مولانا شاکر جکھوراصاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم
قازقستان کا ایک سفر
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی معیت میں

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی أشرف المرسلین سیدنا ونبینا ومولانا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین، وعلی کل من تبعہم بإحسان إلی یوم الدین.

أما بعد!
اللہ تعالیٰ کا شکر کس زبان سے ادا کروں اور کس ادا سے بجا لاؤں کہ اُس نے محض اپنے احسان وکرم سے مجھ نا اہل کو اپنے محبوب ومعظم استاذ و آقا فقیہ النفس حضرت اقدس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں قازقستان کا سفر نصیب فرمایا۔ فلک اللہم الحمد والشکر کثیرا کثیرا علی ہذہ النعمۃ العظیمۃ بدون استحقاق منّی.
قازقستان میں ایک ادارہ Association for the Development of Islamic Finance (ADIF) کے نام سے قائم ہے جس کا مقصد سود کے خلاف جد وجہد اور ملک میں غیر سودی بنکاری کو فروغ دینا ہے، اس ادارے کی طرف سے حضرت کی خدمت میں -بحیثیت رئیس المجلس الشرعی- وہاں منعقد ہونے والے سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت موصول ہوئی،نیز ہیئۃ المحاسبۃ والمراجعۃ للمؤسسات المالیۃ الإسلامیۃ AAOIFIکے جنرل سیکیرٹری ، فضیلۃالشیخ ڈاکٹر حامد میرہ صاحب حفظہ اللہ تعالی کو بھی اس سیمینار میں مدعو کیا گیا، بلکہ ڈاکٹر صاحب نے خود حضرت والا سے اس کی اہمیت کے پیش نظر دعوت قبول فرمانے کی درخواست بھی کی، کیونکہ قازقستان میں غیر سودی بینکاری کا آغاز ہورہا ہے اور صدر مملکت کی اس حوالے سے دلچسپی اور سنجیدگی بڑی خوش آئند ہے، اور پھر وہاں کے مرکزی بینک سے پورے ملک کیلئے ایک مرکزی شریعہ بورڈ کے قیام کے سلسلے میںADIFاور AAOIFI کے کامیاب مذاکرات کافی آگے بڑھ چکے ہیں، لہٰذا اس موقع سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اس ملک کے مسلمانوں کو سود سے پاک کرنے کے مثبت اور دور رس نتائج رو نما ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا اللہ کے نام پر حضرت والا نے دعوت قبول فرما لی، اور سفر کی تاریخیں ۲۱؍تا ۲۶ دسمبر ۲۰۱۵؁ ء طے ہوگئیں۔ یوں تو وسط ایشیاء ، جس کے ایک بڑے حصے کو “بلاد ماوراء النہر” سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، اس کے کئی ممالک ازبکستان، تاجکستان، کرغیزستان اور آذر بائجان میں حضرت والا کا اس سے پہلے سفر ہوچکاہے، لیکن قازقستان پہلی بار تشریف لے جارہے تھے۔ حضرت والا نے بطور خادم اپنے ساتھ سفر کرنے کی سعادت نالائقی اور نااہلی کے باوجود بندے کو عنایت فرمائی۔
۲۱؍ دسمبر کی صبح تقریباً ۴؍بجے کراچی کے ہوائی اڈے پر حسب ارشاد، حضرت والا سے ملاقات ہوئی، ضروری کارروائی کے بعد حضرت کے ہمراہ Business Class کی انتظار گاہ کی طرف رخ کیا جس میں داخلے کی اجازت حضرت نے اپنی شفقت سے بندے کیلئے بھی لی ہوئی تھی۔ انتظار گاہ میں پہنچ کر حضرت نے تہجد ادا کی، جس کے بعد بندے نے آپ کی خدمت میں جب چائے پیش کی تو آپ نے توجہ دلائی کہ دودھ کا جوبرتن میں نے طباق میں رکھا تھا وہ سب مسافروں کیلئے ایک جگہ رکھا گیا تھا ،لہٰذا اسے اس کی جگہ واپس رکھ دیا جائے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ حضرت کو اس تنبیہ پر خوب جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہمیں دین کی ان رعایتوں کی بھی توفیق عطا فرمائیں، جنہیں ہم بُھلا بیٹھے ہیں۔ فأستغفر اللہ تعالی علی ہذہ الہفوۃ۔
کچھ ہی دیر میں ہمیں روانگی کی اطلاع ملی۔ اتحاد ایئر لائنز پر براستہ ابو ظبی قازقستان کا تجارتی مرکز “الماتے” ہماری پہلی منزل تھی، سفر بحمد اللہ بہت ہی عافیت سے طے ہوا، وقفے وقفے سے جب حضرت کی خیریت معلوم کرنے کیلئے جہاز کے اگلے حصے میں آتا تو حضرت کو اپنے تصنیفی کام میں مصروف پاتا۔ ابو ظبی ائیرپورٹ میں انتظار کے تین گھنٹوں کے وقفے کے دوران بھی حضرت والا نے Business Class Lounge کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختصر آرام کے بعد تصنیف کے کام کو جاری رکھا۔
ابو ظبی سے الماتے کی پرواز چار گھنٹوں پر محیط تھی۔ ویسے تو اگر کراچی سے کوئی براہ راست پرواز ہوتی تو شاید پاکستان سے جانب شمال کے اس سفر میں ،۳،۴؍ گھنٹوں سے زیادہ نہ لگتے، لیکن ایسی کوئی پرواز نہیں، جس کی وجہ سے پہلے ہم نے کراچی سے مغرب کی سمت میں ابو ظبی کا سفر دو گھنٹوں میں طے کیا اور وہاں۳؍ گھنٹے ٹھہرنے کے بعدچار گھنٹوں کا سفر شمال مشرق کی جانب الماتے تک طے کیا۔ اس طرح یہ سفر تقریبا ً دس گھنٹوں میں مکمل ہوا۔
۲۱ دسمبر الماتے، قازقستان ، میں آمد
الماتے کی طرف جب جہاز نے اترنا شروع کیا تو بلندی سے تاحد نگاہ برف پوش پہاڑی سلسلے کا عجیب وغریب روح پرور منظر تھا ۔ اور درمیان درمیان میں مختصر آبادیوں اور تناور درختوں نے بڑا دلآویز نقشہ کھینچا ہوا تھا۔ پھر جوں جوں شہر سے قریب ہوتے گئے، منظر کی فطری خوبصورتی فلک بوس عمارتوں کی مادی ترقی میں تبدیل ہوتی گئی، یہاں تک کہ جب جہاز اترا تو یہ یقین ہوگیاتھا ہم کسی ترقی پذیر شہر میں پہنچے ہیں۔
الماتے ہوائی اڈے پر استقبال کیلئے ہمارے میزبان ، یعنی ADIF کے چئرمین ، جناب زارت صاحب رفقاء کے ساتھ موجود تھے ان کے علاوہ پڑوسی ملک کرغیزستان کے صدر مفتی (جنکا رسمی منصب ہمارے ہاں کے وزیر مذہبی امور کی طرح کا ہے)جناب مفتی مقصد صاحب، مولانا محمد علی صاحب، جو دار العلوم کے فاضل ہیں اور کرغیزستان میں اللہ تعالیٰ ان سے ایک مدرسہ کی شکل میں بہت اچھا کام لے رہے ہیں، مولانا مقصد بیگ صاحب، جو دار العلوم کے فاضل ہیں اور قازقستان کے ادارہ مفتیات میں ، جو یہاں کی وزارت مذہبی امور جیسا ہے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، اور کچھ دیگر حضرات تشریف لائے ہوئے تھے۔ اللہ کے فضل سے بڑی سہولت کے ساتھ وی آئی پی انتظار گاہ میں ایمیگریشن کا مرحلہ طے ہوتے ہوتے سامان بھی وہیں آگیا۔
ہوائی اڈہ شہر کے مضافات میں ہے اورہوٹل تک تقریباً آدھے گھنٹے کا سفر تھا، جس کے دوران الماتے کی خوبصورتی اور چشم کشا ترقی دیکھنے کا موقع ملا۔ ظاہری تمدن کے اعتبار سے یورپ کے کسی ملک سے الماتے کم نہیں، چوڑی اور صاف ستھری سڑکیں ، فلک بوس عمارتیں اور فن تعمیر کے شاہ کار جابجا نظر آئے۔ روسی دور سے یہ شہر قازقستان کا دار الحکومت رہا ہے، پھر ۱۹۹۷؁ ء میں دار الحکومت آستانہ کو بنایا گیا۔ ۱۵؍ لاکھ کی لگ بھگ آبادی کے اعتبار سے الماتے اب بھی قازقستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ نیز یہاں کا تجارتی اور ثقافتی مرکز اب بھی یہی ہے۔ بلکہ ماہرین نے اس کو تجارتی اعتبار سے “عالمی شہر (Global City)” قرار دیا ہے (۱)۔ ہمارے میزبان سے معلوم ہوا کہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ۷۰؍ فیصد سے زائد ہے، لیکن دینی فضا اتنی نمایاں نہیں ہے۔جس کی ایک بڑی وجہ روسی دور کا ستر سالہ تشدد و تجبر ہے، اور قازقستان کو اگرچہ ۱۹۹۱ ؁ ء میں روس کے پنجوں سے آزادی حاصل ہوگئی تھی لیکن یہاں کی خونی تاریخ کی جو چند جھلکیاں حضرت والا اور اپنے میزبان کی گفتگو سے معلوم ہوئیں ان سے رونگٹے کھڑے ہوگئے، اور ان مسلمانوں کا اس طویل ظلم کے بعد بھی جیسا بھی ہو اپنا دینی تشخص برقرار رکھنا اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور اس دین کی دلیل حقانیت کے سوا کچھ اورمعلوم نہیں ہوا۔حضرت والا نے بتایا کہ روسی دور میں اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہوتا کہ وہ قرآن پڑھتا ہے تو صرف اسی کی جان نہیں، بلکہ اس کے پورے خاندان کی جانیں سخت خطرے میں پڑ جاتی تھیں۔خفیہ تہ خانوں میں کتابوں کو دفنایا جاتا اور نصف شب کے بعد ان میں جاکر اپنے دین کے تحفظ کی خاطر تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری رکھا جاتا۔ اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے رمضان کا روزہ ر کھا ہے تو اس کے روزے کو زبردستی شراب پلا کر توڑا جاتا۔ ایک بزرگ کا واقعہ جن سے حضرت والا خود ملے بھی ہیں، یہ بتایا کہ انہیں علم دین حاصل کرنے کی تڑپ تھی، انہیں پتہ چلا تھا کہ روسی حکومت نے ایک بڑے عالم دین کو ان کے علاقے میں فصل کاٹنے پر مأمور کیا ہے، اُن سے جب استفادے کے لئے کوئی وقت نکالنے کی درخواست کی تو انہوں نے فصل کاٹنے کے وقت ہی کو ممکن قرار دیا، اور ان سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ فصل کاٹنے آجایا کرو تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو اور ہم دونوں فصل کاٹتے کاٹتے اپنا پڑھنا پڑھانا کرلیاکریں گے۔ اس طریقہ سے انہوں اپنے علم کی پیاس بجھائی۔
قازقستان (۲)کا رقبہ دس لاکھ مربع میل سے متجاوز ہے ، لیکن اس وسیع و عریض ملک کی آبادی صرف ۱۸ ملین ہے،(۳) (یا یوں سمجھئے کہ پورے قازقستان کی آبادی ہمارے ایک شہر کراچی کی آبادی کے لگ بھگ ہے)۔اور بظاہر ا س کی وجہ یہ ہے کہ دو سرے زیر اثر علا قوں کی طرح یہا ں بھی اشتراکیت کے خلاف
(۱) ویکییپیڈیا
(۲) یہ نام ترکی زبان کے لفظ “قز” بمعنی “پھرنے “سے مشتق ہے ، کیونکہ یہاں کی آبادی شروع میں خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل تھی ۔ (ویکیپیڈیا)
(۳) ویکیپیڈیا
خطرہ کے نام پر “نسل کشی” کی مہمیں چلائی گئیں، جن کے ہولناک ترین مناظر انقلاب اشتراکیت کے ابتدائی دور ۱۹۱۷ء اور ۱۹۱۸ ء میں لینن کی سرکردگی میں The Red Terror (سرخ ہولناکی) کے نام سے ۱۹۳۷ء اور ۱۹۳۸ ء میں اسٹالن کی زیر قیادت The Great Purge (تطہیر عظیم) کے نام سے سامنے آئے(۱) ۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مہم میں علماء سر فہرست تھے۔ پھر اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ نسل کشی کے بعد بہت سی دوسری قوموں کو یہاں آباد کرایا گیا تاکہ قزق لوگوں کا تشخص ہی ختم ہوجائے، اب حال یہ ہے کہ قازقستان میں سو سے زائد قومیں آباد ہیں۔ (۲)
