بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعویذ لکھنا
(تکملۃ فتح الملہم سے ’’کتابۃ التعویذات‘‘ پر مقالے کا اردو ترجمہ، از شاکر صدیق جکھورا)

باب رقية المريض بالمعوذات والنفث
(2192) حدثني سريج بن يونس، ويحيى بن أيوب، قالا: حدثنا عباد بن عباد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مرض أحد من أهله نفث عليه بالمعوذات، فلما مرض مرضه الذي مات فيه، جعلت أنفث عليه وأمسحه بيد نفسه، لأنها كانت أعظم بركة من يدي» وفي رواية يحيى بن أيوب: بمعوذات
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب آپ کے خاندان میں سے کوئی بیمار ہوتا، تو آپ اُس پر ’’معوذات‘‘ پڑھ کر دم فرماتے، جب آپ ﷺ کو وہ بیماری لاحق ہوئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ پر دم کرنے لگی، اور میں آپ کے اوپر آپ کا ہی ہاتھ پھیرتی، کیونکہ وہ میرے ہاتھ سے زیادہ برکت والا تھا۔ ‘‘ اور یحیی بن ایوب کی روایت میں ہے: ’’کچھ ’’معوذات‘‘ کے ساتھ۔‘‘
(2192) حدثنا يحيى بن يحيى، قال: قرأت على مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرأ على نفسه بالمعوذات، وينفث، فلما اشتد وجعه كنت أقرأ عليه، وأمسح عنه بيده، رجاء بركتها»
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوتے تو اپنے اوپر ’’معوذات‘‘ پڑھ کر دم فرماتے؛ جب آپ ﷺ کی بیماری بڑھی تو میں آپ ﷺ پر پڑھتی، اور آپ پر آپ (ہی) کا ہاتھ اس کی برکت کی امید سے پھیرتی۔‘‘
(2192) وحدثني أبو الطاهر، وحرملة، قالا: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، ح وحدثنا عبد بن حميد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، ح وحدثني محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا روح، ح وحدثنا عقبة بن مكرم، وأحمد بن عثمان النوفلي، قالا: حدثنا أبو عاصم كلاهما، عن ابن جريج، أخبرني زياد كلهم، عن ابن شهاب، بإسناد مالك، نحو حديثه، وليس في حديث أحد منهم: رجاء بركتها، إلا في حديث مالك، وفي حديث يونس، وزياد: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى نفث على نفسه بالمعوذات ومسح عنه بيده
اس حدیث کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔
“قوله: ((نفث عليه بالمعوذات”)):’’نفث‘‘تو امام نووی ؒ کی تشریح کے مطابق بغیر لعاب کے ہلکی پھلکی پھونک (نفخ) ہے ؛ جبکہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ’’نفث‘‘ بغیر لعاب یا ہلکے سے لعاب کے ساتھ دم کرنے (’’تفل‘‘) کو کہتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت معمرؒ کا یہ قول اس حدیث کے بعد نقل کیا: ’’میں نے زہری سے پوچھا: ’’نفث‘‘ کیسے ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا:’’اپنے ہاتھوں پر دم کرے اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لے۔‘‘
اور ’’معوذات‘‘ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو کہتے ہیں۔ جمع کا صیغہ یا تو اس وجہ سے استعمال ہوا کہ جمع کا کم سےکم عدد دو ہے، یا پھر اس وجہ سے کہ مراد دونوں سورتوں کے وہ کلمات ہیں جن سے ’’تعوّذ‘‘کیا جاتا ہے۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ ’’معوذات‘‘ سے یہ دونوں سورتیں بمع سورۃ الإخلاص مراد ہوں، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ کتاب فضائل القرآن ‘‘ میں روایت کیا ہےکہ ’’آنحضرت ﷺ جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہتھیلیوں کو اکھٹا فرماتے اور اُن پر دم فرماتے، پھر اُن پر ’’ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ” اور “قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ” پڑھتے ۔‘‘
اور حدیثِ باب میں ’’رقی‘‘ اور اس کے دم کرنے کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔’’ کتاب الطب‘‘ کے شروع میں بیان کرچکے ہیں کہ اس کے جائز ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ [اس کے کلمات] قابلِ فہم ہوں، اور یہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے مدد طلب کرنا نہ ہو، اور یہ کہ اس کے بارے میں یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ وہ اپنی ذات میں مؤثر ہے، الغرض، جو ان شرائط کو پورا کرے، اس کیلئے رقیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
