خطاب: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
ضبط وترتیب: _____امتیاز علی مردانی

مساجد ،عبادت وخدمتِ دین کے مراکز

بتاریخ ۱۱؍محرم الحرام ۱۴۳۸ ھ (۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۶ ء ) جمعرات کے روز ملک کی معروف علمی درسگاہ “جامعہ خیر المدارس ملتان”، میں ایمان افروز اور بابرکت تقریب منعقد ہوئی جس میں جامعہ کی نئی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ جامعہ کے مہتمم جناب قاری محمد حنیف جالندھری صاحب مدظلہم کی دعوت پر نائب رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے بھی اس تقریب میں شرکت فرمائی اور حاضرین سے خطاب فرمایا۔ یہ مفید خطاب ہدیۂ قارئین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ)

سب سے پہلے میں اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرتا ہوںکہ اس نے ایک ایسی مبارک مجلس میں شرکت کی سعادت عطا فرمائی، جو جامعہ خیر المدارس کی جامع مسجد کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھنے کے سلسلے میں منعقد کی گئی ہے،اللہ جل جلالہ نے اس سعادت میں جو حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی، اس پراللہ تبارک و تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔یہ اللہ جل جلالہ کا انعام و کرم ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے منتخب فرمالے ، یا اس گھر کی تعمیرمیں کسی بھی طرح حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے، یہ اللہ جل جلالہ کا محض فضل و کرم ہے،ابھی جس آیت کی مولانا حنیف صاحب نے تلاوت کی تھی :”وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ” (البقرۃ 127)
اللہ جل جلالہ نے اس منظر کا تصور کرنے کی دعوت دی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے ، وہ منظر اللہ تبارک و تعالیٰ کو اتنا پسند آیاکہ اس کا تصور کر نے کی دعوت دی کہ”اس وقت کو یاد کرو، اس وقت کا تصور کروکہ جب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے”۔اور بنیادیں اٹھانے کے ساتھ جس بات کا خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، اس میں ہم سب لوگوں کے لیے سبق ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی ادا پسند آئی، وہ ادا یہ تھی ، کہ اتنا عظیم الشان کارنامہ انجام دے رہے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا گھر تعمیر ہو رہا ہے ،وہ گھر جس کو قرآن کریم نے فرمایاکہ :وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا (البقرۃ125)
یہ وہ گھر ہے جہاں لوگ لوٹ لوٹ کر بار بار جائیں گے ، یہ وہ گھر ہے جس کے بارے میں یہ دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ ،لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے کہ لوگ اس گھر کی طرف کھچ کھچ کرآئیں۔ وہ عظیم الشان گھر تعمیر فرما رہے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام، اتنا عظیم الشان کارنامہ انجام دے رہے ہیں مگر زبان پر جو کلمات ہیں ، وہ یہ ہیں :” رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ” (البقرۃ127)
اس عظیم الشان کارنامے پر کوئی گردن اکڑی ہوئی نہیںہے، کوئی سینہ تناہو انہیں ہے،کسی عجب اور تکبر کا شائبہ نہیں ہے، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں سر جھکا کریہ فرما رہے ہیں کہ میرے پروردگار ہم سے اس خدمت کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما،” رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ” ۔
سبق اس لئے دیا جارہا ہے کہ اللہ جل جلالہ کو یہی ادا پسند ہے کہ جس کسی نیک کام کی تو فیق ہو جائے، اس کے بارے میں اس کا اعتراف کیا جائے کہ وہ اسی ذات کی توفیق سے ہوا ہے یہ کوئی اِترانے کی بات نہیں، یہ کوئی اکڑنے کی بات نہیں، تکبر کرنے کی بات نہیں، اللہ جل جلالہ کی تو فیق پر شکر ادا کرنے کا موقع ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے مانگنے کا موقع ہے کہ اے پروردگار اس کام کو قبول فرما۔
اور دوسری دعا یہ فرمائی کہ :”رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُسْلِمَۃً لَکَ “(البقرۃ128)
بیت اللہ تو ہم نے آپ کی توفیق سے تعمیر کردیا، لیکن آگے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ہم آپ کے تابعدار بن جائیں،”وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ” ہم بھی تابعدار بن جائیں اور ” وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّۃً مُسْلِمَۃً لَکَ ” ہماری اولاد سے بھی ایسی امت پیدا ہو کہ وہ آپ کی تابعدار ہو۔ تو اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کو جو ادا پسند آرہی ہے وہ یہ ہے کہ تعمیر مسجد کے اوپر کوئی غرور اور فخر کا شائبہ نہیں، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں سر جھکا کرپہلے تو یہ دعا مانگی جائے کہ اے اللہ قبول فرما اور دوسری دعا یہ مانگی جارہی ہے کہ اے اللہ ہمیں اپنا تابعدار بنا دے۔
مسجدیں بیشک عظیم نعمت ہیں، اور ان کی تعمیر میں حصہ لینا بہت بڑی سعادت ہے، لیکن اصل سعادت اور اصل چیز یہ ہے کہ ان مسجدوں کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا تابعدار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
