خطاب : حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم
ضبط وترتیب: مولانا محمد رضوان جیلانی،مولانا محمد طلحہ ہاشم

درس نظامی کی کتابیں کس طرح پڑھائی جائیں؟
(پہلی قسط)

الحمد للہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں اساتذہ کی تربیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔اس بارے میں مستقل اجتماعات بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں اکابر اساتذۂ کرام نئے اساتذۂ کرام کے سامنے تدریس کے حوالے سے انتہائی مفید اور کارآمد گفتگو فرماتے رہتے ہیں ۔ اس سلسلے کا ایک سہ روزہ تربیتی اجتماع کا فی عرصہ پہلے منعقدہواتھا جس میں جامعہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا شمس الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم،نائب رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم ، کے وقیع اور گرانقدر خطابات ہوئے تھے ۔ یہ خطابات الحمد للہ تعلیمات کے شعبے میں محفوظ تھے ۔ مناسب معلوم ہوا کہ یہ بیانات یکے بعد دیگرے البلاغ میں شائع کردئے جائیں گذشتہ شمارے میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا خطاب ہدیۂ قارئین کیا گیا تھا ، اس شمارے میں نائب رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے خطاب کی پہلی قسط پیش خدمت ہے ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ادارہ)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین امابعد!

جب مولاناعزیزالرحمن صاحب نے اس دورۂ تدریبیہ کی تجویزاوراس کے لئے موضوعات پیش کئے تویہ خیال ہواکہ ماشاء اللہ یہ کام توبڑاوسیع ہے، لیکن جب انہوں نے یہ فرمائش کی کہ اس کے کچھ موضوعات پرمجھے بھی بیان کرناہوگاتومیں نے ان سے اسی وقت عرض کیاتھاکہ میں توخودان موضوعات پرسیکھنے کامحتاج ہوں اورواقعہ بھی یہی ہے کہ ہم عرصۂ درازسے پڑھتے اورپڑھاتے توچلے آرہے ہیں،لیکن کس طرح پڑھنااورپڑھاناچاہئیے ؟اوراس کے لازمی تقاضے کیاکیاہیں؟ان کوبطورموضوع کبھی سیکھانہیں،اورنہ اس موضوع پرباقاعدہ کبھی پڑھنے اورغورکرنے کااتفاق ہوا۔بس جوایک طریقہ چلاآرہاہے اس کے مطابق چلتے رہتے ہیں اورپڑھاکر آجاتے ہیں،اس لئے میں خوداپنے آپ کو محتاج محسوس کرتاہوںکہ کوئی بتائے کہ کیاکیاباتیں مدنظررکھنی ضروری ہیں اورکن چیزوں سے اجتناب کرناچاہئیے ۔ جوآدمی خودمحتاج ہواورخوداس کے پلے کچھ نہ ہووہ دوسروں کوکیابتائے اوراس موضوع پرکیابیان کرے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی خیال آیاکہ یہ مجلس جوہم منعقدکررہے ہیں یہ کوئی رسمی قسم کے سیمینار کی طرح کی چیزن ہیں،جیساکہ آج کل رواج ہوگیا ہے، اس کااصل مقصدتووہی ہے جوکبھی کبھی ہم غیررسمی طورپرآپس میں بات چیت کیاکرتے تھے ،توباہم بیٹھ جانے اور بیٹھ کراپنے مقاصدکامذاکرہ کرنے سے ایک دوسرے کوفائدہ پہنچتاہے ، نہ سہی فنی اورموضوعی اعتبارسے اس موضوع کی مہارت اوراس کی معرفت، لیکن ان شاء ا للہ یہ فائدہ بہرصورت حاصل ہوگا کہ تذکیراور مذاکرہ ہوگااوراس کے نتیجے میں کیابعیدہے کہ اللہ تبارک وتعالی ہمارے دل میں کوئی مفیدبات پیدافرمادیں اورہمارے آئندہ طرز عمل میںاس کی جھلک اوراس کاعکس پیداہوجائے، اس لئے باوجوداپنی نااہلی اورلاعلمی کے اس موضوع پربیان کرنامنظورکرلیاتھاکہ ان شاء اللہ حاضرجاؤں گا۔
علماء نے تعلیم توعلم کو باقاعدہ موضوع بنایا
آج کل کے ماحول میں تعلیم وتربیت یہ بذات خودایک مستقل علم اورفن بن چکاہے، اس کاآغازتودرحقیقت ہمارے ہی حضرات نے کیاتھاجس علم کوآج تعلیم یاایجوکیشن کہتے ہیں اگراس کابنیادی ماخذتلاش کیاجائے اوراس کی تاریخ پرتحقیق کی جائے توشایدیہ بات صحیح ہوگی کہ اس کوباقاعدہ موضوع بنانے والے درحقیقت علماء اسلام ہی ہیں، انہوں نے ہی اس کوایک باقاعدہ موضوع بنایااس کے آداب ،اس کے طریقے اوراس کے مناھج لوگوں کوواضح طورپربتائے ،اس پرکتابیںتالیف کیں،کم ازکم میرے علم میں نہیں ہے کہ ان علمائے کرام سے پہلے تعلیم اورتربیت کے موضوع پرکسی اورنے کتابیں لکھی ہوں۔
تعلیم کے موضوع پرکتابیں