خیر، اب تو ایک عرصے سے قازقستان اس ظلم کے شکنجے سے آزاد ہے، اور بعض مسائل کے باجود مسلمانوں کو اپنے دین پر کافی حد تک عمل کرنے دیا جاتا ہے۔ نیز یہ ملک تیل کی بدولت مادی ترقی کی راہ پر گامزن ہے جس کا ثبوت ہوٹل کے راستے میں کافی نظر آیا۔ اگرچہ آج کل تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی، اور حکومت کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے تین چار مہینوں میں یہاں کی معیشت اور کرنسی کو ایک زبردست دھچکا لگا ہے، جس کی وجہ سے قزقی ٹینگا کی ڈالر کے مقابلے میںقیمت ۱۸۰ سے ۳۵۰ تک (یعنی ۸۵ فیصد) اگست سے دسمبر کی انتہائی مختصر مدت کے دوران گری ہے۔
ہوٹل میں نماز اور کچھ آرام سے فارغ ہوکر ایک ترکی مطعم میں ضیافت تھی، جس میں ہمارے میزبانوں کے علاوہ مفتی کرغیزستان، مولانا محمد علی صاحب، مولانا مقصد بیگ قزقی ، سابق مشیر صدر مملکت ومؤرخ جناب بیبوت حاجی صاحب سمیت دیگر معززان شہر موجود تھے۔ لذیذ کھانے کے ساتھ بڑی دلچسپ اور پرلطف مجلس رہی۔
مفتی کرغیزستان حضرت کی خدمت میں
جائے قیام پر پہنچ کر مفتی کرغیزستان اور آپ کے رفقاء نے حضرت والا سے مختلف مقامی حالات کے حوالے سے رہنمائی لی، جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
مفتی مقصد صاحب: اہلیت نہ ہونے کے باوجود ہمیں حدیث کی بڑی کتابوں کا درس دینا پڑرہا ہے،
(۱) تفصیلات کے لئے ان دونوں عنوانوں کے تحت ویکیپیڈیا ملاحظہ ہو۔
(۲) ویکیپیڈیا
نصیحت فرمادیجئے کہ ہم کس طرح درس کی تیاری کریں؟
حضرت والا مد ظلہم: بھائی ہم میں سے کون اہل ہے؟ جب ذمہ داری پڑجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ مدد بھی فرماتے ہیں ، بس اصل بات یہ ہے کہ نیت خالص اللہ کی رضاء ہو اور رجوع الی اللہ ہو کہ یا اللہ آپ کو تو معلوم ہے کہ ہم اہل نہیں، لیکن یہ ذمہ داری پڑگئی ہے، آپ مدد فرمائیں۔ اور پھر مطالعہ میں اپنی سی کوشش میں کوتاہی نہ کریں۔ مطالعہ اپنے فائدہ کیلئے تو مکمل کریں، لیکن طلبہ کیلئے بس اُتنی بات کا انتخاب کریں جو ان کی سطح کے مطابق ہو اور جسے وہ سمجھ کر “ہضم” کرسکیں۔ اسی طرح اس میں ایسے مسائل کا انتخاب کریں جو ان کی آئندہ زندگی میں یہاں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کام آئیں، اور ان کے دینی کام کیلئے معین و مفید ہوں، یہ دیکھا جائے کہ یہاں کے حالات میں علماء کو کونسے مسائل زیادہ پیش آتے ہیں، ان پر زیادہ توجہ دی جائے۔ درس بخاری شریف کیلئے فیض الباری اور لامع الدراری کا مطالعہ کرلیا جائے۔ اسی طرح انعام الباری اس حیثیت سے مفید رہے گی کہ طلبہ کے لئے مضامین کا انتخاب کس طرح کیا جاتا ہے۔ (حضرت والا کی اس غایت تواضع میں ہم سب کیلئے بڑا سبق ہے)۔
مفتی مقصد صاحب: یہاں کے نوجوانوں میں تزکیہ نفس واخلاق کی طرف رجحان پیدا ہورہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ تاہم بسا اوقات جن مشائخ سے وہ تعلق قائم کرتے ہیں وہ بہت اہتمام کے ساتھ “تصور شیخ” کی تلقین کرتے ہیں، یہاں تک کہ تعلیم یہ دی جاتی ہے کہ شیخ کے ہر وقت دیکھنے کا تصور کرو، تاکہ گناہ سے بچیں۔ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ کیا یہ غلو تو نہیں؟
حضرت والا”: تصور شیخ” در اصل ایک طریقۂ علاج تھا جو تصوف کے بعض قدیم بزرگوں کے ہاں ہوا کرتا تھا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ کہ اگر کسی کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے استحضار کی عادت ڈالنا ابتداء میں دشوار معلوم ہو، تو بعض مشائخ نے بطور علاج یہ تلقین فرمایا تھا کہ اپنے شیخ کا تصور کرو کیونکہ اس کے ساتھ محبت وعقیدت کا تعلق محض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کی خاطر قائم ہوا ہے اور دیکھی ہوئی شئی کا تصور بن دیکھے وجود کے تصور سے زیادہ آسان ہے، اور رفتہ رفتہ اصل مقصود یعنی استحضار باری تعالی کی طرف یہ مشائخ لے جاتے تھے، اس لئے کہ تصور شیخ بذات خود مقصود نہیں۔ جن مشائخ صوفیاء اہل حق نے اسے تجویز فرمایا بھی، انہوں نے اپنے طریق کا مستقل جزو نہیں قرار دیا، بلکہ حسب ضرورت جس مرید کیلئے موزوں خیال کیا خاص اُس کو یہ علاج تجویز فرمایا، اور وہ بھی اس کی شرائط وحدود کی رعایت کے ساتھ۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے طریق کے اکابر دیوبند نے “تصور شیخ” کی ہمت افزائی نہیں فرمائی، کیونکہ بسا اوقات اس کی حدود قائم نہیں رہتیں، اور معاملہ شرک تک پہنچ جاتا ہے، لیکن ساتھ ہی جن اکابر صوفیاء اہل حق نے اس کی حدود کی رعایت کے ساتھ تلقین فرمائی، ان پر نکیر بھی نہیں فرماتے۔ ایک مرتبہ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کے لئے حضرت سید احمد شہید (رحمۃ اللہ علیہ) نے تصور شیخ تجویز فرمایا، تو حضرت شاہ اسماعیل شہید صاحب ؒ نے یہ کہہ کر معذرت فرمائی کہ آپ کسی بھی کام کا حکم کرتے، بلکہ بالفرض اگر کسی نامناسب حرکت کا بھی حکم کرتے تو میں کرلیتا، اور استغفار بھی کرلیتا، لیکن مجھے معاف فرمادیں، تصور شیخ سے مجھے شرک کی بو آتی ہے، اس لئے یہ کام میں نہیں کرونگا۔ ہمارے اکابر دیوبند کا تو یہ طرز تھا کہ اللہ تعالیٰ کا استحضار جتنا سنت پر عمل کر کے پیدا ہو جائے اتنا کافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کیلئے مؤثر ترین طریقہ سنت پر عمل کا ہے۔
لیکن آج کل یہ مشکل پیدا ہوگئی ہے کہ بعض حضرات نے “تصور شیخ” کو اپنے طریق کا لازمی حصہ قرار دیدیا ہے، اور تمام مریدین کو یکسانیت کے ساتھ اس کی تعلیم دیتے ہیں، چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بلکہ پورے تصوف میں یہ قصہ ہے کہ بعض حلقوں کے ہاں طریقہ علاج کو مقصود بنالیا گیا ہے۔ اور یہی حال اجتماعی مجالس ذکر بالجہر کا ہے ۔ اصلاً تو ذکر بالجہر اور اجتماعی ذکر دونوں جائز ہیں، لیکن آج کل اس کو بعض طرق میں ایک لازمی جزو سمجھاگیا ہے، اور اس کے بغیر ذکر کو ادھورا اور کم اجر والا سمجھا جانے لگا ہے۔
اسی طرح مثلاً قبر پر قبلہ رو ہوکر دعاء کرنا اصلاً جائز بلکہ سنت سے ثابت بھی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ لیکن جب ہمارے اکابر نے دیکھا کہ اس سے قبروں کی عبادت کرنے والے غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو پھر اس کی حوصلہ شکنی فرمائی۔
ہمارے حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو ہم اس زمانے کے مجدد مانتے ہیں، آپ نے یہی تجدید فرمائی کہ تصوف میں بہت سی چیزوں کو بطور علاج بزرگوں نے تجویز فرمایا ہوا تھا، جنہیں رفتہ رفتہ مقصود سمجھ لیا گیا ، حضرت نے آکر تصوف کی تجدید فرما کر بتایا کہ اصل مقصود فضائل (اچھے اخلاق) کا حصول ہے اور رذائل (برے اخلاق ) سے اپنے آپ کو پاک کرنا ہے۔
تصوف میں در اصل حدود سے تجاوز کی مختلف شانیں ہیں، بعض اکابر نے بطور علاج اپنے مریدین کیلئے کوئی طریقہ تجویز فرمایا دوسروں نے کسی اور طریقے کو زیادہ مفید سمجھا، پھر کسی نے اس طریقۂ علاج کو لازم سمجھا، کسی نے اس کو سنت و مستحب کا درجہ دیدیا، اور یہیں سے خرابی پیدا ہوئی۔
مفتی مقصد صاحب: حضرت والا! تصوف کے بارے میں اس طرح کی غلط فہمیاں یہاں کے لوگوں کو ہوجاتی ہیں، جبکہ نوجوان طبقہ میں اپنی اصلاح کا جذبہ بھی ہے، بلکہ ان میں سے بعض ہمارے پاس تصوف سمجھنے کیلئے آتے بھی ہیں۔ نیز ہم اپنے مدارس کے طلبہ کو بھی تصوف پڑھانا چاہتے ہیں، اس مقصد کیلئے کونسی کتابیں مفید رہیں گی؟
حضرت والا مدظلہم: اس مقصد کیلئے میرے خیال میں حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب “دل کی دنیا” سے شروع کریں ، یہ کتاب مختصر بھی ہے اور اس میں تصوف کا ایک عام فہم تعارف ہے۔ یہ رسالہ تو ایک آدھ ہفتے میں مکمل پڑھایا جاسکتا ہے، اس کے بعد امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی دو کتابوں : “بدایۃ الہدایۃ” یا “الأربعین” میں سے کوئی ایک پڑھائی جائے۔ “الأربعین” کا اردو ترجمہ بھی “تبلیغ دین” کے نام سے چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد پھر حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ کی کتاب “تعلیم الدین” کو پڑھایا جائے۔ ان کتابوں سے ان شاء اللہ تصوف کی حقیقت ومطلب سمجھ میں آجائے گا، اور وقت بھی ان شاء اللہ زیادہ نہیں لگے گا۔ امید ہے کہ یہ سب ایک یا دو سہماہی میں مکمل ہوجائیں گی۔
حاضرین میں سے ایک صاحب: حضرت ہمارے ہاں سلفی حضرات عقیدے کے بعض مسائل ، مثلاً استواء علی العرش وغیرہ عوام میں پھیلا رہے ہیں، اس سے خلفشار اور شکوک وغیرہ پیدا ہورہے ہیں۔ پھر لوگ ہم سے آکر پوچھتے ہیں، بلکہ بعض اوقات یہ سلفی حضرات خود ہم سے الجھتے ہیں۔ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
حضرت والا: پہلی بات تو یہ ہے کہ بحث ومباحثہ میں نہیں پڑنا چاہئے، اس سے کبھی فائدہ نہیں ہوتا، میرا تجربہ ہے اور بحمد اللہ کئی مرتبہ اس طرز عمل میں کامیابی ہوئی ہے کہ ان لوگوں کو سمجھاؤ کہ یہاں پر مجمع علیہ منکرات پائے جاتے ہیں، بچارے لوگ یہاں کن کن برائیوں میں مبتلا ہیں، ان پر اپنی توجہ مرکوز کریں، ربا ہے، قمار ہے، عریانی فحاشی ہے، ان سے لوگوں کو روکیں۔ ان کو استواء علی العرش وغیرہ کے مسائل میں الجھاؤگے تو فائدہ نہیں ہوگا۔