تعویذ ات لکھنا
رقیہ کے باب میں اصل تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بعض اسماء حسنی وصفات کے ذکر سے کیا جائے، اور مریض پر ان کا دم کیا جائے، یہ تو نبی کریم ﷺ سے متعدد احادیث میں ثابت ہے۔ جہاں تک ’’معوذات‘‘ کو لکھ کر بچوں اور مریضوں کے گلے میں لٹکانے کا تعلق ہے، یا انہیں لکھ کر ان کی روشنائی مریض کو پلانے کی بات ہے، تو یہ متعدد صحابہ اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے۔
ابن ابی شیبہ نے اپنی ’’مصنَّف‘‘ میں عمرو بن شعیب عن أبی عن جدّہ کی سند سے روایت کیا ہے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی سوتے ہوئے گھبراکر (بیدار ہو) تو اسے(یہ کلمات) کہنے چاہئے: ’’بسم الله، أعوذ بكلمات الله التّامّات من غضبه وسوء عقابه ، ومن شرّ عباده، ومن شرّ الشياطين وأن يحضرون.‘‘ چنانچہ حضرت عبد اللہ (یعنی ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما) اپنی بالغ اولاد کو یہ کلمات سکھاتے ، اور جو ابھی نابالغ ہوتے ان کلمات کو لکھ کر ان کے گلے میں لٹکادیتے۔
ابن ابی شیبہ نے ہی حضرت ابو عصمہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ’’میں نے حضرت سعید بن المسیب ؒ سے تعویذ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: اُس میں کوئی حرج نہیں ہے جب وہ چمڑے میں رکھا جائے۔‘‘ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت عطاء ؒ کا یہ قول اُس حائضہ کے بارے میں روایت کیا ہے جس نے تعویذ باندھا ہوا ہو: ’’اگر وہ چمڑے میں رکھا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اتاردے، اور اگر چاندی کے خول میں ہو تو اسے( اختیار ہے)، چاہے تو پہنے رکھے اور چاہے ،تو نہ پہنے؛ ابنی ابی شیبہ ؒ نے مجاہد سے یہ روایت کیا ہے وہ لوگوں کیلئے تعویذ لکھتے تھے اور اُن پرباندھتے، اور ابن ابی شیبہ نے أبو جعفر، محمد بن سیرین، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر اور ضحاک (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) سب سے ایسی روایات نقل کی ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ حضرات تعویذ لکھ کر لٹکانے، یا بازو وغیرہ پر باندھنے کو جائز قرار دیتے تھے ۔
حافظ ابن تیمیہ ؒ اپنے فتاوی میں تحریر فرماتے ہیں:’’مصیبت زدہ شخص، مثلاً مریض وغیرہ کے واسطے اللہ تعالیٰ کی کتاب یا اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حلال روشنائی کے ساتھ کچھ لکھنا جائز ہے، اور پھر اسے دھو کر مصیبت زدہ کو پلایا جائے، جیسا کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر حضرات نے نے اس کی صراحت فرمائی ہے، [پهر حضرت ابن تیمیہ ؒ نےحضرت امام احمد ؒ كے صاحبزاده حضرت عبد الله كے حوالہ سے امام احمد کی سندکے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول نقل کیا:] ’’جب عورت پر ولادت (کا مرحلہ) دشوار ہوتو یہ کلمات لکھے جائیں: ’’بسم الله لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله ربّ العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين. {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا (46) } { كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (35)} (حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: ) میرے والد (امام احمد ؒ) فرماتے ہیں کہ اسود بن عامر نے (بھی) اپنی سند کے ساتھ (حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کا ہم معنیٰ قول نقل کیا ہے، اور (اِس روایت میں حضرت ابن عباسؓ )نے یہ(بھی) فرمایا کہ: ’’کسی صاف برتن پر (یہ کلمات لکھے جائیں) اور (روشنائی دھوکراس کا پانی عورت کو) پلایا جائے۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (امام احمد ؒ) فرماتے ہیں کہ اس روایت میں وکیع نے یہ اضافہ فرمایا کہ : عورت کو پلایا جائے، اور اس کے ناف کے نیچے چھینٹے دئے جائیں۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد (امام احمد ؒ) کو دیکھا کہ وہ عورتوں کیلئے کسی جام یا کسی اور صاف چیز پر لکھتے۔ پھر امام ابن تیمیہ ؒ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ اثر ایک اور طریق سے نقل کیا ، اور اس کے آخر میں کہا: علی (یعنی ابن الحسن جو اس اثر کے راوی کے بھائی ہیں )نے فرمایا: ’’کسی کاغذ میں لکھ کر عورت کے بازو پر باندھا جائے۔ علی فرماتے ہیں: ’’ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے، اور ہم نے اس سے بہتر کچھ نہ پایا۔جب وضع حمل ہوجائے، تو اسے جلدی کھول دے، پھر وہ کسی کپڑے کے ٹکڑے میں رکھ دے یا اُسے جلادے۔‘‘
ان آثار میں ان لوگوں کے خلاف کافی حجت ہے جو ہمارے زمانے میں سمجھتے ہیں کہ تعویذات لکھنا ، اُنہیں پلانا اور انہیں باندھنا شرعاً ممنوع ہے، ان میں سے بعض نے اس حد تک اس معاملے میں غلو کیا ہے کہ اسے شرک قرار دیا ہے، اور دلیل میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہما کی یہ حدیث پیش کی جسے امام ابو داود ؒ نے روایت کیا ہے: کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ :’’بلا شبہ رقیہ، تعویذات اور تولہ (سحر کی ایک قسم) شرک ہیں۔‘‘ لیکن اس حدیث کے باقی حصہ میں وہ بات ہے جو اس استدلال کو رد کرتا ہے ۔ اسی حدیث میں ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی اہلیہ نے کہا کہ آپ ایسے کیوں کہتے ہیں؟ اللہ کی قسم میری آنکھ دکھتی تھی تو میں فلاں یہودی کے پاس جاتی جو مجھ پر دم کرتا ، اور جب وہ دم کرتا تو میری آنکھوں کو سکون ملتا؛ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: وہ تو محض شیطان کا کام تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اسے کچوکا لگاتا اور جب وہ دم کرتا تو (شیطان) اس سے رک جاتا۔ تمہارے لئے بس اتنا کافی تھا کہ تم وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے تھے:’’أذهب البأس ربّ النّاس …الخ))
اس حدیث ہی میں یہ صراحت ہے کہ جس رقیہ کو اس میں منع فرمایا گیا ہے وہ اہلِ شرک کا رقیہ ہے جس میں وہ شیاطین وغیرہ سے مدد مانگتے ہیں۔ اور جس رقیہ میں شرک نہیں وہ تو جائز ہے، اور وہ نبی کریم ﷺ سے بہت سی احادیث میں ثابت ہے؛ اور یہی حال ’’تمائم‘‘ کا ہے، ’’تمیمۃ‘‘ کی جمع ہے، اور تمائم در اصل ڈور میں پرویے ہوئے دانے تھے جنہیں اہل عرب اپنی اولاد کے (گلے میں) لٹکاتے، اور انہیں اپنی ذات میں مؤثر سمجھتے تھے۔ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ ابو داود کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے نیل الأوطار میں فرماتے ہیں:’’ان تینوں کو اس لئے شرک قرار دیا ہے کہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ اپنی ذات میں مؤثر ہیں۔
ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ رد المحتارمیں فرماتے ہیں: ابن الأثیر کے حوالے سے چلپی میں مذکور ہے کہ: ’’تمائم ‘‘ ، ’’تمیمہ‘‘ کی جمع ہے، اور یہ در اصل وہ ڈور ہیں جنہیں اہلِ عرب اپنی اولاد (کے گلوں) میں لٹکاتے ، جن کے ذریعہ سے وہ اپنے زعم میں نظرِ بد سے انہیں بچاتے، پھر اسلام نے انہیں باطل قرار دیا۔۔۔کیونکہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ وہی دواء اور شفاء کی انتہاء ہیں، بلکہ انہوں نے تواسے شرک بنادیا تھا، کیونکہ وہ اس سے ان پر لکھی ہوئی تقدیروں کو دور کرنے کا قصد کرتےتھے، اور اُس اللہ تعالیٰ جو اصل مصیبت کو دور کرنے والا ہے، اُس کے علاوہ سے تکلیف دور کرنے کی درخواست کرتے ۔‘‘
اس سے واضح ہوا کہ ناجائز تعویذات کا ان تعویذات سے کوئی تعلق نہیں ہے جن میں قرآن کریم کی آیات یا کوئی ذکر لکھا ہوا ہو، کیونکہ وہ تو جمہور فقہاءِ امت کے نزدیک جائز ہیں، بلکہ بعض علماء نے اسے مستحب قرار دیا ہے جب وہ مأثور اذکار پر مشتمل ہوں، جیسا کہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے اُن سے ’’نیل الاوطار‘‘میں نقل فرمایا ہے۔ واللہ أعلم۔