میرے علم کے مطابق سب سے پہلے اس موضوع پرہمارے اسلاف میں سے چاربزرگوں نے کتابیں تالیف فرمائیں جوبڑی ہی نافع اورنہایت ہی مفیدہیں اورمیراخیال تھاکہ اگرحاضری سے پہلے موقع ملا توایک مرتبہ ان کتابوں پربھی نظرڈال لوںگا،لیکن مختلف مصروفیات کی وجہ سے ذہن سے نکل گیااوراس کا موقع نہ مل سکا،لیکن اسلئے ذکرکرتاہوںکہ یہ کتابیں ایسی ہیں جنہیں اگرہم غورسے پڑھیں اوران سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں توتعلیم کے موضوع پرجتنے بنیادی اہم اصول ہیں وہ سارے کے سارے میں سمجھتاہوںکہ اس کے اندرمل جائینگے اورمزیدتفسیروتشریح کے لئے توبہت بڑامیدان پڑاہواہے۔لیکن جب کوئی علم یافن ابتداء میں ایجادکیاجاتاہے یاپہلی باراس کی بنیادرکھی جاتی ہے تواس میںاصول ہی بیان ہوتے ہیں، پھراس کی تفصیلات کرنیوالے بیشمارہوتے ہیں ہرعلم وفن کایہی حال ہے ۔امام شافعی رحمۃاللہ علیہ نے ’’الرسالہ‘‘ تحریر فرمایا اصول فقہ کی بنیادیںاس کے اندرڈال دیں،آنیوالوں نے اس پرتفسیروتخریج کاسلسلہ شروع کیااوراصول فقہ کی عظیم کتابیںوجودمیںآگئیں۔لیکن سہراآج بھی امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے سرہوگا،اگرچہ بعدمیں آنے والوںنے اس کوآگے بڑھا کرکہیں سے کہیں پہنچایاہو۔جن حضرات نے اس موضوع پرلکھاان میں آپس میں ترتیب کیاہے وہ مجھے یادنہیںلیکن چارکتابیں مجھے یادہیں کیونکہ وہ میری نظرسے گذری ہیں۔
آداب علم کے موضوع پر پہلی کتاب
ایک کتاب توعلامہ عبدالکریم سمعانی رحمہ اللہ علیہ کی’’ادب الاملاء والاستملائ‘‘ہے۔ علامہ عبدالکریم سمعانی رحمۃ اللہ علیہ وہ بزرگ ہیںجوحدیث کے رجال کے امام ہیں اورجن کی انساب کے اوپر کتاب ہے’’الانساب للسمعانی‘‘اس سے زیادہ مستندکتاب کوئی اورنہیں،انہوںنے یہی چھوٹاسا ایک رسالہ لکھاہے’’ادب الاملاء والاستملائ‘‘املاء سے مرادتعلیم ہے اور استملاء سے مرادتعلّم ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیںکہ حدیث میںطریقہ یہ ہوتاتھاکہ استاداحادیث املاء کرایاکرتاتھااورطالبعلم وہ احادیث لکھاکرتے تھے،تواملاء یعنی احادیث لکھوانااوراستملاء یعنی احادیث استادسے لیکرلکھنا،اسی کتاب میںعلامہ سمعانی رحمہ اللہ علیہ نے لکھاہواہے کہ حضرت علی ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں۔۔ صحیح عددیادنہیںرہا۔۔ایک درس میںاتنی ہزاردواتیںشمارکی گئیںاوراس ہی میںکسی کاقول نقل کیاگیاہے کہ علی ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کادرس صبح کواشراق کے بعدشروع ہوتاتھاتواس درس میںمناسب جگہ پانے کے لئے طلباء ایک دن پہلے عصرسے جاکربیٹھاکرتے تھے تب جاکرصحیح جگہ ملتی تھی، تواتنی بڑی جماعتیں ہوتی تھیں،اس واسطے استادجب بیان کرتاتوآوازسب کوپہنچتی نہیں تھی ،اس لئے مناسب وقفوں پرلوگ بٹھادئے جاتے تھے کہ جوکچھ استادکہہ رہاہے وہ اپنے بعدکے لوگوں کو دھرائیں ان کوبھی مملی کہاجاتاتھا توامام سمعانی رحمۃ اللہ علیہ نے ادب الاملاء والاستملاء میںیہ بتایاہے کہ املاء کاادب کیاہے؟یعنی تعلیم کاادب کیاہے؟اوراستملاء کاادب کیاہے؟یعنی تعلم کاادب کیاہے؟اورمجھے اس کتاب میںبعض وہ احادیث مرفوعہ ملیں جواس سے پہلے یااس کے بعدنظرسے نہیںگذریں۔ علامہ عبدالکریم سمعانی رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں میں سے ہیں جو حدیثیں اپنی سندسے بیان کرتے ہیں،یعنی وہ دوسروںکے حوالہ سے نقل نہیںکرتے بلکہ اپنی سندسے روایت کرتے ہیںسندبڑی لمبی چوڑی ہوتی ہے کیونکہ حضرت ؒ کافی متأخرہیں،اپنی سندسے انہوںنے احادیث روایت کی ہیںاورایسی احادیث مرفوعہ روایت کی ہیںکہ جیساکہ میںنے پہلے عرض کیاکہ کہیںاورنہیںملیں،مثلاًیہ حدیث اسی میںنظرسے گذری کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابۂ کرام کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے تھے توآپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کوئی ممتازجگہ نہیںہوتی تھی جیسے کوئی کرسی یاکوئی تپائی جس کے اوپرآپ اونچے ہوکربیٹھیںبلکہ ملے جلے بیٹھاکرتے تھے، لیکن جب صحابہ ٔ کرام کی تعدادزیادہ ہوگئی توبعض صحابہ کرام نے درخواست کی کہ یارسول اللہ آپ بیٹھتے توہیںلیکن جوپیچھے لوگ بیٹھے ہوتے ہیںان کوزیارت کاموقع نہیںملتااس لئے آپ ہمارے خاطر ایک چوکی بنوالیں ،چوکی لئے اس میںلفظ عربی میںاستعمال ہواہے دکان کا،اس دکان کے اوپربیٹھ کرآپ خطاب فرمایاکریںچنانچہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دکان بنائی گئی اوراس کے اوپرآپ نے تشریف فرماہو کرصحابہ کرام سے خطاب فرماناشروع کیا۔