مفتی مقصد صاحب: حضرت کیا بیعت کرنا واجب ہے؟ در اصل شبہ یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ ایک مقولہ مشہور یہ ہوا ہے کہ “جس کا شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے”، بلکہ بعض علماء نے بھی پوچھا ہے۔
حضرت والا: بیعت نہ فرض ہے، نہ واجب، بلکہ سنت ہے اور وہ بھی بہت زیادہ مؤکد سنت نہیں، بلکہ ایک برکت کی چیز ہے۔ ہاں فرض یہ ہے کہ رذائل سے اپنے اپنے آپ کو پاک کریں اور فضائل کو اپنائیں۔ اور عام طور سے یہ از خود بغیر کسی بڑے کی رہنمائی کے حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا ایک لحاظ سے یہ مقولہ درست بھی ہے، کہ جسکا شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے، یعنی جس کا شیخ، یا مرشد ، یا مشیر نہیں تو اس کو شیطان بہت آسانی سے گمراہ کرسکتا ہے ۔
اس کے بعد مفتی مقصد صاحب نے حضرت والا سے دار العلوم کے ساتھ باہمی تعاون کی ایک تجویز پیش کی، جس کی روسے کرغیزستان کے بعض مدارس کے طلبہ کا امتحان دار العلوم کی نگرانی میں لیا جائے، تاکہ ان کو دار العلوم کی سند ملے، حضرت والا نے اس پر مشورہ کر کے کوئی لائحہ عمل طے کرنے کیلئے خوشی سے آمادگی کا اظہار فرمایا۔
۲۲؍ دسمبر “الہلال” بینک
اگلی صبح حضرت والا کی ملاقات قازقستان کے پہلے اور تنہا اسلامی بینک “الہلال” سے طے تھی۔ اس بینک کے شریعہ بورڈ میں حضرت شامل نہیں، لیکن ان حضرات کی خواہش تھی کہ ان کے بینک کا معائنہ کیا جائے، چنانچہ ان کے چیف ایگزیکیٹو اور دیگر ذمہ داران نے حضرت کے ساتھ غیر سودی بینکاری کے سلسلے میں بعض مقامی مشکلات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا، مثلاً یہ کہ قازقستان میں غیر سودی بینکاری کو حسب منشأ بڑھنے کا موقع نہیں مل رہا ہے، کیونکہ حکومت کی طرف سے یہ پابندی عائد ہے کہ غیر سودی بینک اگر قائم ہوں تو وہ مکمل طور پر قائم ہوں اور کسی سودی بینک کی شاخ ((Windowکے طور پر قائم نہ ہوں، جس کی وجہ سے کئی سال سے “الہلال” ہی اس میدان میں تنہا ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں، جبکہ اگر اس میدان میں اضافہ ہو اور دیگر اسلامی بینک یا اسلامی شاخیں منظر عام پر آجائیں، تو سودی بینکوں سے بہتر شرعی سہولیات دینے میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ نیز انہوں یہ بھی بتایا کہ ان کی سرمایہ کاری آف بیلنس شیٹ ہوتی ہے جس پر حضرت والا نے خوشی کا اظہار فرمایا۔
ذمہ داران کی درخواست پر حضرت نے عملے کے سامنے کچھہدایات ارشاد فرمائیں، جن میں یہ بھی تھاکہ اس کام کو محض ایک ملازمت کے طور پر نہیں، بلکہ دینی ذمہ داری سمجھ کر اور رجوع الی اللہ کے ساتھ بجالانا چاہئے، کہ ربا سے ہم اپنے معاشرے کو ہر صورت میں پاک کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کیلئے شرعی احکام کی مکمل پابندی کا اہتمام کیا جائے۔
الماتے کی مرکزی جامع مسجد
یہاں سے الماتے کی مرکزی جامع مسجد کی طرف رخ کیا، جس کے پاس ادارہ دینیات (جو وزارت مذہبی امور کی طرح ہے) کے دفتر میں اس کی مقبول دینی ویب سائٹ azan.kz کے ساتھ حضرت والا کا انٹرویو طے تھا۔ راستے میں ہجوم کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی اور پہنچے تو ظہر کی جماعت کھڑے ہونے کو تھی، مسجد میں داخل ہوئے تو امام کو مجمع کے سامنے نصیحت کرتے ہوئے پایا، پھر نماز پڑھاکر انہوں نے آیۃ الکرسی کے ابتدائی ایک دو کلمات سے اور تسبیحات مسنونہ کی باری باری بالجہر تلقین کی، جس کے بعد دعاء ہوئی اور قرآن پاک کی تلاوت پر مجلس برخاست ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہ ہر نماز کا معمول ہے۔ حضرت والا نے وہاں کے ایک ذمہ دار سے فرمایا کہ ان امور کا اس قدر اہتمام دو وجہوں سے نہیں ہونا چاہئے:
(۱)یہ التزام سنت سے ثابت نہیں، مزید برآں یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ اس اجتماعی ہیئت کوضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ اوراد کے دوران کوئی اٹھتا ہوا نظر نہیں آیا۔ (اور اسی قسم کے التزام سے بدعت ہوجاتی ہے)۔
(۲)اگر کسی شخص کو موجودہ پُر مجاہدہ ماحول میں جماعت سے نماز پڑھنے کا داعیہ پیدا بھی ہوجائے اور اپنی مصروفیات میں سے کوئی وقت مسجد جانے کیلئے مشکل سے نکالنا چاہے بھی، تو یہ طویل کارروائی ایسے شخص کیلئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے ایک حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتی ہے، اور آج کل کے انحطاط پذیر دینی ماحول میں یہ کسی طرح مناسب نہیں۔
Azan.kz کو انٹرویو
نماز سے فارغ ہو کر حضرت والا نے ایک فکر انگیز انٹرویو azan.kz کو عربی زبان میں دیا، جس میں سے بعض باتوں کا خلاصہ جو اس وقت یاد آرہی ہیں ذیل میں پیش خدمت ہے۔ وباللہ التوفیق۔
سوال: احناف کے دو طبقے گزرے ہیں: اہل عراق ،اہل ما وراء النہر(۱) ، بر صغیر کے مسلمان بھی حنفی ہیں، انہوں نے دو طبقوں میں سے کس طبقے سے زیادہ تأثر لیا، اور کن سے زیادہ استفادہ کیا؟ (۲)
حضرت والا: بر صغیر کے مسلمانوں نے اگرچہ دونوں طبقوں سے استفادہ کیا ہے، لیکن انہوں نے علماء ما وراء النہر کے علم سے زیادہ کسب فیض کیا، اور انہیں سے زیادہ متأثر ہوئے۔ (۳)تاہم یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ ان دونوں طبقوں میں جو علمی یا فقہی اختلاف پیش آیا ہے اس کی ایک بڑی وجہ دونوں علاقوں کے عرف کا مختلف ہونا ہے۔
سوال: ہمارے ہاں دین کی طرف متوجہ ہونے والوں میں ایک مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ بعض اوقات کسی عالم سے استفادہ کو مکمل طور پر اس وجہ سے ترک کیا جاتا ہے کہ اُس نے کسی ایک مسئلے میں ایسا قول اختیار کیا ہے جو معروف قول نہیں ہے، یا جمہور کے قول کے مطابق نہیں ہے۔ کیا یہ طرز عمل مناسب ہے؟
حضرت والا: پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہئے کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسا نقطہ نظر اختیار کیا ہے جو قرآن وسنت کی واضح نصوص کے خلاف ہو، یااجماع کے خلاف ہو، تو ایسے شخص سے بے شک مکمل طور پر استفادہ کا تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔ تاہم بسا اوقات ایک عالم کا مجموعی کردار اور تحقیق قرآن وسنت اور جمہور کی تشریح کے مطابق ہوتی ہے، تاہم کسی خاص مسئلے میں ان کی تحقیق جمہور کی رائے سے مختلف ثابت ہوئی، ایسی شخصیت (۱) “یراد بہ ماوراء نھر جیحون بخراسان ، فما کان فی شرقیہ۔۔۔ فی الاسلام سموہ ما وراء النھر ، وما کان فی غربیہ فھو خراسان وولایۃ خوارزم۔”(معجم البلدان للحموی رحمہ اللہ ) لہذا موجودہ نقشے کے مطابق اس علاقے میں تاجکستان ، ازبکستان ، قازقستان کا جنوبی حصہ اور کرغیزستان کا جنوبی حصہ شامل ہیں۔
(۲) ان علاقوں میں ایک مبارک جذبہ جو دیکھنے کو ملا، وہ یہ تھا کہ یہاں کے عام مسلمان بھی اپنے سلف صالحین پر بڑا فخر کرتے ہیں، اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے نسبت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں ، اسی پس منظر میں یہ سوال کیا گیا۔
(۳) چنانچہ فقہ کی جو اہم ترین کتابیں برصغیر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں ، ان میں زیادہ تر کتابیں علماء ماوراء النھر کی لکھی ہوئی ہیں ، مثلاً شرح الوقایۃ صدر الشریعہ اصغر عبید اللہ بن مسعود بن محمود رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ، جو بخاری ٰکے تھے اسی طرح امام برہان الدین علی بن ابی بکر رحمہ اللہ الہدایۃ کے مصنف ہیں ، جو مرغینان کے تھے ، جبکہ کنزالدقائق امام عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ، جو نسف کے تھے ، اور یہ سب علاقے ماوراء النھر کے ہیں۔
کی ایسی تالیفات یا بیانات سے علماء بے شک استفادہ کرسکتے ہیں جو ان کی خلاف ِجمہور رائے سے اختلاف رکھتے ہوں ۔ لیکن عوام کو تو ایسی شخصیت سے کسی بھی مسئلے میں استفادہ سے احتیاط کرنی چاہئے۔
ظہرانے کی ضیافت اذان ویب سائٹ کی طرف سے بڑی دلچسپ اور پر لطف رہی۔ کافی تاخیر سے واپس ہوٹل پہنچ کر کچھ دیر آرام کیا۔
عشائیہ کیلئے جناب بیبوت حاجی صاحب (سابق مشیر صدر مملکت و مصنف تاریخ) نے اپنے مکان پر دعوت دی، جہاں معززان شہر میں ایک سابق جنرل بھی شامل تھے جو سوفیتی دور میں مجلس النواب کیلئے قازقستان کے مسلم نمائندہ تھے، میزبان نے بتایا کہ یہاں کی روایت ہے کہ معزز مہمان کا اکرام گھوڑے کے گوشت سے کیا جاتا ہے، لیکن حضرت کی رعایت میں آج اس روایت کو ترک کیا گیا۔ اس پر حضرت والا نے بتایا کہ ان علاقوں میں مہمان خصوصی کے اعزاز کا ایک دستور یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت ایک طباق میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، پھر وہ ٹکڑے کاٹ کر دوسرے شرکاء میں تقسیم کرتا ہے، گزشتہ سال جب آپ کرغیزستان تشریف لے گئے تووہاں کی ایک اعلیٰ سطحی رسمی ضیافت میں حضرت والا کے اعزاز میں ایک طباق میں گھوڑے کا گوشت پیش ہوا، اور آپ سے درخواست کی گئی کہ آپ اس میں سے ٹکڑے کاٹ کر مہمانوں میں تقسیم فرمائیں۔
گفتگو کے دوران ایک صاحب نے بتایا کہ قازقستان کے جنوب میں ایک قبر کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ایک صحابی ؓکی ہے۔ جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ ممکن ہے کیونکہ وسط ایشیا کے ان علاقوں کے فاتح حضرت قتیبہ بن مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں، اور آپ کے لشکر میں صحابہ کرام ؓ بھی ہوں گے۔ آپ اس پورے علاقے کو فتح کرتے کرتے چین تک پہنچے تھے اور آج جو علاقہ سنک یانگ (کاشغر) کے نام سے مشہور ہے وہاں تک فتح بھی کرچکے تھے، لیکن خلیفہ کے انتقال پر واپس ہوئے، ورنہ ان کا ارادہ پورے چین کو فتح کرنے کا تھا۔ (۱)
