حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم

ذکروفکر

ترکی جاگ رہاہے

حمدوستائش اس ذات کے لئے ہے جس نے اس کارخانۂ عالم کو وجود بخشا
اور
درود و سلام اس کے آخری پیغمبرپر جنہوں نے دنیا میں حق کا بول بالا کیا

ترکی کی قدیم اور معروف عمارت “آیا صوفیا”کو الحمدللہ دوبارہ اپنی اصل حیثیت پر بحال کرکے خانۂ خدا یعنی مسجد کے طورپر آباد کردیا گیا ہے ۔اس حوالے سے گذشتہ شمارے میں اداریہ آچکا ہے ۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ترکی کے حالات پر ۲۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۸۸ ھ کو البلاغ کے ان صفحات میں ایک مضمون تحریر فرمایا تھا جو اس وقت کے قارئین کے لئے توچشم کشا تھا ہی ،عالم اسلام اور بطور خاص وطن عزیز پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے آج بھی بصیرت افروز اور سبق آموز ہے کہ ترکی کے کمال اتاترک جیسے ڈکٹیٹر نے خلافت منسوخ کرکے ، ترک قوم کے دل ودماغ سے اسلامی شعور فنا کرنے کے لئے کیا کچھ حربے اختیار نہیں کئے جبکہ پورا عالم کفر بھی اس کی پشت پر تھا ___ ہمارا یہ ملک جو دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ، اسلامی تعلیمات کے مطابق اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تشکیل کے لئے حاصل کیاگیا تھا ،یہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس مقصد سے دور ہوتا جارہا ہے، جس کی راہ میں کمال اتاترک جیسا ڈکٹیٹر نہ سہی، ہر شعبے میں اس ذہنیت کے تجدد پرست رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور لبرل ازم کی یہ ذہنیت وقت کے ساتھ روبترقی ہے ، اسی کی نحوست ہے کہ اتاترک کے ترکی کی طرح یہاں بھی معاشرہ ، معیشت اور ریاست کے مختلف ستونوںکو جھٹکوں کا سامنا ہے__ پھر ہم ترکی کے حالات سے سبق لے کر اپنا قبلہ درست کیوں نہیںکرلیتے؟ ۔(ادارہ)

حال ہی میں امریکہ کے ایک معروف جریدہ “کرسچین سائنس مانیٹر” میں ایک یہودی نامہ نگار سام کوھن (مقیم ترکی) کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا متن پاکستان کے بعض انگریزی اخبارات و رسائل نے بھی نقل کیا ہے ، یہ مضمون چونکہ پورے عالمِ اسلام کو مختلف حیثیتوں سے دعوتِ فکر دیتا ہے ، اس لئے ہم آج کی صحبت میں پہلے اس مضمون کا ترجمہ اور پھر کچھ اپنی گذارشات پیش کریں گے ۔
اس مضمون کا عنوان ہے :

ترکی میں اسلام کا احیاء ، تجدد پسندوں کو خطرہ

اس عنوان کے تحت سام کوھنؔ لکھتا ہے کہ :
“ترکی کے بہت سے باشندے آجکل احیاء اسلام کی روز افرزوں مہم سے پیدا ہونے والے ممکنہ نتائج کے بارے میں بڑی سنجیدگی سے غور وفکر کررہے ہیں ، وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ یہ تحریک کہیں ترکی کو دو کیمپوں میں تقسیم کرکے ملک کے استحکام اور پارلیمانی جمہوریت کے لئے خطرہ نہ بن جائے ۔ تجدد پسند اور آزاد خیال (libral)حلقے یہ محسوس کررہے ہیں کہ جمہوریہ ٔ ترکی کے بانی کمال اتاترک نے چالیس سال پہلے ترکی معاشرے کو جن لادینی بنیادوں پر کھڑا کیاتھا ، آ ج کی یہ اسلامی مہم اُن کے لئے ایک خطرہ ہے ، لیکن سلیمان ڈیمرلؔ کی رجعت پسند حکومت اور ان کی حکمران جماعت (جسٹس پارٹی)کسی خطرے کے وجود ہی سے انکار کررہی ہے۔