تویہ بات کسی حدیث کی کتاب میں میری نظرسے نہیںگذری تھی، اس بات میںشبہ رہ جاتا کہ ایساکرنادرست ہے یانہیںہے، لیکن اسی کتاب سے معلوم ہواکہ اگرطلبہ یا سامعین کی بھلائی سے اوراس خیال سے کہ ان کوبات اچھی طرح پہنچ جائے اوران کے لئے دلچسپی کاموجب ہوتواگرکوئی معلم اس طریقے سے کرے تواس کی اجازت ہے۔
طلباء کے حلیے کی نگرانی
اس بات کوذکرکرتے ہوئے کہ استادکاکام صرف یہ نہیںہے کہ وہ درس دیدے بلکہ استادکاکام یہ بھی ہے کہ وہ طلبہ کے انداز،نشست وبرخاست ،ان کے حلئے اور لباس سب چیزوںکی نگرانی کرے کہ اس میںبے قاعدگی تونہیں۔یہ اصول انہوںنے اسی ادب الاملاء والاستملاء میںبیان فرمایااوراستدلال کیااس واقعہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںایک صاحب حاضرہوئے توآپ نے دیکھاکہ ان کی موچھیںاورڈارھی بڑھی ہوئی ہے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایاکہ تمہاری مونچھیںاورداڑھی بڑھی ہوئی ہیںاس حالت میںرہناٹھیک نہیںلہذاایساکروکہ باہرجائواورباہرجاکرفلاںجگہ پانی ہے یاحوض ہے وہاںجاکراپناچہرہ اس حوض میںدیکھواوردیکھ کراس مسواک کے ذریعہ اپنی مونچھیںدرست کرواوراپنی داڑھی درست کرکے آئوتووہ صاحب گئے اورجاکر اسی طرح اپنی مونچھیںاورداڑھی درست کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایا’’الیس ھذااحسن‘‘تواس قسم کے بہت سے واقعات واحادیث جوتعلیم وتربیت سے متعلق ہیںجواورکتابوںکے اندرنظرسے نہیںگذرے علامہ سمعانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس کتاب کے اندربیان فرمائے ہیں۔یہ ہے توایک چھوٹاسارسالہ لیکن اس کی خصوصیت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم وتربیت کی باتیںجواصولی اندازکی ثابت ہیںاس کاانہوںنے بطورخاص ذکرفرمایاہے۔
آداب علم سے متعلق دوسری کتاب
دوسری کتاب خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے ’’الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع‘‘یہ کتاب دوضخیم جلدوںمیںچھپ گئی ہے۔یہاںپربھی راوی سے مراداستاد اورسامع سے مرادطالبعلم اور متعلم ہے، کیوںکہ علم حقیقت میںاس زمانہ میںحدیث ہی کوکہاجاتاتھااور حقیقت میںدیکھاجائے توہے بھی علم وہی اورباقی سب توفنون ہیں۔اس واسطے استاداورشاگردکے لئے القاب جووضع کئے جاتے وہ حدیث والے ہوتے تھے۔اس کتاب میں بھی دونوںچیزیںجمع کی گئی ہیںکہ راوی کے کیااخلاق ہونے چاہیئیں؟اورمتعلم کوکیاطریقہ اختیارکرناچاہئیے۔اس کتاب میںخطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانے تک کے بڑے بڑے محدثین کے حالات بھی بیان فرمائے ہیںاوربہت گرانقدرمعلومات جمع کی ہیں ۔
آداب علم سے متعلق تیسری کتاب
تیسری کتاب علامہ ابن جماعۃ کنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے جس کانام ’’تذکرۃ السامع والمتکلم فی ادب العالم والمتعلم ‘‘ہے ۔یہاںپربھی متکلم سے مراداستاداورسامع سے مرادشاگردہے ۔علامہ ابن جماعۃ کنانی رحمۃ اللہ علیہ بھی محدثین میں سے ہیں ،ان کی کتاب میںبھی موضوع یہی ہے اوراس میںبھی احادیث مرفوعہ اورصحابہ وتابعین کے آثارسے تعلیم وتعلم کے آداب بیان فرمائے ہیں۔
آداب علم سے متعلق چوتھی کتاب