۲۳؍ دسمبر
آج صبح گورنر مرکزی بینک کے ساتھ ملاقات طے تھی، لیکن معلوم ہوا کہ وہ موجود نہیں اور ان کے نائب کے ساتھ
(۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فتوح البلدان للبلاذری رحمہ اللہ ص ۵۹۰ وما بعدھا
(جو بعض اعلیٰ سطحی مناصب کی تبدیلیوں کی وجہ سے حال ہی میں اس منصب پر آئے) یہ ملاقات ہوگی ۔یہ ایک رسمی ملاقات تھی جس میں کوئی متعین موضوع طے نہیں تھااورالحمد للہ حوصلہ افزا رہی، اپنی گفتگو میں نائب گورنر صاحب نے صدر مملکت کی غیر سودی بینکاری کی جانب سنجیدہ پیش قدمی کے بارے میں بتایا، اور آپ نے اپنے رفقاء ِکار کے ساتھ مل کر غیر سودی بینکاری کو قازقستان میں فروغ دینے کیلئے بھر پور تعاون کا وعدہ فرمایا۔
حضرت والا کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ غیر سودی بینکاری کو عملاً نافذ کرنے کیلئے شریعت کی تعلیمات کی گہری فہم کی ضرورت ہے۔ پھر اس راہ کو طے کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ سود سے نجات حاصل کرنے کو محض کسی ملکی یا ملی مصلحت کے حصول کیلئے نہیں بلکہ اپنے مسلمان ہونے کا دینی فریضہ سمجھ کراور قرآن وسنت کے پیروکار ہونے کے تقاضے اور جذبے سے اس ہدف کی طرف قدم بڑھائیں۔ یہ ایک انقلابی اقدام ہے،لہٰذاجہاں سچا عزم اور مخلصانہ کوشش ہو گی وہاں راستے ہموار ہوتے چلے جائیں گے۔

(وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ) (العنکبوت: 69)
“اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے ، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے،اور یقیناً اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

اس سلسلے میں حضرت نے فرمایا کہ ہم بھی اپنی مقدور بھر خدمت کیلئے تیار ہیں۔ نیز AAOIFIبھی اس سلسلے میں اس ملک کی خدمت کیلئے حاضر ہے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ غیر سودی بینکاری کو ٹھیک طریقہ سے شریعت کے مطابق رو بعمل لانے کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہے:
(۱)ماہرین شریعت کی ایک جماعت جنہیں فقہ المعاملات کے ساتھ خصوصی مناسبت ہو اور انہیں اچھا عملی تجربہ بھی ہو، یہ افراد معاملات کی باقاعدہ نگرانی کریں۔
(۲)اسلام کا معاشی نظام چونکہ مروجہ سودی معاشی نظام سے بہت زیادہ مختلف ہے ، یہاں تک کہ دونوں کی بنیادیں اور اصول و ضوابط میں بھی بہت فرق ہے، اس لئے غیر سودی بینکاری کو معیاری طریقے سے نافذ کرنے کیلئے مستقل قانون سازی کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے جس میں مرکزی بینک کا بڑا اہم کردار ہوگا۔
آخر میں حضرت والا نے یہ بھی فرمایا کہ اسلامی معاشی نظام کا سرچشمہ چونکہ قرآن وسنت اور خالق کائنات کی وحی پر مبنی تعلیمات ہیں، اس لئے اس کے مثبت اثرات صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ تمام لوگوں کو پہنچیں گے۔ جس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ مروجہ سودی نظام کی تباہ کاریوں سے معاشرہ محفوظ رہے گا، بلکہ ۲۰۰۸ ؁ ء کے عالمی معاشی بحران میں اس کا کھلی آنکھوں مشاہدہ ہوا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کام کرنے والے مالیاتی ادارے اس سنگین بحران سے دوسرے اداروں کی بنسبت کافی کم متأثر ہوئے، کیونکہ جن خرابیوں نے اس بحران کو جنم دیا، یعنی زرکو آلہ تبادلہ کے بجائے مستقل سامان تجارت قرار دے کر سودی معاملات، دیون کی فروخت، مشتقات اور سٹہ، ان سے شریعت کی تعلیمات کی برکت سے ایسے ادارے بچے ہوئے تھے، حضرت نے فرمایا کہ World Economic Forum کی دعوت پر آپ نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس بحران کا حل ایک مفصل مقالے میں پیش کیا تھا۔ حضرت والا نے بعد میں گورنر صاحب کی خدمت میں ایک نسخہ ہدیۃً ارسال بھی فرمایا۔
در اصل حضرت مرکزی بینک کے تحت ایک مرکزی شریعہ بورڈ کے قیام کی اہمیت کو اپنی گفتگو میں اجاگر فرمانا چاہتے تھے، کیونکہ ہمارے میزبانوں کاحضرت کو اور ڈاکٹر حامد میرہ صاحب کو یہاں کے سیمینارز میں دعوت دینے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مرکزی بینک اور ADIF کے درمیان ایک معاہدے کے تحت یہ شریعہ بورڈ عمل میں لایا جائے۔
Shymbulak پہاڑ کی سیر
مرکزی بینک کی ملاقات سے فارغ ہو کر ہم نے الماتے شہر کی سیر کرتے ہوئے یہاں کے ایک مشہور پہاڑ Shymbulakکا رخ کیا۔ الماتے شہر سے تقریبا ۲۵؍ کلومیٹر جنوب کی سمت میں یہ پہاڑ واقع ہے ۔ جس کے دامن کی بلندی ۷۲۰۰ فٹ ہے (۱)۔ اس برف پوش پہاڑ میں جگہ جگہ تناور درختوں اور سبزے کی آمیزش سے جو روح پرور نظارہ سامنے تھا اسے الفاظ کا جامہ پہنانا بس سے باہر ہے۔ اور یہ تو منظراس پہاڑ کے دامن سے تھا، جب ہم نے کیبل کار سے پہاڑ کی بلندی طے کرنی شروع کی تو اس کی سلوٹوں کے نشیب وفراز سے اپنا راستہ بناتا ہوا نیم برف دریا ، اور کافی بلندی پر پہاڑ کے بیچ میں بر ف کا ایک میدا ن جس کے
(۱) ویکیپیڈیا
بارے میں ہمارے میزبان نے بتایا کہ در اصل یہ ایک جھیل تھی، اور پھر اس روز کے شفاف آسمان سے برف پر وقفے وقفے سے دھوپ کی چمک نے ایک ناقابل بیان پر کیف فضا پیدا کردی تھی۔ کیبل کار کی اس سیر کے دوران اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے حضرت والا ڈاکٹر حامد صاحب سے مختلف دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال فرماتے رہے۔
کیبل کار کی اس آدھے گھنٹے کی سیر کے بعد ہم پہاڑ کی تقریبا ًنصف بلندی پر اترے، یہاں سے آگے بھی دوسری کیبل کار جاتی ہے لیکن وہ skiکرنے والے سیاحوں کیلئے مخصوص تھی، جو یہاں بکثرت آتے ہیں اور خاص انداز اور آلات سے برف پر پھسلنے کے کرتب دکھاتے ہیں۔ یہاں کے ایک قہوہ خانے میں موسم اور فضا کی مناسبت سے ہمارے میزبان زارت صاحب نے قہوہ((cappuccinoسے ضیافت کی۔
حسب معمول علم اور علماء کی باتوں سے حضرت کی گفتگو معمور رہی۔ اسی دوران مراکش کا ذکر آیا تو فرمایا کہ شہر فاس ابھی تک قدیم طرز پر برقرار ہے، یہاں تک کہ جدت کے اس دور میں بھی اس شہر کے قدیم حصے میں جانے کا راستہ پیدل یا گدھوں پر سوار ہوکر ہی طے ہوسکتا ہے۔ اور اس کی مشہور جامع مسجد جامع القرویین،اور اس کے ساتھ ملحق یونیورسٹی ، جامعۃ القرویین جس کا شمار دنیا کی قدیم ترین درسگاہوں میں ہوتا ہے کا تذکرہ ہوا۔جامع القرویین کی تعمیر ۲۴۵؁ ھ بمطابق ۸۵۹؁ ء میں ایک خاتون فاطمہ بنت محمد فہریہ رحمہا اللہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ شروع کرایا تھا، اور اُس دور کے ادریسی بادشاہ کی نگرانی میں تعمیر کا کام کرایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نیک خاتون نے مسجد کی تعمیر ہونے تک مسلسل روزے رکھے، اور جب تعمیر مکمل ہوئی تو مسجد میں شکرانے کے نفل ادا کئے۔ علماء کرام کے حلقہائے درس مسجد میں شروع ہوئے اور ان میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ جامع القرویین کی شہرت ایک اعلیٰ تعلیم کی درسگاہ کے طور پر کچھ ہی عرصے میں ہوگئی۔(۱) اس درسگاہ میں ابھی تک تعلیم قدیم طرزپر دی جاتی ہے۔ جبکہ جامعۃ الازہر کی صورت حال اس سے مختلف رہی۔ ابتداء میں الازہر کی مشہور درسگاہ اُس دور کے طریقے کے مطابق جامع مسجد میں قائم تھی، اور جامع الازہر کے نام سے اس مسجد اور درسگاہ کی شہرت تھی۔ بعد میں اسی درسگاہ سے الگ ہو کر جامعۃ الازہر قائم
(۱) ملاحظہ ہوالمغرب کی ویب سائٹ برائے وزارۃ الاوقاف والشئوون الاسلامیۃ
htmlتاریخ ۔بناء ۔جامع۔القرویین۔http://www.habous.gov.ma/map-mosquee/1980-
ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب جامع الازہر اور جامعۃ الازہر علیٰحدہ علیٰحدہ ہیں۔ دوران گفتگو یہ بات بھی سامنے آئی کہ قدیم طرزِ تعلیم کا سلسلہ اب صرف تین ممالک میں باقی ہے: پاکستان، مراکش اور موریتانیا، اور یہ ان ممالک کے علماء کے تصلب اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اس قدیم طرز ِتعلیم کی امتیازی خوبیوں پر زمانے کے انقلابات کا غبار نہیں آنے دیا۔ حضرت والا نے بتایا کہ جامع القرویین میں ابھی تک اس سے فیض یاب ہونے والے ائمہ و مشاہیر کے مقامات درس محفوظ ہیں، مثلا فلسفہ تاریخ کے امام اور علم الاجتماع کے موجد امام ابن خلدون، علامہ ابن العربی رحمہم اللہ تعالی ٰوغیرہ کی جگہیں اب تک وہاں معروف ہیں۔ اور ماشاء اللہ حضرت والا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے اسی جامع القرویین میں وہاں کے ذمہ داران کی دعوت پر درس بھی دیا۔
اس روح پرور سیر سے واپسی پر ہوٹل میں کچھ دیر تازہ دم ہوکر ظہرانہ کی ضیافت کی طرف چلے ۔ راستے میں حضرت والا ڈاکٹر حامدصاحب سے ایک کتابCatastrophe کا تذکرہ فرمارہے تھے، جس کے مصنف Dick Morrisسابق امریکی صدر Bill Clintonکے قریبی مشیر رہے ہیں۔ اس کتاب کا بنیادی موضوع توامریکہ کے حالیہ صدر Barrack Obamaاور انکے طرز حکومت پر تنقید ہے، لیکن اس میں ایک پورا باب یہ بتانے کیلئے مختص کیا ہے کہ امریکہ میں غیر سودی تمویل اور حضرت والا کے اس کے فروغ میں اہم کردار سے امریکہ کے سودی نظام معیشت بلکہ اس کی سرمایہ دارانہ اقدار کوشدید خطرات لاحق ہیں ۔ حضرت نے بتایا کہ آپ نے ان اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ دوسرے لوگوں نے مختلف طریقوں سے مؤثر جواب دئے۔
