرماکر ان کوضائع فرمادیں، بندے کو ان کی اشاعت نہ ہونے کی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

والسلام
بندہ محمد تقی عثمانی
۱؍۴؍۱۴۳۶ ھ

(ماہنامہ البلاغ – محرم الحرام 1437ھ)