چوتھی کتاب آپ حضرات جانتے ہیںعلامہ زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم المتعلم ہے جو ہمارے یہاںداخل نصاب بھی ہے لیکن وہ ان سب سے بعدکی ہے، یہ تین کتابیںپہلے کی ہیں۔یہ کتابیںخاص طورپرتعلیم وتعلم کے موضوع پرتحریرکی گئیںاورکم از کم میرے علم میںنہیںہے کہ ان حضرات سے پہلے کسی اورقوم نے تعلیم وتعلم کوباقاعدہ موضوع بناکراس پرکلام کیاہو،تعلیم وتعلم کے اصول وآداب کے بانی یہ حضرات ہیںیہ اوربات ہے کہ آگے پھراس کی تفصیلات اور جزئیات جمع کی جاتی رہیں اوربات کہیںسے کہیںپہنچ گئی لیکن ہمارے اس دورہ تدریبیہ کے جتنے موضوعات ہیںہرموضوع سے متعلق کچھ نہ کچھ ان کتابوںمیںمل جائیگاتوخیال تھاکہ اگرکوئی موقع ملتاتواس کوتھوڑاساپڑھ کراسی کی تذکیرہوجاتی اسی کاتکرارہوجاتالیکن موقع نہیںملا۔ہم اگراس کواس نقطہ ٔ نظرسے پڑھیںکہ اس میںجوچیزہمارے مزاج ومذاق اورمقصدکی ہواس کواختیارکرلیںاورجونہ ہواس کوترک کردیںتویہ مناسب بات ہے اور اس میںکوئی خرابی کی بات نہیں،اس واسطے یہ بھی خیال تھاکہ اگرموقع مل گیاتوکچھ کتابیںبھی منگواکر دیکھ لیںگے لیکن وہ موقع توملے یانہ ملے ،لیکن اتناضرورہے اس باہم مل بیٹھنے سے بھی اللہ تبارک وتعالی فائدہ عطافرماتے ہیں اور یہ بھی اللہ والوںنے باتیںبتائی ہیںکہ مجمع کی برکات کاایک دوسرے پرانعکاس ہوتاہے، حضرت داؤدعلیہ السلام کے تذکرہ میں یہ جوآیت کریمہ ہے کہ’’اِنَّاسَخَّرْناَالجِبَالَ مَعہُ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ‘ص: ۱۸‘کہ ہم نے دائودعلیہ السلام کے لئے پہاڑوں کومسخرکردیاکہ وہ بھی صبح شام ان کے ساتھ تسبیح کیاکرتے تھے توہمارے حضرت حکیم الامت قدس اللہ سرہ نے بیان القرآن کے حاشیہ پراپنی کتاب “مسائل السلوک من کلام ملک الملوک‘‘میںیہ سوال کیاکہ حضرت دائودعلیہ السلام پرانعام کے ذیل میںذکرکیاجارہاہے کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کومسخرکردیاکہ وہ بھی ان کے ساتھ تسبیح کیاکرتے تھے اچھابھائی کرتے تھے توان کی تسبیح کرنے سے حضرت دائودعلیہ السلام کوکیافائدہ پہنچا؟تواس کاجواب دیاکہ نعمت اس وجہ سے ہوئی کہ جب ذکرکرنے والے ایک سے زیادہ ہوںتوذاکرین کی برکات کاایک دوسرے پرانعکاس ہوتاہے ،اس لئے پہاڑوں کومسخرکرنے کانتیجہ یہ ہواکہ ان کی برکات کاانعکاس بھی حضرت دائودعلیہ السلام پرہوااورپھراس بات کوانعام کے ذیل میں ذکرفرمایا۔
ذکرکاایک طریقہ
اس لئے صوفیائٔ کرام نے فرمایاہے کہ ذکرکاایک طریقہ ایسا ہے جس میںذکرکرتے ہوئے یہ تصورکیاجاتاہے کہ پوری کائنات ذکرکررہی ہے ،یہ دیوارذکر کررہی ہے، یہ پہاڑذکرکررہاہے ،یہ آسمان ذکرکررہاہے ،یہ زمین ذکرکررہی ہے ،پوری کائنات ذکرکررہی ہے،یہ تصورکرکے ذکرکرتے ہیںتواس ذکرکے اندرنشاط بڑھ جاتاہے اوراس کی برکات میںاضافہ ہوجاتا ہے۔اس لئے بزرگوںنے فرمایاکہ اگرکسی مقصدکے تحت مل کربیٹھ جائیںاوراللہ تبارک وتعالی سے ہدایت کے طلبگارہوںتوآپس میںایک دوسرے کی برکات کاانعکاس ہوتاہے اوروہ فائدہ سے خالی نہیںہوتا۔
اس نشست کے لئے جو موضوعات متعین کئے گئے ہیں وہ توآپ حضرات کے سامنے ہیںہی، لیکن ان سارے موضوعات اورسارے مضامین کی جوبنیادہے اس پرسب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اوراگروہ درست ہوجائے توسارے کام خودبخوددرست ہوجاتے ہیںاوراگروہ درست نہ ہوتوچاہے جزوی کام کاکوئی بھی طریقہ اختیارکرلیاجائے جب جڑاوربنیاددرست نہیںہوتی توکام خودبخودخراب ہوتے چلے جاتے ہیں۔فارسی کا شعرہے :

خشت اول چوں نہد معمار کج
تاثریا مے رود دیوار کج

معمارجب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھتا ہے تو وہ دیوار ثریا تک ٹیڑھی چلی جاتی ہے ۔
مقصدکااستحضارضروری ہے
بزرگوںسے یہ بات ہمیشہ سنی ہے کہ تعلیم وتعلم کی بنیاد مقصدکاسامنے ہونا، مقصدکااستحضاراورمقصدکی لگن ہے، تعلیم وتعلم کامقصدکیاہے اورکیوںیہ محنت کی جارہی ہے؟اس کااستحضاراوراس کی لگن ، تعلیم وتعلم کی بنیادہے ،مقصدکاعلم توالحمدللہ ہے لیکن علم صرف علم کی حدتک کافی نہیں،بلکہ اس کااستحضارہواوراستحضارکے ساتھ ساتھ یہ لگن اوردُھن ہوکہ مجھے یہ کام کرناہے ۔اگرکسی آدمی کوتعلیم وتعلّم کے طریقے نہ بھی آتے ہوں تو بھی یہ دھن اور لگن بہت سے طریقے خود بخود سکھلادیتی ہے ،ضرورت ایجادکی ماں ہے اگرکسی شخص کے دل میںاللہ تبارک وتعالی کسی کام کی دھن پیدافرمادے تووہ دھن درحقیقت خودمناہج بھی سکھادیتی ہے وہ طریقوںکی بھی تعلیم دیتی ہے پھرلمبے چوڑے فلسفوںکی احتیاج نہیںرہتی ، لیکن اس کاکام ایساہوتاہے کہ جس کے نتیجے میںتمام مقاصدحاصل ہوتے چلے جاتے ہیںاورخدانہ کرے یہ دھن اوراستحضارنہ ہوتوہزاراس کے کاموںکوقواعد وضوابط میںجکڑدیجئے ہزاراس کے لئے طریقے وضع کرلیجئے،اس کے لئے تدریسی کورس وضع کرلیجئے ،اس کے لئے رجسٹرحاضری بنالیجئے، اس کے لئے مقدارخواندگی کے لکھنے کے خانے تجویزکردیجئے لیکن اگردل میں دھن اورلگن اوراپنے سامنے مقصد مستحضرنہیںہے تویہ ساری باتیںمحض بے کار ہوکررہ جائیںگی اورمقصدحاصل نہیں ہوگا۔