بلکہ اسلام کی معجزانہ معاشی تعلیمات کی کشش کا یوں مشاہدہ بھی ہوا، کہ افریقہ کے ایک ملک کی بڑی کمپنی نے شرعی طریقہ سے تمویل حاصل کرنے کیلئے ایک یورپین غیر مسلم ماہر سے اس کیلئے خُطّہ تیار کرنے کیلئے کہا، اُسے اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کیلئے حضرت والا کی کتاب An Intrduction to Islamic Finance دی گئی، وہ اسلام کی معاشی تعلیمات سے اس قدر متأثر ہواکہ اُس نے کچھ ہی عرصے میں اسلام قبول کیا۔ اس واقعہ کی اطلاع بندے کو ایک قریبی عزیز سے ملی تھی جو ان نو مسلم صاحب سے ملاقات کرچکے تھے، اس لئے بندے نے حضرت والا کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔
ضیافت یہاں کے مشہور ہوٹل Ritz Carlton کی تیسویں منزل پر تھی، جہاں سے پورا شہر نظر آتا تھا۔ مرکزی بینک کے شریعہ ڈپارٹمنٹ ، بینک الہلال اور ADIFکے حضرات ضیافت میں شریک رہے ۔
تقریبا ًعصر کے وقت واپسی ہوئی ، اور پھر عشاء تک ہوٹل میں ہی رہے۔ عشائیہ کا انتظام بینک الہلال نے ایک معروف ترکی رسٹورانٹ میں کر رکھا تھا، جس میں مرکزی بینک کے بعض ذمہ داروں کو بھی مدعو کیا گیا۔ضیافت کے دوران ان حضرات کی گفتگو سے محسوس ہوا کہ یہ ضیافت در اصل حضرت والا سے استفادہ کا بہانہ تھی۔ بینک الہلال کے ایک ذمہ دار نے حضرت سے دریافت کیا کہ Working Capital کی تمویل کے لئے کونسا جائز طریقہ استعمال ہوسکتا ہے؟ حضرت والا نے بتایا کہ ہمارے ہاں پاکستان میں آج کل Running Musharakah کا طریقہ استعمال ہو رہا ہے ، جس میں غیر سودی بینک کمپنی میں ایک متعین مدت کیلئے اپنا حصہ ڈال کر شریک ہوجاتا ہے، اس پر انہوں نے پوچھا کہ اس مشارکہ کی تنضیض Liquidation کی کیا صورت ہوگی۔حضرت والا نے فرمایا کہ اس مشارکہ میں تنضیض حکمی کے ذریعہ نفع کا حساب کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ Working Capital سے جو مقصود ہے، یعنی کمپنی کے روزمرہ اخراجات کو پورا کرنا ، بینک سے دی ہوئی شرکت والی رقم کے ذریعہ کیسے ممکن ہے؟
حضرت نے فرمایا کہ جب یہ رقم بطور شرکت ایک واقعی اور حقیقی تجارتی سرگرمی میں شامل ہوجاتی ہے، تو پھر اس رقم کو اس سرگرمی کے مختلف اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بے شک استعمال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ سب ایک تجارتی سرگرمی کا حصہ ہے۔
مرکزی بینک کے ایک صاحب نے کہا کہ قازقستان کے بعض بڑے سودی بینکوں میں غیر سودی Windows کو قائم کرنے کا رجحان پایا جارہا ہے، لیکن بعض قانونی مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس سے قاصر رہتے ہیں، اور ان قوانین کے پیچھے جو محرک کارفرما ہے یہ ہے کہ اس قسم کی اجازت دینے میں شرعی پابندیوں پر پورا نہ اترنے کے خطرات ہیں۔ اس بارے میں حضرت کی تجویز کیا ہوگی کہ سودی بینکوں کو ایسے غیر سودی Windows قائم کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے یا نہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ اصل اور معیاری حل تو یہ ہے کہ بینک مکمل طور پر غیر سودی اور اسلامی ہو، لیکن “کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے”، لہٰذا جب تک یہ صورت قابل عمل نہ ہو تو یہ بھی غنیمت ہے کہ ایسے بنکوں میں کچھ حصہ غیر سودی تمویل کیلئے مختص کیا جائے، البتہ اس کیلئے بعض بنیادی شرائط کی پابندی ضروری ہے(1):
(۱)غیر سودی حصہ کو قائم کرنے کیلئے سرمایہ بینک کے اصل حلال سرمایہ Paid up Capital سے لیا جائے، اور سودی بینک کی ناجائز سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے نفع اور سود کو استعمال نہ کیاجائے۔
(۲)غیر سودی حصہ کے کھاتوں کو سودی حصہ کے کھاتوں سے علیٰحدہ رکھا جائے۔
(۳)غیر سودی حصہ کے حلال نفع کو سودی حصہ کے سود سے علیٰحدہ رکھا جائے، اور کسی بھی حصہ کے نفع ونقصان کو دوسرے حصہ کے نفع ونقصان پر کسی طرح بایں طور اثر انداز نہ ہونے دیا جائے کہ ایک کے نفع سے دوسرے کے نقصان کو پورا کیا جائے۔
مرکزی بینک کے ایک صاحب نے حضرت سے یہ دریافت کیا کہ کیا اس قسم کے غیر سودی Windows کی نگرانی آسان ہے؟ کیونکہ آپ کی بات سے کسی بینک کے حلال حصہ کی سرگرمیوں کو اس کے رواجی حصہ کی سرگرمیوں سے علیٰحدہ نہ رکھنے کے خطرات کا پتہ چلتا ہے؟ حضرت والا نے فرمایا کہ ایسی نگرانی قابل عمل ہے، مثلاً پاکستان میں تو یہ نگرانی اسٹیٹ بینک خود کرتا ہے، اور کسی رواجی بینک کواسلامی Windowکھولنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے اس کی باقاعدہ اجازت اور لائسنس لینا پڑتا ہے۔ اور پھر لائسنس ملنے کے بعد بھی اسٹیٹ بینک کا (ماہر ین پر مشتمل) شریعہ ڈپارٹمنٹ مستقل نگرانی کرتاہے۔ اور یہ نگرانی بینک Windowکی اپنے شریعہ بورڈ کی نگرانی کے علاوہ ہے۔
مرکزی بینک کے ان صاحب نے دوبارہ دریافت کیا کہ پاکستان میں اس قسم کے غیر سودی Windows بطور ذیلی ادارے قائم ہیں یا ان کی مستقل حیثیت ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ بعض مستقل حیثیت اور علیٰحدہ Legal Entity کے ساتھ قائم ہیں، اور بعض میں اگرچہ یہ صورت نہیں، لیکن ان کے کھاتے ، حسابات ، میزانیہ وغیرہ رواجی حصے سے بالکل علیٰحدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم مرکزی بینک کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ایسے Windows کی اجازت دی جائے، کیونکہ قازقستان کی مارکیٹ میں اسلامی بینکوں کی نمائندگی تنہا بینک “الہلال”کررہا
(۱)حضرت والا نے اس کی مزید تفصیل اپنے غیر مطبوعہ انگریزی مضمون:islamic Banking Windows میں فرمائی ہے ۔ ہے، جس کے اثاثوں کا تناسب اس انڈسٹری کا صرف ۰ئ۱ فیصد ہے، اور ہمارا ہدف ہے کہ اسلامی بینکوں کے اثاثہ جات کا تناسب کم از کم۲ یا ۳ فیصد تک ۲۰۱۲؁ ء میں پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں ہم ۲۰۲۰؁ ء میں کچھ پروگرام رکھنا چاہتے ہیں جن کے ذریعہ ہم مرکزی بینک کے سامنے اس کی ضرورت کو اجاگر کریں گے، اور جن میں آپ کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
دوران گفتگو یہ بات سامنے آئی کہ یہاں کے غیر سودی بینکوں کو اُس قانون سے مستثنی ٰ کیا گیا ہے جس میں بینکوں پر اپنے کھاتہ داروں کی رقم کی ضمانت کو ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ شریعت میں اس رقم کی ضمانت دینا جائز نہیں۔ حضرت نے یہاں یہ وضاحت فرمائی کہ Current Accountکے علاوہ دیگر بنیادوں پر رکھی ہوئی رقم میں ضرور یہ حکم ہے(۱) ، تاہم Current Account کی فقہی تکییف چونکہ قرض کی ہے، جو کہ شرعاً مضمون ہے، اس لئے بینک کو Current Account کی رقوم کا ضامن ہونا چاہئے۔ اس پر بینک الہلال کے ذمہ دار نے بتایا کہ عملا اسلامی بینک تو اس رقم کا ضامن ہوتا ہے ، لیکن اس قانون کی وجہ سے مرکزی بینک جس طرح رواجی بینکوں کیلئے ایک حد تک ان کی رقوم کی ضمانت لیتا ہے، اسلامی بینکوں کیلئے ایسا نہیں کرتا۔ حضرت نے فرمایا کہ مرکزی بینک کیلئے یہ ضمانت قبول کرنا درست ہے، اور اسلامی بینکوں کو Current Account کی حد تک مرکزی بینک کی طرف سے یہ سہولت ملنی چاہئے۔
اس وضاحت پر مرکزی بینک کے ذمہ دار کافی متأثر ہوئے۔
لذیذ کھانوں سے محظوظ ہورہے تھے، اور تأثر یہ ہونے لگا کہ کھانوں کی اقسام پیش ہوچکی ہیں ، اور ابھی کھانے کی محفل اختتام پذیر ہے، اتنے میں اور طباق پیش ہوئے ، تو حضرت والا نے خوشگوار حیرت کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ ہم تو تقریباً فارغ ہوچکے ۔ اس پر شیخ حامد نے بتایا کہ اس مشکل سے بچنے کیلئے اور مہمان کو کھانوں کی اقسام کیلئے ذہنی طور پر تیار رکھنے کیلئے تونس میں انہیں یہ رواج دیکھنے کو ملا کہ کھانوں کے “کورسز” کی تعداد کے حساب سے مہمان کے سامنے رومال رکھے جاتے ہیں، جن سے مہمان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اتنے کورسز آچکے ہیں اور اتنے باقی ہیں۔ اس پر حضرت والا نے علامہ عسکری ؒ کی کتاب الصناعتین کے حوالے سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے درمیان کی ایک
(۱) عام طورسے Current Accountکے علاوہ رقوم مضاربت کی بنیاد پر رکھی جاتی ہیں۔
نہایت بلیغ گفتگو نقل فرمائی جو عربی ادب کے ایک شہ پارے کے طور پر نقل کی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص ؓحضرت معاویہ ؓکے پاس اس وقت تشریف لائے جب حضرت معاویہ ؓکھانا تناول فرمارہے تھے، حضرت معاویہؓ نے انہیں کھانے میں شریک ہونے کیلئے فرمایا، تو حضرت عمرو ؓنے یہ کہہ کر معذرت چاہی کہ وہ کھانا کھا چکے ہیں۔ اس پر حضرت معاویہ نے دوستانہ بے تکلفی سے فرمایا کہ :
أما علمت یا عمرو أنّ من شراہۃ المرء ألّا یدع فی بطنہ مستزادا لمستزید!
“اے عمرو! تمہیں معلوم نہیں کہ یہ بڑی حرص کی بات ہے کہ آدمی اپنے پیٹ میں اتنی بھی جگہ نہ چھوڑے کہ جس میں کسی دوسرے دعوت دینے والے کے ہاں کچھ کھا سکے!”
فقال: قد فعلت یا أمیر المؤمنین.
حضرت عمروؓ: میں ایسا کرچکا ہوں(یعنی تھوڑی جگہ چھوڑی ہوئی ہے)۔
فقال: ویحک لمن بقّیتہ؟ ألمن ہو أوجب حقّا من أمیر المؤمنین؟
حضرت معاویہ: ظالم!اس زائد جگہ کو آپ نے کیا کسی ایسے شخص کیلئے چھوڑا جس کا حق امیر المؤمنین کے حق سے بھی زیادہ ضروری ہے؟
قال: لا، ولکن لمن لا یعذر عذر أمیر المؤمنین.
حضرت عمرو: ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ کسی کا حق امیر المؤمنین کے حق سے زیادہ ضروری ہو، لیکن میں نے
وہ جگہ اس شخص کیلئے چھوڑی تھی جو امیر المؤمنین کی طرح (کشادہ دل ہو کر)عذر قبول نہیں کرتا۔
قال: فلا أراک إلّا ضیعت حقا لحقّ لعلک لا تدرکہ.
حضرت معاویہؓ: میرے خیال میں تو آپ نے (ایک)حق کو ایسے دوسرے حق کے واسطے ضائع کیا جس کا موقع شاید کبھی نہ آئے۔
فقال عمرو: ما لقیت منک یا معاویۃ! ثم دنا فأکل.