الحمد للہ اس مجلس میں مسجد کی تعمیر کے لئے جس فیاضی کے ساتھ ، اور خوش دلی کے ساتھ، لوگوں نے مالی معاونت کی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی نیتوں کو ، ان کے اس عمل کو اپنی بارگاہ میںقبول فرمائے، یہ خود اس بات کی علامت ہے ، کہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہیں، ان سب کو بھی یہ دعا کرنی چاہیئے، کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ” کہ اے اللہ ہم سے یہ خدمت اپنی بارگاہ میں قبول فرمالے، اور “وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ” اے اللہ اپنا تابعدار بھی بنا دے۔اللہ تبارک و تعا لیٰ ان کی اس معاونت کو ، ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرمائے۔
یہاں یہ بات بھی عرض کردوںکہ مسجد کی تعمیر ہو، یا کوئی اور کارِ خیر ہو،یہ ضروری نہیں کہ اس میں بڑی رقم دی جائے گی تو وہ اللہ کے بارگاہ میں قبول ہوگی،بلکہ ہر شخص اپنی مقدور کے مطابق، اپنی حیثیت کے مطابق، چھوٹا سا بھی چندا دے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں اس کی بڑی قدر و قیمت ہے،خلوص کے ساتھ ایک روپیہ بھی دے گا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں اس کی بڑی قیمت ہے، اور اللہ بچائے اگر دکھاوے کی غرض سے دے تو لاکھوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان گمنام لوگوں کے چندوں کی طرف بڑی رغبت ہوتی ہے جو آ کر ایک ایک روپیہ دے جاتے ہیں، کوئی آکر دو روپیہ دے جاتا ہے، کوئی دس روپے دے جاتا ہے، اور فرمایا کہ میں ان کے انتظار میں زیادہ رہتا ہوں،کہ کم آمدنی والے لوگ اپنا پیٹ کاٹ کراگر ایک روپیہ بھی دیتے ہیں،تو اس میں جو برکت ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں اس کی جو قدر و قیمت ہے، وہ ایسی ہے کہ بڑی بڑی رقمیں بھی اس کے سامنے ھیچ ہوجاتی ہیں۔
لہذا بات رقموں کے زیادہ ہونے اور کم ہونے کی نہیں ہے، اگر اللہ کو راضی کرنے کے لئے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ، آخرت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے ایک روپیہ بھی دیا جائے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہا ں وہ بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے۔اور یہی چیز ہمارے مدارس اور مساجد کی روح ہیکہ اس میں الحمد للہ دینے والے اخلاص کے ساتھ دیتے ہیں، چاہے وہ کم رقمیں دینے والے ہوں، یابڑی رقمیں دینے والے ہوں، اخلاص کے ساتھ دیتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرماتے ہیں، اور اس میں برکت عطا فرماتے ہیں۔
میں نے مولاناحنیف صاحب سے یہی کہا ہے کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں اورسارے مدرسے والوں سے پوچھتے ہیں، کہ آپ کے پاس پیسے کہا ں سے آتے ہیں کہ آپ اتنی لمبی لمبی عمارتیں تعمیر کرلیتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ گورنمنٹ نے دی ہو گی، کوئی کہتا ہے کسی بڑے سرمایہ دار نے دی ہو گی، کوئی کچھ گمان کرتا ہے ، کوئی کچھ گمان کرتا ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ کہاں سے آتے ہیں تو میں جواب دیتا ہو کہ مجھے پتہ نہیں کہ کہاں سے آتے ہیں، دینے والا اللہ تبارک و تعالیٰ ہے جو کسی کو بھی ذریعہ بنا سکتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ “اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحٰفِظُوْنَ” (الحجر:۹)ہم نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ ہی بندے کو قرآن کریم کے علوم کی حفاظت کے لئے منتخب کر لیتے ہیں ،چاہے مالی تعاون کے ذریعے ، یا جسمانی محنت کے ذریعے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے جو کام اپنے ذمہ لیا تھا ، اس کام کے لئے اس بندے کو ذریعہ بنا دیا، یہ اتنی بڑی عظیم سعادت ہے کہ اس کے برابر کوئی سعادت نہیں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا نائب بنا رہے ہیں، اور یہی وہ جذبہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ عام مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں دینی خدمت کا یہ سلسلہ جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں خلوص کے ساتھ اس کے گھر کی تعمیر کے لئے جس درجے کا بھی تعاون کیا جائے گا ، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں ان شاء اللہ قبول ہوگا۔
یاد رکھئے کہ مساجد کی تعمیر صرف پتھر سے اور سیمنٹ سے اور بجری سے نہیں ہوتی، مساجد کی تعمیر حقیقت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت سے ہوتی ہے، اس کے ذکر سے ہوتی ہے ، اس کی فکر سے ہوتی ہے، اس کے دین کی تعلیم سے ہوتی ہے، اس کے دین کی دعوت سے ہوتی ہے ۔ لہٰذا اس مسجد کو آباد کرنے کا مطلب اس میں صرف چندہ دینا نہیں ہے بلکہ اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے ایک مرکز بنانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور الحمد للہ ہماری تاریخ ،مساجد کی خدمت دین کے شاندار کارناموں سے بھری پڑی ہے، میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس مسجد کو اپنی عبادت کا اپنے ذکر و فکر کا ، اپنی دین کی دعوت کا مرکز بنائے، اور اس میں جتنے لوگوں نے حصہ لیا ہے، چاہے وہ اپنی جسمانی محنت کے ذریعے سے ہو،یا فکر ی صلاحیت کے ذریعے سے ہو، یا مالی معاونت کے ذریعے سے ہو، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو بہتریں اجر دنیا اور آخرت میں عطا فرمائے، اور اس کی تعمیر کو جلد از جلد عافیت کے ساتھ مکمل فرمائے، اور جن مقاصد کے لئے یہ مسجد تعمیر ہورہی ہے ، ان مقاصد میں بھی کامیابی عطا فرمائے۔آمین ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

٭٭٭
(ماہنامہ البلاغ – صفر المظفر 1438 ھ)