حضرت شیخ الادب ؒ کی لگن
شیخ الادب حضرت مولانااعزازعلی صاحب قدس سرہ جن کے حاشیے پڑھ پڑھ کرہم نے تعلیم حاصل کی بھی ہے اوردی بھی ہے، سب کی گردنیںان کے احسانات کے آگے جھکی ہوئی ہیں۔میںنے اپنے والدماجدقدس اللہ سرہ سے حضرت شیخ الادب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں سنا،فرماتے تھے کہ وہ خودفرمایاکرتے تھے کہ جب میںنے دورۂ حدیث کی تکمیل کی تومیری استعدادبہت ناقص تھی اتنی ناقص تھی کہ مطالعہ کرنے کی صلاحیت بھی پوری طرح پیدانہیں ہوئی تھی مزیدیہ کہ حافظہ بھی کمزورتھا،آپ حضرات جانتے ہیں کہ دارالعلوم میں اس وقت اپنی استعدادکی کمزوری کودورکرنے کے لئے یامدرس بننے کے لئے تدریب کا تو کوئی انتظام تھا نہیں،لیکن معین المدرسین بنادیاگیا۔معین المدرسین اس زمانے میںایک مستقل منصب ہواکرتاتھا ۔
ہمارے حضرت والدصاحب قدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے کہ ایک تخت کسی استاد کے ساتھ لگادیاجاتاتھا ، اس پر وہ استاذ بیٹھ جاتا تھا جسے معین المدرسین بنایاجاتاتھاتاکہ اسے استادکیساتھ رہ کرپڑھنے اور پڑھانے کاتجربہ اور سلیقہ آجائے۔دارالعلوم دیوبندمیںپہلے آدمی معین المدرسین مقررہوتاتھابعدمیںمدرس بن جاتا تھا۔ ہمارے حضرت والد صاحب قدس اللہ سرہ کو بھی ابتداء میں معین المدرسین بنایاگیاتھا۔
حضرت شیخ الادب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ آتاجاتاکچھ تھانہیںیعنی استعدادتھی نہیںاورحافظہ بھی کمزورتھا، لیکن بزرگوںنے کام پرلگادیااوردل میںاللہ تعالی نے یہ دھن پیداکردی کہ یہ کام کرناہے توفرماتے تھے کہ میںاس زمانے میںبلامبالغہ ساری ساری رات بغیرکسی استثناء کے مطالعہ کرتاتھااورچونکہ حافظہ کمزورتھااوربھول جایاکرتاتھا،اس واسطے جوکچھ مطالعہ کرتاساری رات اس کولکھنے میں گذارتاتھااور لکھ لکھ کریادکرتاتھا،یہ سب کرنے کے بعدمیں اس قابل ہوتاتھاکہ سبق پڑھائوں،فرمایاکہ بعض اوقات کئی کئی دن اس طرح گذرجاتے تھے کہ اس پورے عرصہ میںآنکھجھپکی بھی نہیں تھی۔اللہ تبارک وتعالی نے انہی کوشیخ الادب بنایااوروہ ایسے مدرس بنے کہ مدرسوںکے استاداورمدرس بنانے والے ،دارالعلوم دیوبندکے فضلاء میں تدریس میںکوئی شخص آپ کوایسانہیںملے گاجس نے ان سے درس نہ لیاہو،وہ ان کاذکرمحبت وعقیدت کے ساتھ نہ کرتاہو اوران کے درس کویادنہ کرتاہو، حالانکہ اپنے بزرگوں اور اساتذہ سے یہ سناہے کہ ان کامعمول یہ تھاکہ ایک منٹ ادھرادھرنہ ہوتاتھا،گھنٹہ بجنے سے پہلے وہ درسگاہ میں موجودہوتے تھے اورکبھی گھنٹہ ختم ہونے سے پہلے ان کادرس ختم نہیںہوتاتھا،پوراوقت اہتمام کیساتھ دیتے تھے اوردرس کے اندر اور درس کے باہرطلبہ کی نگرانی بھی بڑی کڑی کیاکرتے تھے ۔ یہ ساری باتیںتھیںلیکن ا سکے باوجودطلبہ ان سے عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔
حضرت والد صاحب قدس اللہ سرہ حضرت شیخ الادب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات نقل کرنے کے بعدفرمایاکرتے تھے کہ اصل چیز ہے دھن اوردھیان ۔یہ دھن اگرلگ جائے تویہ طریقے بھی سکھادیتی ہے، ٹریننگ بھی دیدیتی ہے اور ہرچیزہرضرورت مہیاکردیتی ہے اورآدمی خود ہی راستے نکال لیتاہے۔ حضرت رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ:

آب کم جو تشنگی آور بدست
آب ہمیں جوشد از بالاوپست

پانی کم تلاش کروتشنگی پیداکرو جس دن تشنگی پیداہوگئی اورجس دن یہ دھن لگ گئی توپھراوپرنیچے ہرطرف سے پانی ابلتاہے ۔
تواس سارے کام کی بنیاد اور جڑدرحقیقت مقصدکااستحضار،اس کی دھن اوراس کی لگن ہے اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل وکرم سے ہمارے اندریہ دھن پیدا فرمادے توسارے کام درست ہوجائیںاگریہ نہ ہوتوہزارقاعدے اور ضابطے بنالیجئے ان کافائدہ نہیں ہوتا۔