حضرت عمروؓ: آپ سے تو میں نہیں جیت سکتا!پھر حضرت عمرو بھی کھانے میں شریک ہوگئے۔ (۱)
دوران گفتگو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ لطیفہ بھی سنایا کہ بصر ہ کے ا یک صا حب نے آ پ سے
(۱) کتاب الصناعتین للعسکری رحمہ اللہ تعالیٰ : الکتابۃ والشعر ص: ۱۸
گھر کی تعمیر میں لکڑی کی ایک غیر معمولی مقدار حاصل کرنے میں مدد کی درخواست کی، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس درخواست پر یہ بلیغ جملہ تحریر فرمایا:
أدارک فی البصرۃ، أم البصرۃ فی دارک؟
کیا تمہارا گھر بصرہ شہر میں ہوگا، یا بصرہ شہر تمہارے گھر میں؟ (۱)
نیز بتایا کہ مختلف خطوط یا درخواستوں پر مختصر جواب لکھنے کو عربی ادب میں “توقیع”کہتے ہیں، اور یہ ادب کی بڑی خوبصورت صنف ہے، اور یہ ایک مستقل فن ہوتا تھا، جس کی بہت سی مثالیں ابن عبد ربہ نے “العقد الفرید” میں جمع کی ہیں۔
ایک ادبی لطیفہ جعفر بن یحیی کا یہ سنایا کہ کسی نے ان سے اپنے کسی گورنر کی شکایت کی، تو انہوں نے اس گورنر کو اپنے خط میں اس ایک بلیغ جملہ سے یہ انتہائی مؤثر تنبیہ کی:
قد کثر شاکوک، وقلّ شاکروک؛ فإمّا اعتدلت، وإما اعتزلت
تمہارے شکایت کرنے والوں کی کثرت ہوگئی ہے، اور تمہاری قدردانوں کی قلت ہوگئی ہے، لہٰذا یا تو تم سیدھے ہوجاؤ، ورنہ الگ ہوجاؤ۔ (۲)
مرکزی بینک کے ایک ذمہ دار نے روئے سخن کو دوبارہ معیشت کی طرف موڑتے ہوئے حضرت والا کو یہ اطلاع دی کہ صدر مملکت نے آستانہ میں ایک وسیع Financial Centre قائم کرنے کی منظوری دی ہے، جس میں اسلامی مالیاتی اداروں کیلئے غیر معمولی رعایتیںرکھی گئی ہیں، مثلا ً دو سال تک اس سینٹر میں قائم ہونے والے اسلامی مالیاتی اداروں سے کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا، اور پچاس سال تک ایسے اداروں کی آمدنی پر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔حضرت والا نے خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے، مرکزی بینک کے ذمہ داروں کواس طرف متوجہ فرمایا کہ اسلامی مالیاتی اداروں میں ایک عام مشکل یہ پیش آتی ہے کہ چونکہ ان کے معاملات
(۱) وکتب الیہ (سیدنا معاویۃ رضی اللہ عنہ ) ربیعۃ بن عسل الیربوعی یسالہ أن یعینہ فی بناء دارہ بالبصرۃ باثنی عشر ألف جذع: أدرک فی البصرۃ ، أم البصرۃ فی دارک؟ (العقدالفرید۴:۲۸۸)
(۲) کتب جعفر بن یحیی الی عامل شُکی: قد کثر شاکوک ، وقل شاکروک ؛فاما عدلت ،وامااعتزلت۔(الصناعتین : الکتابۃ والشعرص: ۱۹۱
تجارت کے زمرے میں آتے ہیں، اس لئے ان کو تجارتی معاملہ شمار کر کے اُن پر VAT کا ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر مالیاتی اداروں کے معاملات کو تمویل کے زمرے میں شامل کر کے وہ اس ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔ اس پر مرکزی بینک کے ذمہ دار نے بتایا کہ تقریباً تین سال سے ایک قانون کے ذریعہ اسلامی بینکوں کو VAT سے مستثنیٰ کیا گیا ہے، جس پر حضرت والا نے مزید خوشی کا اظہار فرمایا۔
اور یوں مختلف دلچسپی کے موضوعات کی گفتگو سے محظوظ ہوتے ہوئے یہ پر کیف مجلس برخاست ہوئی۔
جائے قیام پر پہنچ کر حضرت والا نے اگلے روز کے سیمینار میں خطاب کیلئے المجلس الشرعی کے کردار کے موضوع پراپنے تحریرفرمودہ عربی مقالوں پر ایک نظر ڈالی، اور پھر آرام فرمایا۔
۲۴ دسمبر الماتے کا سیمینار
اس روز وہ پہلا سیمینار منعقد ہوا جس کی اہمیت کے پیش نظر ADIF نے حضرت والا کو مدعو کیا، اور یہ سیمینار غیر سودی نظام معیشت کو عمومی طور پر ترقی دینے کیلئے اور خصوصی طور پر مرکزی بینک کے ساتھ مل کر ایک مرکزی شریعہ بورڈ کے قیام کی کوشش میں ایک اہم اقدام تھا۔
یہ سیمینار جائے قیام سے کچھ فاصلے پر Grand Voyage ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں مرکزی بینک کے ذمہ داروں کے علاوہ، ملک کی مختلف وزارتوں سے متعلق اہم مناصب پر فائز شخصیات کو مدعو کیا گیا۔حضرت والا نے یہاں جو فکر انگیز اور نہایت مؤثر انگریزی خطاب فرمایا، اس کا خلاصہ ذیل میں پیش کرنے کی اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتا ہوں۔ واللہ الموفق والمعین:
” بعد از حمد وثنا ودرود و سلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ حضرات کے ساتھ آج کی یہ ملاقات میرے لئے بڑا اعزاز ہے، جس میں ہم ایک ایسے اہم مسئلے کو زیر بحث لارہے ہیں جو قازقستان ہی کو نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو در پیش ہے۔
اور ہم یہاں اُس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں جسے ایک زمانہ میں ایک ناقابل عمل (Utopian) تصور کہا جاتا تھا، جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے آج پوری دنیا کی تمویل و معیشت سودی نظام کے گرد گھوم رہی ہے، جبکہ قرآن کریم نے ربا کی مذمت میں وہ عنوان اختیار فرمایا ہے جسے کسی اور کبیرہ گناہ، شراب نوشی، جوا، زنا وغیرہ کیلئے استعمال نہیں فرمایا، یعنی قرآن کریم کا اعلان ہے:

(فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ ) (البقرۃ:279)
پھر بھی اگر تم ایسا نہ کروگے (یعنی سود کا حصہ نہ چھوڑو گے) تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ِ جنگ سن لو۔

اسی طرح بہت سی احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کو معاشرہ سے بالکل ختم کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اس سب کے باوجودآج بلکہ گزشتہ چند صدیوں سے دنیا کا معاشی نظام سود پر مبنی چلا آیا ہے۔
لہٰذا شروع میں جب اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تھی تو اس متبادل نظام کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ایک ناقابل عمل تصور ہے، کیونکہ یہ محسوس کیا جاتا تھا کہ اگر ہم سود کو ترک کردیں گے تو پوری معیشت (economy) ختم ہوجائے گی، لیکن الحمد للہ بعض مسلمان تاجروں اور علماء کی کاوشوں سے اسلامی مالیاتی اداروں کے قیام کی تحریک شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ پوری دنیا میں مسلم غیر مسلم ممالک میں بھی ایک بڑی تعدادمیں اسلامی مالیتی ادارے قائم ہوئے۔
جب ہم ربا کو اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے حرام قرار دینے کی بات کرتے ہیں تو ہمارا یہ ایمان ہوتا ہے کہ اس حکم کی اطاعت نظریاتی اور عملی (in theory and practice)دونوں طریقوں سے ہونا ضروری ہے۔ پھر اس حرمت کا فائدہ صرف مسلمانوں کی حد تک نہیں، بلکہ پوری انسانیت کیلئے ہے۔
حرمت ربا کے پیچھے یہ حکمت کارفرما ہے کہ ایک منصفانہ نظام معیشت (Equitable Economic System) قائم کیا جائے۔ جن لوگوں نے موجودہ نظام معیشت کا تعمق کے ساتھ جائزہ لیا ہے انہیں یہ تأثر قائم کئے بغیر چارہ نہیں کہ یہ نظام اپنے ساتھ متعدد خرابیاں لایا ہے، سود غیر منصفانہ تقسیم دولت کا سبب ہے، اور غریب اور امیر کے درمیان کے فرق کو اور بڑھادیتا ہے، ۲۰۰۸ ؁ ء کے عالمی معاشی بحران کا ایک بنیادی سبب یہی تھا ، ان اسباب کی نشاندہی میں نے مختلف مقالوں میں کی ہے، اور اس کا حل بھی یہ بتایا ہے کہ ان اصولوں کی پابندی کی جائے جو اس کائنات کے خالق نے خود طے فرمائے ہیں، لہٰذا اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کی خاطر بہت سے اسلامی مالیاتی ادارے دنیا بھر میں قائم ہوئے ہیں، بلکہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی اداروں میں اضافے کی شرح سودی مالیاتی اداروں سے کہیں زیادہ ہے، نیزالحمد للہ نئے اسلامی مالیاتی اداروں کو قائم کرنے کی طرف ایک حرکت پائی جاتی ہے۔
مجھے اس بات سے بڑی مسرت ہوئی کہ قازقستان اسلامی معاشی نظام کو روبعمل لانے کی طرف بتدریج سفر طے کررہا ہے، جیسا کہ مرکزی بینک کے ذمہ داران سے معلوم ہوا ، بلکہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ جناب صدر مملکت صاحب نے دبئی میں جو فکر انگیز خطاب فرمایا اس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ ان کا عزم قازقستان کو اسلامی بینکاری کا مرکز بنانے کا ہے۔
ساتھ ہی ہمارے لئے اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلامی مالیاتی ادارے سودی مالیاتی اداروں سے اپنے “نظریہ و عمل” ، فلسفہ، معاملات ، احکام اور اصول وقواعد کے اعتبار سے بہت مختلف ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان احکام اور اصول کا علم ان حضرات کے ہاں آسانی سے نہیں ملتا جن کی تربیت رواجی تمویل کے نظریہ کے مطابق ہوئی ہے، جبکہ کسی اسلامی مالیاتی ادارے کو قائم کرکے شریعت کے مطابق چلانے کیلئے اسلامی تعلیمات اور اصول میں مہارت درکار ہے۔لیکن افسوس ہے کہ پچھلی دو صدیوں سے مسلمان ان احکام اور اصول کے علم سے بہت دور رہے، کیونکہ ان کے تعلیمی ادارے موجودہ سود پر مبنی معاشی نظام کی تعلیم دیتے ہیں ، لہٰذا وہ پوری طرح ان بنیادی احکام اور اصول سے واقف نہیں جن کی رعایت سے شریعت معاملات کو جائز قرار دیتی ہے۔لہٰذا اسلامی مالیاتی اداروں کے شریعت کے مطابق اپنے معاملات انجام دینے کیلئے، اس کی بڑی اہمیت ہے کہ ان معاملات کی نگرانی ایسے لوگ کریں جن کے پاس شرعی احکام واصول کا گہرا علم ہو۔ ایسے علماء کی جماعت کو شریعہ بورڈ کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا جب سب سے پہلا اسلامی بینک قائم ہوا، تو اس کی شرعی نگرانی کیلئے ایک شریعہ بورڈ بھی عمل میں لایا گیا۔
اس کی اہمیت کو یوں سمجھئے کہ دین اسلام کا دوسرے مذاہب پر امتیاز یہ ہے کہ وہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں جہاں عبادات سے متعلق ہدایات ہیں، وہیں معاشرتی اور معاشی معاملات کے بارے میں بھی تفصیلی تعلیمات ہیں۔ بر خلاف دیگر مذاہب کے کہ ان کادائرہ عبادات وغیرہ تک محدود رہتا ہے، اور شریعت کی تعلیمات اور اصول کی گہری سمجھ معاملات کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے انجام دلوانے کیلئے انتہائی ضروری ہے، پھر شریعہ بورڈ کی دو بنیادی ذمہ داریاں ہیں:
(۱)ان اصول اور قواعد کو طے کرنا جن کے مطابق اسلامی مالیاتی ادارہ اپنے معاملات کو انجام دیگا۔
(۲)جو معاہدات ان معاملات کیلئے استعمال ہوتے ہیں انہیں تیار کرنایا انہیں (شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لے کر) منظور کرنا۔