جب تک ترکی میں کمال اتاترک کا راج اور ایک جماعتی نظام جاری تھا اس وقت تک اسلامی تعصب (fanaticism)کی اس تحریک کو زبان کھولنے کا کوئی موقعہ نہ مل سکا، لیکن جب ۱۹۵۰ء میں پارلیمانی جمہوریت مکمل طورسے بحال ہوئی تو رجعت پسندی کے رجحانات سطح پر آگئے ۔
اس وقت ملک پر عدنان مندریس کی ڈیموکریٹک پارٹی برسر اقتدار تھی جس نے رجعت پسند دیہاتی اکثریت سے ووٹ اور حمایت حاصل کرنے کے لئے “مذہبی تعصب”کو گوارا کرلیا۔ لیکن ۱۹۶۰ء کے فوجی انقلاب نے عدنان مندریس کی پارٹی کا تختہ الٹ دیا اور ایک سال بعد عدنان مندریس کو پھانسی پر لٹکادیا ۔ اب جو جماعت (جسٹس پارٹی) ترکی میں برسرِ اقتدار ہے اسے عام طور سے (عدنان مندریس کی) ڈیموکریٹک پارٹی کا قدرتی وارث سمجھا جاتا ہے ، اور آج اس پر بھی یہ الزام ہے کہ وہ بھی اسی (عدنان مندریس کی قائم کی ہوئی) راہ پر گامزن ہے ۔
اتاترک کی اصلاحات پر حملے
واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ ترکی میں احیاء اسلام کی وکالت کررہے ہیں ان کے حوصلے موجودہ حکومت کے روادارانہ طرز عمل سے بہت بڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ بہت سی مسجدوں کے امام (مسلمان پادری) اپنی تقریروں میں اتاترک کی اصلاحات پر حملے کرنے لگے ہیں ، بعض لوگوں نے تو کھلّم کھلّا شریعت (اسلامی قوانین)کو دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، اوردوسرے بہت سے لوگوں نے منی اسکرٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عورتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بدن اوراپنے سروں کو “خوب اچھی طرح” ڈھانک کر رکھیں۔
اس ملک میں جابجا اتاترک کے جو مجسمے اور تصویریں نصب ہیں ان کے خلاف بھی آوازیں اٹھنے کی متعدد خبریں ملی ہیں ۔ حالیہ چند مہینوں میں بہت سے رجعت پسند اخبارات اور رسائل کیڑوں مکوڑوں(mashrooms)کی طرح اچانک میدان میں آدھمکے ہیں اور ان میں سے بعض نے علی الاعلان دوبارہ مذہبی حکومت کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ملک میں بہت سی کٹر مذہبی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں ، یہ تنظیمیں ایسے پمفلٹ اور اشتہار تقسیم کرتی ہیں جن میں موجودہ دستور کو بدلنے اور منجملہ اور ترمیمات کے خاص طورسے “خلافت”کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے (خلافت ملک کے روحانی قائد کا وہ عہدہ تھا جسے ۱۹۲۴ ؁ ء میں ختم کیاگیا تھا) ان تنظیموں کے بارے میں عموماًیہ سمجھا جارہا ہے کہ وہ ہمسایہ عرب ملکوں کی اخوان المسلمون جیسی جماعت کی شہ پر قائم ہوئی ہیں۔
بہت سے دیہات میں مسلمان اساتذہ ( جنہیں یہاں “خوجہ”کہتے ہیں) بڑی سرگرمی کے ساتھ حکومت کے لادینی اسکولوں کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ اصل شکل یہ ہے کہ تمام چھوٹے علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ وہ وہاں کی ضروریات کے لئے کافی نہیں ، اور اس طرح ان مذہبی دیوانوں کو اپنے لئے راستہ کھلا مِل گیا ہے ، اور بہت سے بچے انہی “خوجوں” کے قائم کئے ہونے اسکولوں کا رُخ کررہے ہیں ۔