علیگڑھ یونیورسٹی میں جماعت کے اہتمام کی کوشش
میرے والدماجدقدس سرہ فرمایاکرتے تھے کہ جب علیگڑھ یونیورسٹی قائم ہوئی تو یہ اعتراض بھی تھاکہ یہ انگریزی تعلیم کی طرف جارہے ہیںاس وجہ سے لوگ دین سے برگشتہ ہوجائیںگے ،اس واسطے اس میںاس بات کااہتمام کیاگیاتھاکہ طلبہ کونمازباجماعت کی پابندی کرائیںگے تواس کے لئے یہ قانون وضع کیاگیاکہ مسجدکے اندرجماعت میںشامل ہونے والے لوگوںکی حاضری لی جائیگی،اب یہ کسی دینی مدرسہ میںبھی نہیںہوتالیکن وہاںمسلم یونیورسٹی علیگڑھ میںیہ قانون بنایاگیا،اورجوآدمی غیرحاضر پایا جائیگااس کے اوپرجرمانہ عائدہوگا،جرمانہ اس زمانہ کے لحاظ سے آٹھ آنے رکھاگیاتھااوریہ ا س زمانے کے لحاظ سے بہت بڑاجرمانہ تھا ، لیکن فرماتے ہیںکہ رفتہ رفتہ ہوایہ کہ بہت سے طلبہ مہینے بھر کاجرمانہ پیشگی جمع کرادیاکرتے تھے کہ لو بھائی یہ جرمانہ رکھاہے اب غیرحاضری لگاتے رہو۔تواگردل میںجذبہ،دھیان اورلگن نہ ہوتوکتنے ہی ضابطے اورقاعدے بنالئے جائیںسب بیکارہیںاوراگراللہ تبارک وتعالی مقصدکی دھن عطافرمادیںتوضابطے اتنے زیادہ نہ بھی ہوںتوبھی کام چل جاتاہے۔
دارالعلوم دیوبندمیں احساسِ ذمہ داری
دارالعلوم دیوبندکاابتدائی دورجواکابرکاہے وہ درحقیقت ہمارے لئے ایک مثال ہے کہ اس میںکس طریقے سے احساس ذمہ داری، طلبہ کودرست رکھنے کی فکراور علم کی طلب اور لوگوںتک پہنچانے کی فکراساتذہ کرام کے اندرہوتی تھی اوراس کے نتیجے میںاللہ تبارک وتعالی نے یہ علم وفضل کے پہاڑپیدافرمائے ،اس میںکوئیتربیتی کورس اوراس بات کاباقاعدہ اہتمام نہیںتھاکہ اساتذہ کی تربیت کی جائے ، لیکن وہی بات کہ دل میںآخرت کی فکر، اللہ تبارک وتعالی کے سامنے جواب دہ ہونے کااحساس اوراپنے مقصدکی لگن کوٹ کوٹ کربھردی گئی تھی، اس کے نتیجے میںاللہ تبارک وتعالی نے ان سے وہ کام لیاکہ دنیاآج اس کی نظیرپیش کرنے سے قاصرہے۔
عملی طورپر مقصدکااستحضارضروری ہے
توسب سے بنیادی چیزجس کے اوپرساری فروع متفرع ہوتی ہیںوہ یہ مقصدہے، لیکن ہویہ رہاہے کہ ہم نے علم اورنظریہ کی حدتک توبیشک اس کواپنامقصدقراردیاہواہے، کوئی اگرہم سے پوچھے کہ بھائی کیوںتعلیم دے رہے ہوتواس کاجواب ہمارے پاس لفظی اورنظریاتی طورپرموجودہے اوروہ یہ کہ علم دین کوپہنچاناہے جس کا مقصد اللہ تبارک وتعالی کی رضاکاحصول ہے، ہم لفظی اورنظریاتی طورپریہ بات جانتے بھی ہیںاورکہتے بھی ہیں ،لیکن عملی زندگی میںہوتایہ ہے کہ جب ایک کام کرتے کرتے ایک معمول بن جاتا ہے توپھراس مقصدکااستحضارباقی نہیںرہتااور وہ ایک رسمی خانہ پُری ہوکررہ جاتا ہے اوروہ مقصدذہن سے اوجھل ہوجاتاہے کہ ہم کس لئے پڑھارہے ہیںاورکیاہمارامقصودہے اس کانتیجہ یہ ہے کہ طرح طرح کے خیالات اورطرح طرح کے عوامل انسان کے ذہن کے اوپرقبضہ جماناشروع کردیتے ہیںاس میںاللہ بچائے اپنی تعلیَّ کااوراپنے علم کوجتانے کاجذبہ اورنام ونمودکاشوق پیداہوجاتاہے، اس میںبعض اوقات مالی مفادات کے خیالات داخل ہوجاتے ہیںجواس مقصدکے تقدس کومکدرکردیتے ہیںاورتدریس کے نتیجے میںجوبرکت،نوراورفائدہ ہوناچاہئے تھاوہ باقی نہیںرہتا۔آج ہماری تدریس میںوہ برکات کیوںپیدانہیں ہوتیںجوان حضرات میںتھیں وجہ اس کی یہی ہے کہ مقصدنظروں سے اوجھل ہوجاتاہے۔
حضرت مولاناغلام رسول ہزاروی صاحب ؒ کاواقعہ
میرے والدماجدقدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے کہ دارالعلوم دیوبندکے ایک استادتھے حضرت مولاناغلام رسول صاحب ہزاروی قدس اللہ سرہ۔ دارالعلوم دیوبندمیں حضرت مولانارسول خان صاحب تھے جو معقولات میں مشہورتھے وہ ان کے بھی استادتھے اوروہ بھی معقولات میںزیادہ مشہورتھے،وہ بالکل سیدھے سادھے بزرگ تھے اوران کی زبان بھی صاف نہیںتھی، سمجھنے میںدشواری پیداہوتی تھی، اگرچہ دیوبندمیںرہنے کی وجہ سے ان کواردو خاصی آگئی تھی ۔اردو کی لغات انہوںنے باقاعدہ اہتمام کرکے یادکی تھیں،بلکہ والدصاحب فرمایاکرتے تھے کہ پھروہ یہ بھی کہنے لگے تھے کہ بھائی میںتواردوزبان کے جواچھے خاصے اہل زبان ہیںان سے بھی زیادہ اردولغات جانتاہوں ،اردوکی کوئی بھی مشکل لغت میرے سامنے لائومیںاس کے معنی بتادونگااورانہی سے کسی نے امتحاناًپوچھ لیاکہ اچھاحضرت آپ فرماتے ہیںکہ مجھے اردوزبان کاہرلفظ آتاہے تویہ بتایئے کہ یہ جومحاورہ اردومیں مشہورہے ’’کریلااورنیم چڑھا‘‘اس کے کیامعنی ہیں؟