کیونکہ سودی نظام اور اسلامی نظام کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ سودی نظام کے تمام معاملات کی بنیاد ہی سودی قرض ہے، لیکن اسلام میں قرض کا تصور تو بطور صدقہ اور امداد ہے، بطورتجارتی معاملہ کے بالکل نہیں، بلکہ اسلامی مالیاتی اداروں کے تصور کی بنیاد یہ ہے کہ بجائے پیسوں کو پیسوں کے عوض فراہم کرنے کے، وہ حقیقی اشیاء اور حقیقی معیشت کے مصنوعات میں معاملہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے معاملات خرید و فروخت، کرایہ اور (اس قسم کے) دیگر عقود ہوتے ہیں۔ اور ان تمام عقود کو شرعی اصول وقواعد کے موافق انجام دینے ہوتے ہیں، شریعہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ ان معاملات کو شریعت کے مطابق انجام دینے کی نگرانی کرے۔ بسا اوقات کسی معاملہ کو شرعی حدود میں رکھنے کیلئے بڑی نازک حد فاصل کی رعایت رکھنی ہوتی ہے۔مثلاً : اگر کسی شخص کو قرض دے کر اس سے اضافہ وصول کیا جائے تو یہ سود ہے، لیکن اگر کسی کو کوئی چیز فروخت کرکے اس پر نفع کمایاجائے تو اس کی شریعت میں اجازت ہے،لہٰذاجن متبادل معاملات کو شریعت نے بتایا ہے، وہ سودی معاملات سے یکسر مختلف ہیں، لیکن بسا اوقات ان دونوں کے درمیان بڑی نازک حد فاصل ہوتی ہے، لہٰذا اس حد فاصل کو سمجھنے کیلئے اور (جائز اور ناجائز کے درمیان) فرق کو بر قرار رکھنے کیلئے شریعت کے عمیق علم کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی مالیاتی اداروں کو شریعہ بورڈ کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ شریعہ بورڈ مشاورت کا کردار یوں ادا کرتا ہے کہ معاملات کو انجام دینے کیلئے اصول اور قواعد طے کرتا ہے، لیکن پھر ان معاملات کی اصول وقواعد کے موافق انجام پانے کی نگرانی بھی کرتا ہے۔جہاں تک قانون سازی کی سطح پر نگرانی کا تعلق ہے، یہ ذمہ داری مرکزی بینک یا دیگر با اختیار محکمہ کی ہے۔ ہر اسلامی مالیاتی ادارے کیلئے ایک شریعہ بورڈ ہوتا ہی ہے، لیکن چونکہ شریعہ بورڈ کے سامنے ایسے مسائل پیش ہوتے ہیں، جن میں ایک قسم کا اجتہاد بھی کرنا پڑتا ہے، اس لئے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس اجتہاد کے نتیجے میں ایک شریعہ بورڈ کا فیصلہ دوسرے کے فیصلہ سے مختلف ہوجاتا ہے۔ اس اختلاف کو کم کرنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ عالمی طور پر شریعہ بورڈز کے فتاوی کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو، اس مقصد کیلئے AAOIFI کے تحت ایک “مرکزی” شریعہ بورڈ “المجلس الشرعی” کے نام سے قائم ہوا، جو عالم اسلام کے مختلف حصوں سے متعلق ۲۰ علماء کرام پر مشتمل ہے، اور وہ( بحث و تمحیص کی ایک طویل کارروائی کے بعد) شرعی احکام کے معاییر تیار کرتے ہیں۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں میں اب تک الحمد للہ ۵۴ معاییر تیار ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔
اب الحمد للہ آپ حضرات نے اسلامی مالیاتی اداروں کو یہاں قائم کرنے کے مقدس ہدف کی طرف قدم اٹھایا ہے، جس پر میںآپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، الحمد للہ یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ اس اقدام کو شرعی اور عملی لحاظ سے کامیاب کرنے کیلئے قازقستان کے مرکزی بینک میں ایک شریعہ بورڈ قائم کیا جائے گا، مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ اس شریعہ بورڈ اور آپ کی کوششوں کے ایک حقیقی اسلامی تمویلی نظام کو بتدریج قائم کرنے کیلئے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔
بعض لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس میں رواجی سودی مالیاتی اداروں کا پوری معیشت پر غلبہ ہے ، اس میں کسی ایک اسلامی مالیاتی ادارے کو قائم کرنا کیسے ممکن ہوگا؟وہ کام کیسے کرے گا؟ موجودہ نظام تمویل کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کیسے ہوگی؟لیکن میرے بھائیو، بہنو، میں آپ کو اپنے اس میدان کے تیس، پینتیس سالہ تجربہ کی روشنی میں یقین دلاتا ہوں، کہ ابتداء میں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے، اور ہر نئے کام کا یہ معاملہ ہے کہ وہ بہت مشکل معلوم ہوتا ہے،بڑی رکاوٹیں محسوس ہوتی ہیں، لیکن جہاں عزم ہوتا ہے وہاں راستہ بھی ہموارہوتا جاتاہے، لہٰذا اس عزم کے ساتھ شروع کریں کہ ہم قدم بڑھائیں گے چاہے ہماری کاوش کے نتیجہ میں بہت معمولی ہی سا فرق پڑے گا، یہ معمولی فرق کی بنیاد جب یہ نیت ہو کہ اس کے ذریعہ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کررہے ہیں، تو یہ معمولی کاوش رفتہ رفتہ بڑھ کر ایک ایسی کاوش بن جاتی ہے جس کا اعتراف کیا جائے گا۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے اور آیا ہے جب وہ لوگ جوغیر سودی بینکاری کا مذاق اڑایا کرتے تھے، خودسودی نظام کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ۲۰۰۸؁ء کے معاشی بحران میں لوگوں نے بجا طور پر یہ محسوس کیا کہ اس بحران کے نتائجِ بد ان مالیاتی اداروں میں کم رو نما ہوئے جو اسلامی تعلیمات پر کاربند تھے۔کیونکہ اس بحران کے بنیادی اسباب کا جائزہ لیا جائے تو وہ سود، دیون کی فروخت، قبضے سے پہلے بیع اور مشتقات ہیں، اور ان سب پر اسلامی مالیاتی اداروں میں عمل نہیں ہوتا ،جس کی وجہ سے یہ ادارے محفوظ رہے۔ مغرب کے اخبار وجرائدمیں اس پر متعدد مضامین سامنے آرہے ہیں، جن میں بتایاگیا ہے کہ اسلامی مالیاتی ادارے دنیا میں ایک پائیدار نظام تمویل فراہم کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ہماری آخری منزل ابھی بہت دور ہے، اپنے کام کو بہتر بنانے کی ابھی بہت ضرورت ہے اور راہ میں رکاوٹیں بھی بہت ہیں، لیکن صدق واخلاص کے ساتھ ہم اپنا سفر جاری رکھیں، تو ان شاء اللہ ہم ا س منزل تک پہنچ کر رہیں گے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوگی۔
ہم بحیثیت مسلمان بھی ، اور انسانیت کی خیرخواہی میں بھی لوگوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس نظام پر چلیں۔ اب سودی نظام معیشت ایک بڑے بلبلہ اور غبارے کی طرح ہوگیا ہے جس کے پیچھے کچھ حقیقت نہیں، اور حقیقی معیشت پوری دنیا میں زر کے پھیلاؤ کا ایک انتہائی معمولی حصہ رہ گیا ہے ، یہاں تک کہ کاغذی نوٹوں کا تناسب بھی زر کے مجموعی پھیلاؤ کے مقابلے میں ۳فیصد سے متجاوز نہیں، لہٰذا ہمیں ایک حقیقی نظام کی طرف آنا ہوگا جو حقیقی معیشت پر مبنی ہو ۔ آپ حضرات کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے یہ مبارک اقدام کیا، اللہ سبحانہ وتعالی سے دعاء ہے کہ آپ کو کامیابی عطا فرمائیں ۔ آپ حضرات کی مہمان نوازی کا بھی شکر گزار ہوں، اور میرے چند کلمات کو سننے پر بھی۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔”
حضرت والا کے خطاب کا روسی زبان میں ساتھ ساتھ ترجمہ بھی کیا جارہا تھا، جیسا کہ جو خطاب روسی زبان میں ہوئے ان کا اسی وقت لفظ بہ لفظ انگریزی ترجمہ بھی ہورہا تھا، اس کیلئے طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ کمرے کے گوشے میں ایک صاحب مائکروفون میں ترجمہ کرتے جس کی آواز کان کے آلات میں سنائی دیتی، یہ کان کے آلات حسب ضرورت تمام شرکاء کیلئے دستیاب تھے۔
ADIF کا دفتر
یہاں سے فارغ ہو کر ہمارے میزبان حضرات نے اپنے دفتر کا معاینہ کرایا، جس کی سادگی سے دل بہت متأثر ہوا، اور یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ انہیں حضرات کا دفتر ہے جو اس پورے ملک میں سود کے خاتمے کے لئے برسر پیکار ہیں، اور جس کیلئے انہوں نے ایسا عظیم الشان سیمینار منعقد کیا، یقینا اس ساد گی میں ان کا اخلاص نمایاںتھا۔ بلکہADIFکے چیئرمین جناب زارت صاحب نے حضرت کی خدمت میں اپنی اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ اپنے بیٹے (جس کی عمر ابھی صرف دس گیارہ سال ہے)کو علم دین حاصل کرنے کیلئے پاکستان بھیجنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ بڑا ہوکر سود کے خلاف ان کی مہم میں اپنے والد کا معین ہو۔ اس جذبے کی حضرت نے بڑی قدر فرمائی اور بچے کے ذرا شعور سنبھالنے کے بعد پاکستان بھیجنے پر خیر مقدم کیا۔ حضرت والا نے اس ادارے اور اس کے عملے کی ترقی کیلئے دعا فرمائی۔اور یہاں سے رخصت لی، کیونکہ شام کو ہماری آستانہ کیلئے روانگی طے تھی۔
دار الحکومت آستانہ کی طرف
ہوٹل پر پہنچ کر مختصر آرام اور سامان تیار کر کے ہوائی اڈے کیلئے روانہ ہوئے۔ فاصلے اور پھر ہجوم کے پیش نظر پرواز سے کافی پہلے نکلے، اور بحمد اللہ وقت سے کافی پہلے پہنچ گئے۔ انتظار گاہ میں حسب معمول حضرت والا کی گفتگو علم وعرفان کی باتوں سے معمور رہی۔ آپ نے اپنا یہ واقعہ سنایا کہ جب آپ کے حضرت والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ آخر عمر میں علیل ہوئے تو ہمارے حضرت کو حج بدل پر جانے کا ایک موقع ملا، جسے قبول کرنے میں حضرت والد صاحب قدس سرہ کی علالت کی بنا پر تردد تھا، حضرت والد صاحب نے اطمینان بھی دلایا اور بخوشی اجازت بھی دی لیکن حضرت والا نے سوچ وبچار کے بعد اس سفر کو ملتوی کیا، کیونکہحج کی سعادت ایسی چیز ہے جس کی تلافی بعد میں ہوسکتی تھی ، لیکن والد کی خدمت کے موقع کا نکل جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ بعد میں حضرت والد صاحب کے دریافت کرنے پر حضرت نے سفر کو ملتوی کرنے کی اطلاع یہ کہہ کر دی کہ “میرا تو حج اور عمرہ یہیں آپ کے پاس ہے۔” جس پر حضرت والد صاحب بے حد مسرور ہوئے اور دعاء دی کہ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو زیارت حرمین کے اتنے مواقع نصیب فرمائیں گے کہ لوگ آپ پر رشک کریں گے۔ اور بحمد اللہ یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ حضرت والد صاحب کے وصال کے بعد بلا ناغہ ہر سال مجھے تین چار مرتبہ عمرے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت والد صاحب میرے لئے سب کچھ تھے، میرے والد بھی تھے، میرے استاذ اور شیخ بھی۔ حضرت نے (تواضع کی انتہاء سے) یہ بھی فرمایا کہ میرے پاس بس صالحین کی دعائیں، ان کی محبت اور شفقتیں ہیں۔
نماز مغرب حضرت کی اقتداء میں ائیرپورٹ کے مصلے میں ادا کی، مغرب کے فوراً بعد شیخ حامد نے اپنے مذہب کے مطابق جمع بین الصلوٰتین کیلئے عشاء کی امامت فرمانے کی درخواست حضرت سے کی، جس سے حضرت والا نے خوبصورت انداز سے یوں معذرت کی کہ آپ ہی امامت فرمائیں اور ہم آپ کے پیچھے نفل کی نیت سے دو رکعت پڑھ لیں گے، اور عشاء کے وقت میں عشاء ادا کریں گے۔
آستانہ کی پرواز نماز عشاء ادا کرنے کے کچھ ہی دیر بعد روانہ ہوئی، اور بحمد اللہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے میں بہت ہی عافیت سے مزید شمال کی طرف ۹۰۰ کلومیٹر کا یہ سفر قازقستان کے دار الحکومت تک طے ہوا۔ دو دن قبل کی پیشن گوئی کے مطابق یہاں کا درجۂ حرارت آمد کے وقت منفی ۱۲؍سے منفی ۱۵؍ہونا چاہئے تھا، لیکن عجیب بات ہے کہ درجہ حرارت الماتے سے بھی کچھ بڑھا ہوا تھا، اور صرف منفی ۱؍ تھا، یہاں تک کہ گرم کپڑوں کے ساتھ بحمد اللہ یہ خنکی خوشگوار محسوس ہوئی۔ اس پرواز پر الماتے سے مرکزی بینک کے حضرات بھی اگلے روز کے سیمینار میں شرکت کیلئے ساتھ تھے۔ جہاز سے باہر ان حضرات سے مختصر ملاقات کر کے پہلے ایک مطعم اور پھر جائے قیام میریٹ ہوٹل کی طرف رخ کیا۔یہاں کی ترقی تو الماتے سے زیادہ محسوس ہوئی۔اور طرز تعمیر میں مزید جدت کا مشاہدہ ہوا، جس کے چاروں طرف برف نے مزید خوبصورتی پیدا کردی تھی۔ یہاں کی آبادی ۸؍لاکھ سے متجاوز ہے اور اس اعتبار سے الماتے کے بعد آستانہ کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔
رات کو حضرت والا کی خدمت میں اُزبکستان کے کچھ بے حد محبت کرنے والے حضرات بڑا طویل سفر طے کر کے حاضر ہوئے، ان کی گزشتہ سال کرغیزستان میں بھی حضرت والا سے ملاقات ہوئی تھی۔ حضرت سے اپنے حیرت انگیز مجاہدات کے ساتھ تحصیل علم کی داستان سنائی، کہ خفیہ طور پر گھر میں ایک عالم سے کتب حدیث پڑھ رہے ہیں، وہاں پابند شریعت مسلمانوں کیلئے بڑی مشکلات ہیں، اور طرح طرح کی رکاوٹیں ہیں، حالانکہ یہ وہ علاقہ ہے جو ایک زمانہ میں علوم دین کا مرجع و مأوی تھا، امام بخاری ، امام ترمذی اور دیگر ائمہ رحمہم اللہ کے وطن بھی اسی ملک کے شہر ہیں۔
کچھ دیر حضرت کی خدمت میں رہے پھر رخصت ہوتے وقت یہ بھی درخواست کی کہ حضرت والا کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کرنا چاہ رہے ہیں۔ چنانچہ صبح صادق کے کچھ دیر بعد تقریباً ۸ بجے دوبارہ یہ حضرات آئے(یہاں طلوع آفتاب تقریباً سوا نو بجے تھا)، اور حضرت کی اقتداء میں ہم سب کو فجر کی نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔
۲۵ دسمبر بروز جمعہ آستانہ کا سیمینار
صبح کو جائے قیام پر ہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں تقریبا ً گزشتہ روز والے موضوعات ہی زیر بحث آئے۔اور اجتماع بھی تقریبا ً اسی طرح کا تھا۔ حضرت والا کے خطاب کے بعد ایک شخص کے سوال پر حضرت نے یہ وضاحت ایک انوکھی تعبیر سے فرمائی کہ اسلام میں فرصت ضائعہ (time value of money) کا اعتبار تو نہیں، (لہٰذا کوئی شخص اپنے ادھار پردئے ہوئے روپوں پر اضافہ یہ دلیل دے کر وصول نہیں کرسکتا کہ اگر میں نے یہ رقم کسی نفع یا سود کمانے والی سرگرمی میں لگائی ہوتی تو مجھے اتنا نفع یا سود ملتا، لہٰذا قرضدار کو بھی چاہئے کو اُتنا اضافہ دے)، ہاں البتہ اسلام میں time value of commodityضرور معتبر ہے ، جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اگر کسی چیز کی ادھار فروخت کے وقت اس کا ثمن نقد فروخت کے مقابلہ میں زیادہ طے کیا جائے تو ایسا کرنا بالکل جائز ہے، تاہم اس میں یہ ضروری ہے کہ عقد کے وقت ہی ادھار فروخت کا ثمن طے ہوجائے۔
سیمینار سے فارغ ہو کر نماز جمعہ کیلئے وسط ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ، حضرت سلطان مسجد ، کی طرف چلے، یہ مسجد صدر مملکت صاحب نے تعمیر کرائی ہے اور ہر قسم کی جدید سہولیات سے آراستہ ہے ، اٹھارہ ہزار مربع فٹ پر مسجد کی عمارت ہے، اور اس کی خوبصورتی اور انداز تعمیر میں جدید اور قدیم کا حسین امتزاج قابل دید تھا۔جمعے کا خطاب مقامی زبان میں ہوامگر خطبہ عربی میں ہوا، اور پھر نماز کے بعد الماتے کی مسجد کا تجربہ دہرایا گیا، کہ پہلے مختصر ذکر، پھر دعاء کرائی گئی اور تلاوت قرآن پاک پر مجلس برخاست ہوئی۔ البتہ اس مرتبہ مجلس برخاست ہوتے ہی امام صاحب نے مقامی زبان میں حضرت والا کا مختصر تعارف کرایا اور مجمع کے اشتیاق کی وجہ سے حضرت سے دعاء کی درخواست کی، حضرت نے مختصر دعاء فرمائی اور پھر مجمع سے مصافحہ فرمایا۔
امام صاحب نے جو جامعۃ الازہر کے فیض یافتہ ہیں، حضرت کے اعزاز میں نائب مفتی صاحب، اور قازقستان کی طرف سے مجمع الفقہ الاسلامی کے نمائندہ سمیت دیگر معززان شہر کی ضیافت کی ۔ اوریہ انتظام احاطہ مسجد کے اندر اس مقصد سے بنے ہوئے ایک خاص کمرے میں کیا گیا۔ ضیافت میں یہاں کا روایتی کھانا، گھوڑے کا گوشت بھی پیش ہوا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ یہاں کی شدید سردی کا بہترین علاج ہے۔
سہ پہر گئے ضیافت سے فارغ ہوئے اور ہوٹل پہنچ کر آرام کیا۔ کچھ ملاقاتیں بعض حکومتی مالیاتی اداروں سے طے تھیں، لیکن اس وقت حضرت کو تکان بہت تھا، جس کی وجہ سے آپ نے جناب ڈاکٹر حامد صاحب کو اپنی نمائندگی میں ان ملاقاتوں کیلئے بھیجا۔
شام کے وقت ازبکستان کے ساتھیوں نے حضرت کی خدمت میں بیعت کی درخواست کی، حضرت والا نے بیعت کی حقیقت ان کے سامنے واضح فرمائی کہ یہ محض ایک رسمی چیز نہیں، بلکہ شیخ کواپنے حالات سے باخبر رکھ کر اپنے اصلاح طلب احوال کو شیخ کی ہدایات کے مطابق درست کرنا ہوتا ہے۔ اور موجودہ صورتحال میں شاید یہ پابندی مشکل ہوگی، کیونکہ ازبکستان سے حضرت والا کو حالات سے باخبر رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ البتہ بیعت کی ایک دوسری قسم ہے جو برکت حاصل کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ اس طور پر آپ کو بیعت کرنے میں حرج نہیں،حضرت نے انہیںدوسری قسم کے مطابق بیعت فرمایا اور درد دل سے ایسی دعاء فرمائی کہ سب آبدیدہ تھے۔ اس کے بعد اذکار کی تلقین فرمائی اور گناہوں سے بچنے اور باجماعت نماز اداکرنے کی تاکید فرمائی۔ اس مجلس کی ایک عجیب وغریب کیفیت تھی جسے بیان کرنے میں میری اس عبارت نے ہرگز انصاف نہیں کیا، فأستغفر اللہ علی ذلک ۔
۲۶دسمبر
صبح حضرت سلطان مسجد کے احاطے میں ادارہ دینیات کی مقبول ویب سائٹ muslim.kz کے ساتھ ایک انٹرویو طے تھا ۔ جس میں اسلامی نظام تمویل ومعیشت سے متعلق سوالات کے حضرت والا نے بصیرت افروز جواب دئے ۔ذیل میں اس انٹرویو کا خلاصہ پیش خدمت ہے:
سوال: اسلامی تمویل کیا ہے اور اُس میں اور مروجہ تمویلی نظام کے درمیان کیا فرق ہے؟
حضرت والا: موجودہ تمویلی نظام جس کا ہم پچھلی چند صدیوں سے تجربہ کر رہے ہیں، اس کی بنیاد بغیر کسی قدغن کے سرمایادارانہ معیشت ہے، کسی بھی معاملہ کی کوئی ممانعت نہیں ہے، خاص طور پر اکثر معاملات جو مروجہ نظام کے تحت طے ہوتے ہیں، وہ سود پر مبنی ہوتے ہیں۔ اسلامی تمویلی نظام اور مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگرچہ اسلام شخصی ملکیت اور شخصی تجارت کو جائز قرار دیتا ہے ، لیکن ساتھ ہی اسلام نے ان پربعض کڑی شرائط اور حدود عائد کی ہیں، لہٰذا اسلام نے رقم کو سود کے ذریعہ حاصل کرنے کی ممانعت کی ہے، اسلامی تمویل کا بنیادی تصور یہ ہے کہ زر کو سامان تجارت شمار نہ کیا جائے ، بلکہ زر ایک آلہ تبادلہ ہے ۔ ہاں بعض اہم ضرورتوں کیلئے جب کسی ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کی اسلام نے اجازت دی ہے، لیکن عام حالات میں زر ایسی چیز نہیں ہے جس کی تجارت کی جائے، بلکہ تجارت تو اشیاء میں ہونی چاہئے، یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو قرض دیتے ہیں، تو اصل قرض کے اوپر کوئی رقم وصول نہیں کی جاسکتی ، اسی طرح اسلام نے قمار اور غرر والے معاملات کو ممنوع قرار دیا ہے ، لہٰذا بازاری قوتوں کو ان حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کو روا رکھا گیا ہے۔ پس عام فہم زبان میں مروجہ تمویلی نظام اور اسلامی تمویلی نظام کے درمیان فرق یہ ہے کہ مروجہ نظام کی بنیاد سود پر ہے، اور بعض صورتوں میں وہ غرر پر مبنی ہے، جبکہ اسلامی تمویلی نظام بغیر سود، غرر اور قمار کے چلتا ہے۔
سوال: اگر قازقستان میں اسلامی مالیاتی ادارے قائم ہوں، تو کیا ہمیں مروجہ نظام کو بالکلیہ ترک کردینا چاہئے؟
حضرت والا: اسلام کی رو سے معیاری صورت حال یہی ہے کہ تمام مالیاتی ادارے اسلام کی تعلیمات پر کاربند ہوں، اور وہ سود، غرر اور قمار سے اجتناب کریں، تاہم موجودہ صورت حال میں جبکہ ایسا عملًا ہوجانا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا، کہ اس ملک کے تمام مالیاتی ادارے اسلامی نظام کی طرف آجائیں، ایسی صورت حال میں مجبوراً تدریجی لائحہ عمل اختیار کیا جاسکتا ہے، جس کی رو سے تمام مالیاتی اداروں کو اسلامی مالیاتی اداروں میں تبدیل کیا جائے، (لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا)اُس وقت تک عملاً دو قسم کے مالیاتی اداروں کا وجود ہوگا، مسلمانوں کو اسلامی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا ہوگا۔
سوال: آج کل قازقستان کے تقریباً تمام بینک مروجہ (سودی) نظام کے مطابق کام کرتے ہیں، بینکوں سے تمویل لینے میں ناجائز طریقوں سے کیسے اجتناب کیا جاسکتا ہے؟
حضرت والا: شریعت کی رو سے کسی مسلمان کیلئے اسلامی طریقہ ٔ تمویل اور اداروں کے ہوتے ہوئے، چاہے کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں، سود پر قرض لینا جائز نہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ اسلامی نظام ، اور اسلامی مالیاتی اداروں کو فرو غ دینے کی کوشش کریں، ایک زمانہ تھا جب حلال گوشت دستیاب نہیں ہوتا تھا ، اس کا نتیجہ یہ تو نہیں ہوا کہ لوگوں نے حرام گوشت کو اختیار کرنا شروع کردیا، بلکہ لوگوں نے کوشش کی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی، اور الحمد للہ اب حلال گوشت ہر جگہ دستیاب ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ چونکہ اسلامی طرقہائے تمویل میسر نہیں، اس لئے ہمیں مروجہ سود ی تمویل کی طرف جانا ہوگا، یہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے، حل یہ ہے کہ اسلامی نظام تمویل کو قائم کرنے کی جد و جہد کی جائے۔
پھر مجوزہ سودی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی اگر مسلمان یہ عزم کریں کہ ہم ان کے ساتھ بھی معاملات شرعی طور پر جائز معاہدات کے ذریعہ انجام دیں گے، تو ان اداروں کیلئے ایسا بھی کرنا ممکن ہے، بلکہ متعدد ممالک میں ایسا ہوا بھی ہے، کہ مالیاتی ادارے کے سودی ہونے کے باوجود، معاملہ کرنے والے یا تمویل حاصل کرنے والے کیلئے خاص (جائز)معاہدہ عمل میں لایا گیا، لہٰذا مسلمانوں کی ضرورت یہ ہے کہ وہ جد وجہد کریں، اور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں کہ جیسے ہمیں اطلاع ملی ہے کہ حکومت قازقستان اسلامی نظام تمویل کی بہت حامی ہے ، یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ قازقستان کو اسلامی تمویل کا مرکز بنانے کا ارادہ ہے، لہٰذا مسلمانوں کو اس کی حمایت کرنی چاہئے۔ البتہ مشکل بسا اوقات یہ پیش آتی ہے کہ مسلمان خود اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم تمویل مروجہ (سودی) طریقہ سے حاصل کریں یا اسلامی طریقہ سے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مسلم ملک میں ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس کے کسی منصوبے کیلئے وورلڈ بینک کی شاخ آئی ایف سی سے تمویل لینی تھی، ان غیر مسلم لوگوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے اس مسلم ملک کی رعایت میں خاص معاہدات تیار کئے جو ان کے لئے اسلامی تعلیمات کی رو سے قابل قبول ہوں، لیکن جب ہم نے ان کو یہ پیش کش کی کہ ہم ان معاہدات کے مطابق آپ کو تمویل فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، تو جواب یہ ملا کہ اس کی پرواہ مت کرو، ہم (والعیاذ باللہ)سود پر تمویل حاصل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لہٰذا اگر مسلمان خود ان لوگوں کے سامنے جو ان احکام پر ایمان نہیں لاتے ایسی بے پرواہی برتیں ، تو اس کا نتیجہ بالکل واضح ہے کہ اسلامی نظام تمویل ترقی نہیں کر سکے گا۔ لہٰذا پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ یقین کہ حقیقی اور درست طریقہ تمویل وہ ہے جس کو قرآن کریم اور سنت نے سکھایا ہے، جب یہ یقین پیدا ہوگا تو ” جہاں عزم ہوگا وہاں راستہ کھلتا جائے گا،” ، وہ اپنی کاوش میں کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ ، اور اس ملک میں اسلامی نظام تمویل قائم ہوگا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
انٹرویو کے بعد مسجد میں بنی ہوئی درسگاہوں کا حضرت والا نے معاینہ فرمایا، جن میں سے ایک میں مولانا مقصد صاحب قازقی اور ان کے رفیق نے درس نظامی کے نصاب کے مطابق تعلیمی سلسلہ شروع کررکھا ہے، طلبہ کے سامنے حضرت نے چند کلمات نصیحت بھی ارشاد فرمائے۔
جائے قیام پر سامان تیار کر کے ہوائی اڈے کیلئے کافی جلدی نکل گئے، کیونکہ راستے میں آستانہ کی مختصر سیرکرتے ہوئے ظہرانے کی ضیافت یہاں کے محکمہ زکاۃ کے ذمہ دار کے مکان پر تھی، برف باری شروع ہوچکی تھی جس سے سیر کا لطف الحمد للہ دوگنا ہوگیا ، اور اس سفر کی ایک آخری دیرینہ تمنا بھی اللہ تعالی نے یوں پوری کرادی۔
الحمد للہ واپسی کا سفر بھی بڑی عافیت سے طے ہوا، اور کراچی ۲۷ دسمبر کو صبح تقریبا ً ڈھائی بجے اترے۔

فللہ الحمد أولا وآخرا وظاہرا وباطنا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ – جمادي الثانيه و رجب المرجب 1437ھ)