اس مہینے کے شروع کی بات ہے کہ انقرہؔ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات میں ایک لڑکی نے کلاس میں دوپٹہ سر پر اوڑھنے پر شدید اصرار کیا تو اسے کلاس سے نکال دیاگیاتھا ، اس واقعہ پر طلباء نے ہڑتال شروع کردی ، اس کا مطالبہ یہ تھا کہ فیکلٹی “ڈین”مستعفی ہوجائے ، انہوں نے اسے “طلباء کا دشمن ” بھی قرار دیا ۔ یہ واقعہ عرصہ تک بہت سے ترکی اخباروں کا موضوع گفتگو بنارہا ، اور اب جسٹس پارٹی کے بعض ارکان نے لڑکی کی حمایت کرنے کے لئے اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا ہے ۔
سبز جھنڈے لہراتے ہیں
کئی تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو اپنے آپ کو نیشنلسٹ اور “روایت پرست” کہتی ہیں ، انہوں نے کمیونزم اور ملک میں بائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بہانے عوامی مظاہرے بھی شروع کردیئے ہیں، انقرہ اور استنبول میں جو مظاہرے ہوئے ان میں ان لوگوں نے سبز پرچم ہاتھ میں لے کر مارچ کیا (سبز پرچم مسلمانوں کے رنگ کی نمائندگی کرتا ہے) اور یہ نعرے لگائے کہ :

“ترکی میں اسلام ہی سربلند ہوگا”

ان مظاہروں کا رخ کمیونزم سے زیادہ لادینیت اور تجدد پسندی کے خلاف تھا ۔
اس کے علاوہ اس مہینے کے شروع میں بورسہؔ شہر کے اندر دائیں بازو کی مختلف تنظیموں کی طرف سے جو کانفرنس منعقد ہوئی اس نے بھی اتاترکؔ کی اصلاحات اور ۱۹۶۰ء کے انقلاب کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا”۔
(Re produced by “yaqeen”july 7,1968)
مسٹرسام کوھن کے اس مضمون کو ہم نے اس لئے بعینہ نقل کردیا ہے کہ یہ عالم اسلام کے ارباب فکر کے لئے اپنے دامن میں عبرت وموعظت اور فکر ونظر کے بہت سے پہلو رکھتا ہے ، اس سے نہ صرف یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ترک عوام کے اصل جذبات کیا ہیں ؟ بلکہ یہ بات بھی پوری طرح واشگاف ہوجاتی ہے کہ عالمِ اسلام کی وہ کون سی تحریکیں ہیں جن کی پیٹھ مغرب اور پوری دشمنِ اسلام لابی تھپکتی رہتی ہے ۔اور وہ کون لوگ ہیں جو اس کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ ہم ذیل میں اس مضمون کے بارے میں بعض ضروری گذارشات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔
____________________________________
بیسویں صدی کی ابتدا میں پورے عالم اسلام کو مغربی افکار ونظریات کے جس سیلاب کا مقابلہ کرنا پڑا ، اس کے آگے بظاہر سب سے پہلے ہتھیار ڈالدینے والا ملک ترکی تھا ، خلافتِ عثمانیہ اس سیلاب کے مقابلے کے لئے بند کا کام دے رہی تھی ، چنانچہ اسی کو مغرب کی دراز دستیوں کا سب سے پہلے نشانہ بننا پڑا ، اور جب خلافت کے نظام کو تہس نہس کرکے مصطفی کمال پاشا اور اس کی جماعت برسرِ اقتدار آئی تو اس نے پورے جبر واستبداد کے ساتھ ترکوں کے دینی شعور اور اسلامی جذبہ کو کچلنے کی کوشش کی ۔ شرعی اداروں اور محکموں سے اسلامی قانون کو دیس نکالا دے کر سوئٹزر لینڈ سے دیوانی اور اٹلی سے فوجداری قانون در آمد کیا ، دینی تعلیم کو ممنوع کردیا گیا ، پردہ کو خلاف قانون قرار دیدیا، مخلوط تعلیم شروع کردی ، عربی حروف کی جگہ لاطینی رسم الخط جاری کیا، عربی میں اذان کو ممنوع قراردیدیا۔ غرض یہ کہ اپنا سارا زور اس بات پر صرف کردیا کہ ترک عوام سر سے لے کر پاؤں تک مغرب کی “نقل مطابق اصل”بن کر رہ جائیں ۔ انتہا یہ ہے کہ عوام کے سروں سے ترکی ٹوپی اترواکر انہیں ہیٹ پہنانے کے خبط نے نہ جانے کتنے بے گناہوں کو تختۂ دار پر لٹکایا ، اور اس انگریزی ٹوپی کی خاطر نہ جانے کتنے طویل عرصے تک ترکی کے کوچہ و بازار میدان جنگ بنے رہے ۔
کمال اتاترک کا خیال غالباً یہ تھا کہ انگریزی ٹوپی کے ذریعہ ترکوں کے سروں میں انگریزی دماغ بھی منتقل ہوجائے گا اور جس جبرو استبداد کے ساتھ اسلامی شعور کو فناکرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں، ان کے پیشِ نظر اس کا یہ خیال بے بنیاد بھی نہ تھا ، لیکن شاید اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ع

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اسلام کی محبت وعظمت کا جذبہ جو ترکوں کی رگوں میں خونِ حیات بن کر دوڑتا تھا ، کچھ عرصے کے لئے دب تو گیا ، لیکن سرے سے ہٹ نہ سکا، ٹھیک اس وقت بھی جب ترکی میں کمال اتاترک کی آمریت اپنے شباب پرتھی اور بیرونی دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ اب ترکی میں شاید اسلامی شعور کا کوئی نشان باقی نہ رہا ہو ، مظلوم ومقہور ترکی عوام کے اس دینی جذبے کی جھلکیاں اس وقت بھی نظر آتی تھیں، اور حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے والے اس بات سے بے خبر نہ تھے ، ترکی کی معروف خاتون خالدہ ادیب خانم نے (جو خود بھی بڑی حدتک تجدد پسندی کی طرف مائل تھیں) ۱۹۳۵ء کے لگ بھک اپنی کتاب Conflict of cast and rst in turkey میں لکھا تھا کہ :

“فی الحال ترکی میں سطح پر تو یہی نظر آتا ہے کہ مغرب کو وہاں فتح نصیب ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترکوں کی روح میں مشرق اب بھی ایک اندر اندر بہتے ہوئے دھارے کی طرح موجود ہے ۔ “(ص ۲،۳ طبع دوم ۱۹۶۳ء)

“یہ اندر اندر بہتا ہوا دھارا” اب رفتہ رفتہ پھر سطح پر آرہا ہے ، ۱۹۵۰ء میں جو پہلے انتخابات ہوئے ان میں کمال اتاترک اور عصمت انونو کی پارٹی کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اورا س کی جگہ عدنان مندریس کی ڈیموکریٹک پارٹی برسرِ اقتدار آئی جس نے اسلامی سرگرمیوں پر لگی ہوئی پابندیوں کو رفتہ رفتہ اٹھادیا۔ اس کے بعد ایک مختصر عرصے کے لئے عصمت انونو کی ری پبلکن پارٹی پھر زبردستی ملک پر قابض ہوئی ، اور وہ عدنان مندریس کی پیروی کرکے عوام کے دل کی دھڑکنوں کی ترجمانی کررہی ہے ، ترکی کے موجودہ صدر جناب جودت صونائی نے حال ہی میں اپنے عوام کو عید الاضحی کے موقعہ پر پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ :
“حالات کا تقاضا ہے کہ ہم تمام غیر اسلامی نظریات اور باطل تحریکات کے سامنے سینہ سپر ہوجائیں ، صرف دین اسلام دین وحدت ہے ، امت اسلامیہ کا دستور صرف قرآن کریم ہے ، حالات ہمیں مجبور کررہے ہیں کہ ہم سب قرآن کریم کو مضبوطی سے تھام لیں اور ترکی قوم خدا کے فضل سے اسلام کی سچی دعوت کی پوری طرح حفاظت کرنے کی اہل ہے “(ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک صفر ۱۳۸۸ھ بحوالۂ روزمانہ البلاد مکہ مکرمہ شمارہ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۸۷ھ )
حال ہی میں ترکی کے ایک معروف عالم دین دارالعلوم تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ جس ملک میں کبھی کمال اتاترک نے قرآن کریم کو اٹھاکر شیخ الاسلام کے سرپر دے ماراتھا ، آج اسی ملک میں قرآن وسنت کی تعلیم کے لئے ہزاروں کی تعداد میں مدارس قائم ہیں ، یہاں تک کہ نئی نسل کے وہ نوجوان جو کبھی ضیاء گوک الپ کی تحریروں سے متأثر تھے آج وہ بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ “جدت”کے نام پر ان کے ساتھ کتنا بڑا فراڈ کھیلا گیا ہے ۔
____________________________________
ترکی کے یہ بدلتے ہوئے حالات جہاں ہمارے لئے مسرت انگیز اور امید افزا ہیں وہاں ہمیں اپنے طرز عمل کو متعین کرنے کے لئے گہرے غوروفکر کی دعوت بھی دیتے ہیں ۔ ترکی عالمِ اسلام کی وہ پہلی تجربہ گاہ تھی جہاں مغربی افکار کا سب سے پہلا تجربہ کیاگیا، وہاں مغربیت کی تحریک کو نظری میدان میں ضیاء گوک الپ جیسے فکری رہنما بھی میسر آئے ، اور سیاسی میدان میں کمال اتاترک جیسے انتہا پسند ڈکٹیٹر بھی ، اور اس طرح افہام وتفہیم سے لے کر جبر واستبداد تک کوئی طریقہ ایسا نہیں ہے جو مغربی تجدد کی تحریک نے اس ملک میں اختیار نہ کیا ہو ، اور چونکہ یہ ملک ایک طرف تمام عالم اسلام کے لئے نہ صرف سیاسی بلکہ جذباتی حیثیت سے بھی ایک مرکز کی حیثیت رکھتا تھا ۔اور دوسری طرف یورپ سے جغرافیائی اعتبار سے بالکل ملا ہوا تھا، اس لئے اہل مغرب نے یہاں تجدد کی تحریک کو پروان چڑھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، پھر کم وبیش تیس سال تک یہاں اسلامی شعور کو فنا کرنے کا ہر طریقہ آزمایا گیا ، اور بقول پرفیسر ٹائن بی :
“ہٹلر کے ہم عصر مصطفی کمال اتاترک نے ایک زیادہ موزوں طریقہ اختیار کیا ، ترکی ڈکٹیٹر کا مقصد اپنے ہموطنوں کے ذہن کو زبردستی مغربی تمدن کے سانچے میں ڈھالنا تھا ، اور انہوں نے کتابیں سوخت کرنے کے بجائے حروف تہجی کو بدل ڈالنے پر قناعت کرلی ، اب کتابوں کے جلانے کی ضرورت ہی باقاقی نہیں رہی تھی کیونکہ وہ حروف تہجی جو ان کی کنجی کی حیثیت رکھتے تھے وہی منسوخ کردیئے گئے تھے ، اب یہ ذخائر اطمینان کے ساتھ الماریوں میں بند پڑے رہ سکتے تھے ، علاوہ چند سن رسیدہ علماء کے ان کو ہاتھ لگانے والا اب کوئی نہ تھاـ” (مطالعۂ تاریخ ص ۵۱۸،۵۱۹ بحوالۂ مولانا ابوالحسن علی ندوی : اسلامیت و مغربیت ص: ۶۷)