تووہ اچھی طرح غورکرنے کے بعدکہنے لگے کہ بھائی یوںسمجھ میں آتاہے کہ معنی یہ ہے کہ کریلاایک توویسے ہی کڑواہوتاہے اورنیم چڑھاکے معنی یہ ہیںکہ آدھاپکایاہو،اکیونکہ نیم کے معنی آدھے کے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیںکہ دیگ چڑھادی یادیگچی چڑھادی تواس کے معنی ہے آدھاپکایاہواحالانکہ اس محاورہ کا مطلب یہ نہیں ہے تواردوکے الفاظ اگرچہ سیکھ لئے تھے، لیکن زبان جب بولتے تھے توصاف نہیںہوتی تھی اورجملوں کے اندرسمجھنے میںدشواری ہوتی تھی، لیکن اللہ تبارک وتعالی نے مقصدکی وہ لگن اوردھن عطافرمائی تھی کہ ایک طالب علم کواسی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میںسیراب کرتے تھے تواگراللہ تبارک وتعالی یہ عطافرمادے تویہ ہے اصل حاصل کرنے کی چیز۔
مقصدکے استحضارکاطریقہ
اپنے والدصاحب قدس اللہ سرہ سے مقصدکے استحضارکے سلسلے میں جوبات سنی ہے اور اس کاتجربہ بھی کیاہے یہ ہے کہ اس مقصدکے استحضاراوراس دھن کوباقی رکھنے کاسب سے مؤثرذریعہ یہ ہے کہ ان دھن والوںکے تذکرے اوران کی باتیںکثرت سے پڑھی اورسنی جائیںاوران کوکثرت سے یادرکھاجائے۔ یہ سارے حضرات جوہمارے گذرے ہیںان میںسے ایک ایک کی بات نورسے بھری ہوئی ہے اورآپ تجربہ کرلیجئے کہ ہزاروعظ ایک طرف اوران بزرگوںکاایک واقعہ ایک طرف ۔ایک واقعہ اگرسامنے آجائے تووہ انسان کے دل کی دنیابدل دے، تومیرے نزدیک سب سے پہلاکام جومقصدکے سلسلے میںہے وہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کے واقعات کواپنااوڑھنابچھونابنایاجائے۔ افسوس یہ ہے کہ اب ہم ان سے دورہوتے چلے جارہے ہیںاگرہم اپنے گریبان میںمنہ ڈال کردیکھیںاورہر شخص اپناجائزہ لے توحضرت نانوتوی قدس اللہ سرہ سے لے کراپنے ان بزرگوںتک جن کی اللہ تعالی نے زیارت کی توفیق نصیب عطافرمائی ان سب حضرات کے اوران کے بعدکے حضرات کے حالات سے اب اساتذہ بھی ناواقف ہیں،ابھی میںنے دورۂ حدیث کے سبق میںایک دن پوچھ لیاکہ بھائی حضرت مولانارشیداحمدگنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کوجانتے ہوکہ کون تھے؟ توطلبہ نے کہاکہ جی ہاں جانتے ہیںمیںنے کہاکون تھے؟کہنے لگے دارالعلوم دیوبندکے شیخ الحدیث تھے۔طلبہ کاتویہ حال ہے ہی لیکن اساتذہ میںبھی اب صورت حال یہ ہے کہ ان بزرگوںکوصحیح طریقے سے جاننے والے بہت کم ہوتے جارہے ہیںتواس کی تجدیدکی ضرورت ہے۔
اللہ تعالی درجات بلندفرمائے حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے کہ انہوںنے اپنی آپ بیتی میںان سب بزرگوںکے حالات بہت تفصیل کے ساتھ اوربڑے دلچسپ اندازمیںبیان فرمائے ہیں،ان حضرات کی سوانح پڑھیں،ارواح ثلثہ کامطالعہ کریںاوراس طریقے سے ان بزرگوںکے تذکروںسے ان شاء اللہ رفتہ رفتہ یہ دھن اور لگن بھی اللہ تبارک وتعالی کی رحمت سے امیدہے کہ منتقل ہوجائیگی۔
تعلیم کااصل مقصودنہ اپنی فضیلت جتاناہے،نہ اپنے علم کااظہارکرناہے اورنہ اپنے لئے تنخواہ کابندوبست کرناہے،یہ تنخواہ توبقول حضرت تھانوی قدس اللہ سرہ کے اگرنیت صحیح ہوتو نفقہ ہے اورنیت یہ رکھے کہ اللہ تبارک وتعالی کاانعام وکرم ہے کہ اس نے اس کام میںلگادیاورنہمعیشت کے بے شمارشعبے تھے،لیکن اللہ تبارک وتعالی نے اس میںلگادیااوریہ قوم ہمارے پاس بھیج دی۔
تبلیغٖی جماعت سے سیکھنے کاایک سبق
میرے والدماجدقدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے کہ دیکھوتبلیغی جماعت سے سبق حاصل کروکہ کس طریقے سے وہ ایک شہرسے دوسرے شہرمحنتیں اٹھاکرلوگوںکوتبلیغ کرنے کے لئے جاتے ہیں۔اللہ تبارک وتعالی نے تمہارے واسطے یہ کھیپ تمہارے گھرپرپہنچادی، لوگ جاکرمنتیںکرکرکے دوسروں تک بات پہنچاتے ہیں اورتمہارے پاس اللہ تبارک وتعالی نے وہ قوم بھیج دی کہ تمہیںاس کوتبلیغ کرنے کے لئے کہیںدورجانے کی ضرورت نہیںبلکہ وہ تمہارے دروازے پرموجودہے اوراسی سے تمہارا رزق وابستہ کردیااوریہ منہ کھولے بیٹھے ہیںاور تمہارااحسان ماننے کوتیارہیں۔