اس طرز عمل کے ذریعہ ترکی میں عرصہ دراز تک اسلام کی اصل تعبیر کو (جسے ہمارے اہل تجدد رجعت پسندی کے نام سے یاد کرتے ہیں) کم از کم میدانِ عمل سے بالکل ہٹادیا گیا تھا ، چنانچہ چند سال پہلے تک وہاں تجدد کی بلاشرکتِ غیرے حکمرانی رہی اور اسے کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے پورے حوصلے نکالنے کا موقع ملا۔
سوال یہ ہے کہ اس طویل عرصے میں تجدد کی بلاشرکت غیرے حکمرانی نے ترکی کو کیا دیا ؟ کیا ترکی کے باشندوں کو پہلے سے زیادہ نہیں ، پہلے جیسا امن و سکون اور سکھ چین نصیب ہوسکا؟ کیااس عرصے میں وہاں کوئی نمایاں سائنسدان پیدا ہوا ، کسی دوسرے علم وفن میں کوئی ایسی شخصیت ابھری جس نے فکر اور فلسفہ کے میدان میں کوئی نئی راہ نکالی ہو؟کوئی ایسا مفکر سامنے آیا جس نے اس تہذیب میں کسی قابل قدر چیز کا اضافہ کیا ہو ؟ کوئی ایسا صاحبِ دل پیدا ہوا جس نے اسے قبرص ہی کے مسئلے سے نجات دلادی ہو ، کوئی ایسا قائد اسے میسر ہوا جس نے اسے اقوامِ عالم کی صف میں کوئی ممتاز جگہ عطا کی ہو؟ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ملک کو جس کا سکہ کبھی کم وبیش ایک تہائی دنیا پر چلا کرتا تھا ، اس کی سابقہ سیاسی عظمت ، بین الاقوامی وقار اورعالم اسلام کی قیادت کے منصب کا کوئی بدل نصیب ہوا؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے ، اور یقینانفی میں ہے ، تو اس صورت حال سے اس کے سوا اور کیا نتیجہ نکلتا ہے کہ زندگی کے بنیادی مسائل میں اسلام ، اور مغرب کے درمیان “مصالحت” کا کوئی امکان نہیں ہے ، جس مصالحت کی تبلیغ تجدد کا مکتب فکر کررہا ہے ، اس نے عالم اسلام کو دہکتے ہوئے زخموں کے سوا کچھ نہیں دیا ، وہ مسلمانوں کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں قطعی طورپر ناکام رہی ہے ، اور “تجدد” کی سب سے پہلی تجربہ گاہ نے اس حقیقت کو خوب اچھی طرح واشگاف کردیا ہے کہ جو قوم اپنا ذاتی تشخص کھوکر اور اپنی خود داری کو پامال کرکے غیروں کی اندھی نقالی کی روش اختیار کرتی ہے وہ کبھی زندگی کی شاہراہ پر خود اعتمادی کے ساتھ قدم نہیں بڑھاسکتی ۔اور حقیقت یہ ہے کہ اس کو ایک مستقل قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندہ رہنے کا بھی حق کیوں رہے جبکہ وہ خود اس حق سے دستبردار ہوچکی ہو۔
اسی حقیقت کا شعور ہے جو آج ترکی کے عوام و حکام کو اپنی زندگی کی لائن تبدیل کرکے حقیقی اسلام کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور کررہا ہے ، ترکی کے یہ اقدامات ہر حقیقت پسند انسان کی طرف سے تحسین و آفرین کے مستحق ہیں ، اور ساتھ ہی ان کے واسطے سے ترک عوام و حکام کی یہ ہمدردانہ آواز ہمیں سنائی دے رہی ہے کہ ع
من نہ کر دم ، شما حذر بکنید
____________________________________
لیکن عالم اسلام کے لئے یہ خبریں کتنی مسرت انگیز کیوں نہ ہو ں ، غیر مسلم اور بالخصوص مغربی دنیا کے تیور اس پر بری طرح بگڑ رہے ہیں اور اسی کی ایک ہلکی سی جھلک مسٹرسام کوہن کے مذکورہ بالا مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے ، اس مضمون کے ذریعہ آپ اسلام کے بارے میں مغرب کے ذہن کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں ،اگر آپ بہ نظر غائر اس مضمون کو پڑھیں گے تو مندرجہ ذیل نتائج پر پہنچے بغیر نہ رہ سکیں گے :