تو اگریہ جذبہ پیداہوجائے کہ اس قوم کوبناناہے، جواللہ تبارک وتعالی نے ہمیںامانت کے طور پرعطافرمائی ہے اس کے علم ،عمل، تزکیے اوراس کی اصلاح کی فکرکرنی ہے تویہ دھن انشاء اللہ تعالی بہت کچھ طریقے خودبخودسکھادیگی ۔یہ جتنے ماہرین تعلیم ہیںخواہ وہ قدیم ہوںیاجدیدوہ حضرات ہوںجن کامیںنے نام لیایا نئے ماہرین تعلیم ہوںانہوں نے جو قواعد وضع کئے ہیں اس بارے میں ان پر کوئی وحی تو نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ قواعد انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں وضع کئے ہیں ۔ یہ تجربات کیسے ہوئے ؟ محض دھن اور لگن کی وجہ سے ۔جس کویہ دھن لگی جس کے دل میںیہ لگن پیداہوئی کہ میںاس علم کوپہنچائوںاورپھیلائوںاوردوسرے کے سینے میںاتاردوں اس دھن نے ہی وہ اصول سکھائے اس لگن نے ہی ان کووہ طریقے بتائے تواگریہ دھن کسی دوسرے انسان کووہ طریقے بتاسکتی ہے توہمیںبھی بتاسکتی ہے اوروہ دھن اللہ تبارک وتعالی ہم میںپیدافرمادے تواس کے ذریعے یہ طریقے خودبخودسامنے آجاتے ہیںدارالعلوم اورمظاہرالعلوم کے کتنے اساتذۂ کرام کے حالات آپ سنتے رہے ہونگے کہ ہرایک کاطریقہ ٔ تدریس الگ، اسلوب الگ،ایک کاطریقہ طلباء کے ساتھ معاملہ کرنے کا کچھ ہے دوسرے کاکچھ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی دھن اورمقصدکی لگن نے طلبہ کے سینے میںبات اتارنے کے لئے ایک کو ایک طریقہ سمجھایااوردوسرے کودوسرے طریقہ سمجھایاان کووہ طریقہ درست معلوم ہواا ن کویہ طریقہ درست معلوم ہوا،اُس نے اِس کواختیارکیااوراِس نے اُس کواختیارکیا۔
وعظ کہنے کاحق کس کو ہے ؟
توآج کی گفتگومیں سب سے بڑی بات جومیںعرض کرنا چاہتا تھا اور جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کردیاتھا کہ بات محض تکراروتذکیرکی غرض سے عرض کرناچاہتاتھا،پہلامخاطب اس کااپنانفس ہی ہے کہ سب سے مقدم چیزیہ ہے کہ ہم اپنے مقصدِتعلیم کوسمجھیںاورنہ صرف سمجھیںبلکہ اس کومستحضررکھنے کی کوشش کریں اور اس کی لگن اوردھن اپنے دل میںپیداکریں،لگن کیسے پیداہوتی ہے لگن کس چیزکانام ہے؟ لگن درحقیقت اس چیزکانام ہے کہ جب تک وہ چیزجس کی لگن ہے حاصل نہ ہوجائے انسان کوچین نہ آئے۔حضرت حکیم الامت قدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے کہ وعظ کہنے کاحق اس شخص کوپہنچتاہے جس کے لئے وعظ ونصیحت کی لگن اس طرح ہوجائے جس طرح اس کی حوائج ضروریہ، طبعی حاجات کہ جب تک انسان طبعی حاجات پوری نہ کرلے اس وقت تک اُسے چین نہیںآتامثلاًبھوک لگ رہی ہے توجب تک کھانانہیںکھالے گاچین نہیںآئیگا،پیاس لگ رہی ہے جب تک پانی نہیں پی لے گاچین نہیںآئیگا،اسی طرح جب تک وعظ ونصیحت اورتبلیغ ودعوت انسان کے حوائج ضروریہ میںشامل نہ ہوجائیں اس وقت تک اس کاوعظ موثرنہیںہوگا۔آگے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کی مثال حضرت مولاناشاہ اسماعیل شہیدؒہیں کہ ان کے دل میںاللہ تبارک وتعالی نے دعوت وتبلیغ کاجذبہ ایسے پیدافرمادیاتھا جیسے حوائج ضروریہ ، کہ اس کے بغیرچین نہیںآتاتھا۔
جب تک ہمارے دلوں میں یہ بات پیدانہیںہوتی کہ ہم اپنے مقصدکوحاصل کرنے کے لئے اتنے بے تاب ہوں کہ جب تک وہ حاصل نہ ہوچین نہ آئے، چلتے پھرتے خیالات بھی اسی کے ہوں،رات کوآدمی سورہاہوتوخواب کے اندربھی وہی چیزدکھائی دے اوراپنے ذاتی کام کے اندرآدمی لگاہواہے تواس وقت بھی ذہن کے اندریہی سواررہے، جب تک یہ دھن پیدانہیںہوتی اس وقت تک مقصدحاصل نہیںہوتااس وقت تک اسے لگن نہیںکہہ سکتے محض علمی اورنظریاتی طورپراس طرح کی باتیں کرلیناکافی نہیں اوریہ پیدااسی طرح ہوگی کہ ہم بزرگوںکے طریقۂ کارکوپڑھیں اورسوچیںاوراس کوحرزجان بنائیںاس کواپنے وردمیں شامل کریںتوان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ یہ چیزرفتہ رفتہ پیداہوجائے گی۔ چراغ سے چراغ جلتاہے اللہ تبارک وتعالی اسی کے اندربرکت عطافرمائینگے اورجب اس کاکوئی حصہ حاصل ہوگیاان شاء اللہ آپ کواس کے نتائج نظرآئینگے۔
جاری ہے……….

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ – شعبان المعظم 1437 ھ)