(۱) ایک طرف مضمون نگار اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ملک کی اکثریت احیاء اسلام کی حامی ہے ، اسی لئے عدنان مندریس کی پارٹی نے” اکثریت کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے مذہبی تعصب کو گوارا کیاتھا “اور دوسری طرف وہ “ترکی کو دو کیمپوں میں تقسیم کرنے اور جمہوریت کے لئے خطرہ بننے” کا الزام بھی اسی “اکثریت” کو دیتا ہے ۔۔ یہ اس مغرب کا ذہن ہے جو “جمہوریت” کو جزو ایمان قراردیتا ہے ۔
(۲) پھر وہ ۱۹۶۰ ؁ ء کے انقلاب کے حوالے سے موجودہ حکومت کو عدنان مندریس کا پیرو قراردے کر اس پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتا ہے کہ وہ “احیاء اسلام کی وکالت کرنے والوں” کے ساتھ کیوں رواداری برت رہی ہے ؟۔۔۔ یہ اس مغرب کا اعتراض ہے جس کی زبان “رواداری”اور “عدم مداخلت” کی تبلیغ کرنے سے نہیں سوکھتی۔
(۳) پھر اس مضمون کا بڑا ہی دلچسپ جملہ یہ ہے کہ :
“بعض لوگوں نے کھلم کھلا شریعت کو دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔”
گویا یہ مطالبہ ایک ایسا جرم ہے جس کا کھلم کھلا انجام دینا بنیادی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی ہے ۔۔۔ یہ اس مغرب کا ذہن ہے جسے “آزادی تحریر وتقریر” کی اہمیت کا بڑا احساس ہے ۔
(۴) ایک اور بات جو بہت زیادہ قابل توجہ ہے ، مضمون نگار کا یہ ارشاد ہے کہ :
“انہوں نے کمیونزم اور ملک میں بائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بہانے عوامی مظاہرے بھی شروع کردیئے ہیں ۔۔۔۔ ان لوگوں نے سبز پرچم ہاتھ میں لے کر مارچ کیا۔”
ملاحظہ فرمائیے کہ “کمیونزم” کا یہ حریف اس بات پر کسی مسرت کا اظہار نہیں کرتا کہ ان لوگوں نے کمیونزم کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کیا ، اس کے بجائے اسے پریشانی اس بات سے ہے کہ انہوں نے سبز پرچم کیوں اٹھائے ہوئے تھے ؟اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ سرمایہ داردنیا کو اصل خطرہ کمیونزم سے ہے یا اسلام سے ؟۔۔۔ اس موقع پر ہمیں اقبال مرحوم کی نظم “ابلیس کی مجلس شوریٰ” یاد آرہی ہے جس میں ابلیس نے اپنے چیلوں سے بڑے پتہ کی بات کہی تھی کہ ع
مزدکیت فتنۂ فردا نہیں ، اسلام ہے
(۵) آخر میں اس مضمون کے اندر ہمارے تجدد پسند طبقے کے لئے ایک اور بڑا قابل غور پہلو بھی ہے ، اور وہ یہ کہ اس جیسے مضامین کو دیکھ کر تجدد پسند حضرات کو ایک بار سنجیدگی کے ساتھ یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ یہ امریکی یہودی نامہ نگار اور اس جیسے بہت سے غیر مسلم مغربی باشندے عالم اسلام میں “تجدد” کے اثرات کو پھیلتا دیکھ کر اس قدر خوش کیوں ہوتے ہیں؟اور انہیں “احیاء اسلام ” کی ہر کوشش سے کیوں ڈر لگتا ہے ؟ کیا بعید ہے کہ اگر وہ اسی پہلو سے غور فرمائیں تو انہیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہونے لگے ۔